دھوپ میں پل پل مرتا سچ

دھوپ میں پل پل مرتا سچ

زندگی کھو گئی
الجھنوں کے گھنے جنگلوں میں گھری
زندگی رو پڑی
ٹیڑھے میڑھے سے رستوں پہ چلتے ہوئے
جانےکس کو خبر منزلوں کی ہوئی
راستے _____ منزلیں
منزلیں کھو گئی
ہاں ملی تھی مجھے!
چاندنی رات پیپل کے سائے تلے
کچھ پریشان تھی
زندگی،کیوں مجھی سے پشیمان تھی
وقت جنما تو تارے اکٹھے ہوئے
کہکشاں بن گئے
چکنی مٹی کو نوری نے سجدہ کیا
ہم خدا بن گئے
پھر نجانے یہ کب کیسے کیا ہو گیا
لوحِ تقدیر پر
کس نے میرے صفحے پہ سیاہی ملی
سب سیاہ ہو گیا
پھر اسی دن سے میں اور مری زندگی
ایک دوجے کو ملنے کی خواہش میں ہیں
آزمائش میں ہیں

عادل وِرد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے