دل دار کے لیے ایک نظم

کیوں نہیں ہنستے ہو!
اتنے سارے روتے ہوئے لوگوں کے بیچ
کیوں اب چپ کا کورا لٹھا تان کے لیٹے ہو
کیوں نہیں ہنستے ہو
اتنی بڑی بڑی آنکھوں میں
کتنا درد چھپا لو گے
کتنے خواب بجھا لو گے
کتنے راز حیاتی والے خاک میں یار ملا لو گے
کتنے ہجر سنبھالو گے
کتنے لوگ رُلا لو گے
کتنی دیر تلک دل دارا موت کا ڈھونگ رچا لو گے
آنکھیں کھولو
بولو۔ ۔ ۔ بولو۔ ۔ ۔ ایک دفعہ کلکاری مار کے ہنس دینے کا کیا لو گے
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے