دھوپ گر نہ صحرا کے، راز کہہ گئی ہوتی

دھوپ گر نہ صحرا کے، راز کہہ گئی ہوتی
میں تو بہتے دریا کی ساتھ بہہ گئی ہوتی
اس طرح نہ پانی کے پاؤں تیز تیز اٹھتے
غرق ہونے کی افواہ تہہ میں رہ گئی ہوتی
چاند ٹوٹ جائے گا ،کانچ کے سمندر میں
کاش میں بھی پونم کی شب میں گہہ گئی ہوتی
دل سے کھیلنے والا، کیوں پڑوس سے جاتا
چار دِن سلوک اس کا،اور سہہ گئی ہوتی
کوئی چہرہ نیناں میں روشنی جلا دیتا
بات یہ ہماری تا مہر و مہ گئی ہوتی
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے