دل بصیرت، راز ہے

دل بصیرت، راز ہے
یہ حقیقت راز ہے
وہ ضروری تھا مگر
رب کی حکمت راز ہے
قیمتی پتھر ہے وہ
اُس کی قیمت راز ہے
جل رہا ہے دل مگر
اس کی حدّت راز ہے
رائیگانی کا نہ پوچھ
یہ اذیت راز ہے
بد دعا سے ڈرنا تم
اس کی شدّت راز ہے
وعدہ پہنچے گا مگر
کب، یہ مہلت راز ہے
دائروں میں ہے سفر
اور مدّت راز ہے
دل نے تنہائی چُنی
کیوں، یہ نسبت راز ہے
ہجر کا سایہ ہے ساتھ
اور قُربت راز ہے
موت جیسا ہے سکوت
میری حیرت راز ہے
کچھ تو غور و فکر ہو
ہر فضیلت راز ہے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے