دلفریب نعروں کے دن

کوالالمپور میں ایک نہایت اہم سربراہ اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اس سربراہی اجلاس میں دنیا کے کئی مسلم ممالک نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں مسلم اکثریتی ملکوں کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل پر مشاورت کی گئی۔

ان میں اسلامو فوبیا اور غربت سب سے اہم مسئلے تھے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے اس سربراہی اجلاس کی صدارت کی۔ اس میں ایرانی صدر حسن روحانی، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور قطرکے امیر شیخ تمیم بن حماد جیسے اہم اور بااثر مسلم رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کافی ملک اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ تاہم اس میں سعودی عرب، پاکستان اور انڈونیشیا سمیت کئی مسلمان ملکوں کی عدم شرکت نمایاں طور پر محسوس کی گئی۔

عام خیال یہی ہے کہ اس کانفرنس کے ذریعے دراصل اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کی ایک متبادل تنظیم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ او آئی سی 1969ء میں قائم ہوئی تھی اور اس میں 57 اسلامی ملکوں کی نمایندگی موجود ہے۔ کوالالمپور سربراہی اجلاس کا خیال ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے پیش کیا تھا۔

ان کا موقف ہے کہ دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے، ان کو تضحیک اور تحقیرکی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ مزید برآں مسلمان عوام کی عظیم اکثریت تمام وسائل ہونے کے باوجود غرب اور پسماندگی کا شکار ہے اور طاقت ور اقوام مسلمان ملکوں کا بد ترین استحصال کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کا سامنا کرنے اور مسلم دنیا کو بحران و خانہ جنگی کی صورتحال سے باہر نکالنے کے لیے ایک مضبوط اتحاد کی ضرورت ہے اور اسی ضرورت کے پیش نظر ان کی جانب سے پہل کاری کی جا رہی ہے۔

سربراہی کانفرنس کا آغاز زیادہ خوش آیند انداز میں نہیں ہوا۔ اجلاس کے انعقاد سے محض چند روز قبل یہ معلوم ہوا کہ پاکستان کے وزیر اعظم بعض مسائل کی وجہ سے اس میں شرکت نہیں کرسکیں گے اور وزیر خارجہ ملک کی نمایندگی کریں گے، بعد ازاں یہ بتایا گیا کہ وزیر خارجہ بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، چونکہ پاکستان خود اس سربراہی اجلاس کے انعقاد کے محرکین میں شامل تھا، لہٰذا اس کی جانب سے غیرمتوقع طور پر شرکت سے معذوری کے اعلان سے مذکورہ اجلاس کی اہمیت متاثر ہوئی۔ معاملات یہیں تک محدود نہیں رہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے اس بیان نے سفارتی حلقوں میں سنسنی پیدا کردی کہ سعودی دباؤکی وجہ سے پاکستان اس اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بعض مجبوریاں ہیں اور ہمیں ان کا ادراک ہے۔ ان بیانات کے بعد بھی یہ مسئلہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں ایک نازک موڑ اس وقت آگیا جب سعودی عرب کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا اور دونوں دوست ملکوں کے تعلقات ایسے نہیں ہیں جن میں ایک دوسرے کو دھمکیاں دی جائیں۔ اس تنازعے میں اب متحدہ عرب امارات بھی کود پڑا ہے جس کا کہنا ہے کہ اسلامی ملکوں کا کوئی بلاک عرب ملکوں کی شمولیت کے بغیرکامیاب نہیں ہوسکتا۔

دنیا کی کل آبادی کا 25 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے لیکن ایک بھیانک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کی کل مجموعی پیداوار میں مسلم ملکوں کا حصہ صرف 5 فیصد ہے۔ کل عالمی معیشت میں مسلمان ملکوں کو اپنا حصہ بڑھانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ یہ اتنا آسان اور سادہ کام نہیں ہے اورنہ مسلم امہ کے دلفریب نعرے لگا کر یا دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو اپنا دشمن قرار دے کر اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اس سوال پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ کیا مغرب اور امریکا مخالف محاذ بنا کر مسلمان ملک معاشی ترقی کرسکتے ہیں؟

آج کی دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے۔ ایک نظریاتی اور سیاسی محاذ بناکر بہت زیادہ فائدہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس وقت دنیا میں چند ملک بڑی تیزی سے معاشی طاقت کی شکل میں ابھر رہے ہیں۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ امریکا دنیا کی پہلی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے۔ اس درجہ بندی میں ہندوستان چھٹے نمبر پر ہے۔ برازیل، جنوبی افریقہ، ویت نام، کمبوڈیا جیسے ملک بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یورپ خود ایک بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے کوئی بھی اسلامی ملک نہیں ہے۔ ان ملکوں سے معاشی روابط اور دو طرفہ دوستانہ تعلقات رکھنا خود اسلامی ملکوں کے اپنے مفاد میں ہے۔

کوالالمپور سربراہی اجلاس کی افادیت اپنی جگہ لیکن اسے کسی بھی طور پر دنیا کے غیر مسلم ممالک بالخصوص یورپ اور امریکاکے خلاف ایک معاشی اور سیاسی محاذ نہیں بنانا چاہیے۔ بعض باتیں محض نعروں تک بڑی اچھی لگتی ہیں لیکن درحقیقت وہ ناقابل عمل ہوتی ہیں۔ یورپ نے کئی بار یوروکو ڈالر کے مقابلے میں لانا چاہا لیکن ایساممکن نہیں ہوسکا۔

اسی طرح مسلمان ملک اگرکوئی ایک مشترکہ کرنسی بنانے کا تجربہ کریں گے تو وہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ مسلمان ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تجارت اور سرمایہ کاری کریں، بد ترین غربت اور پسماندگی کا شکار مسلم ملکوں کی مدد کے لیے خصوصی ترقیاتی فنڈ مختص کریں اور ان ملکوں کے بے روزگار ہنرمند لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی جامع اور پائیدار منصوبہ بندی کریں۔ دنیا کے تمام اسلامی ملک جن کا عالمی پیداوار میں حصہ محض 5 فیصدہے وہ معاشی اور سیاسی طور پر دنیا کے ان ملکوں پر دباؤ کیسے ڈال سکتے ہیں جن کا عالمی پیداوارمیں 95 فیصد حصہ ہے؟

مسلم ملکوں کو اس وقت چند بڑے انسانی مسائل درپیش ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان میں روہنگیا مہاجروں کا بحران بہت نمایاں ہے۔ ان مسلمان پناہ گزینوں کا تعلق میانمار سے ہے۔ میانمار کی حکومت انھیں دہشت گرد قرار دے کر ظلم وجبر کا نشانہ بناتی ہے۔ سات لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان اپنی جان بچاکر بنگلہ دیش میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش ایک مسلم ملک ہے لیکن مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کا بوجھ برداشت کرنا اس کے لیے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ وہ انھیں اپنے اوپر ایک بوجھ سمجھتا ہے۔ اسی طرح ایک اور انسانی مسئلہ چین کی یغور مسلمان اقلیت کا ہے جنھیں شدید مسائل کا سامنا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 10لاکھ افراد اس وقت زیر حراست ہیں۔ اسلامی ممالک اور او آئی سی اس مسئلے پر خاموش ہے۔ یمن کے مسلمان بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس بد نصیب ملک میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ بے گناہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہاں مسلمان ممالک ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اسلامی ممالک یہاں خانہ جنگی رکوانے کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ ایک اور بہت بڑا انسانی مسئلہ مسلمان ملکوں میں صنفی عدم مساوات ہے جو خود ان ملکوں کا اپنا پیدا کردہ ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق دنیا کے جن 20 ممالک میں عورتوں کے ساتھ بد ترین صنفی عدم مساوات اور امتیاز روا رکھا جاتا ہے ان میں سے 17 مسلم ملک ہیں اور یہ تمام ملک عالمی اسلامی تنظیم (او آئی سی) کے رکن ہیں۔

یہ امر یقیناً دلچسپ ہے کہ مسلم ممالک جن مسائل کا شکار ہیں وہ مسائل خود ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ ان ملکوں کو کسی غیر مسلم ملک نے اس بات سے نہیں روکا کہ وہ اپنے وسائل اپنے ملک کی انسانی و معاشی ترقی پر خرچ نہ کریں۔ مسلمان ملکوں میں اگر فوجی و شخصی آمریتیں اور بادشاہتیں تھیں اور انھوں نے اپنے اقتدارکو بچانے کے لیے امریکا اور سابق سوویت یونین کا سہارا لیا تو اس میں امریکا یا سوویت یونین کی کوئی سازش نہیں تھی۔ مسلمان ملکوں نے غیر پیداواری اور شاہانہ اخراجات میں اپنی دولت لٹائی اور عوام کو غربت اوربیروزگاری سے دوچارکیا تو اس میں دنیا کا کیا قصور ہے اور مغرب کو مورود الزام ٹھہرانا کس طرح درست ہے؟

او آئی سی سرد جنگ کے ایک خاص دورکی پیداوار تھی۔ اب وہ اپنی افادیت کھو چکی ہے۔ کوالالمپور کے اجلاس میں اگر او آئی سی کا متبادل بنانے کا کوئی خیال کار فرما ہے تو وہ بھی قابل عمل نہیں ہوگا۔ مسلمان ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ضرورکرنا چاہیے لیکن کوئی ایسا "محاذ” بنانے سے گریز کرنا چاہیے جو مسلمان ملکوں کو دنیا میں مزید تنہا کر دے۔

About Zahida Hina
Zahida Hina is a noted Urdu columnist, essayist, short story writer, novelist and dramatist from Pakistan.
Zahida was born in the Sasaram town of Bihar, India. After the partition of India, her father, Muhammad Abul Khair, emigrated to Pakistan and settled in Karachi, where Zahida was brought up and educated. She wrote her first story when she was nine years old. She graduated from University of Karachi, and her first essay was published in the monthly Insha in 1962. She chose journalism as a career in mid 60s. In 1970, she married the well-known poet Jon Elia. Zahida Hina was associated with the daily Jang from 1988 until 2005, when she moved to the Daily Express, Pakistan. She now lives in Karachi. Hina has also worked for Radio Pakistan, BBC Urdu and Voice of America.
Since 2006, she has written a weekly column, Pakistan Diary in Rasrang, the Sunday magazine of India’s largest read Hindi newspaper, Dainik Bhaskar.
اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے