دل جلا کر بھی دلربا نکلے

دل جلا کر بھی دلربا نکلے
میرے احباب کیا سے کیا نکلے

آپ کی جستجو میں دیوانے
چاند کی رہگزر پہ جا نکلے

سوزِ مستی ہی جب نہیں باقی
سازِ ہستی سے کیا صدا نکلے

دیکھیے کارواں کی خوش بختی
چند رہزن بھی رہنما نکلے

یوں تو پتھر ہزار تھے لیکن
چند گوہر ہی بے بہا نکلے

دل بھی گستاخ ہو چلا تھا بہت
شکر ہے آپ بے وفا نکلے

کس کی دہلیز پہ جھکیں محسنؔ
جتنے انساں تھے سب خدا نکلے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے