دُھول سے پھول برابر ہوا میں

دُھول سے پھول برابر ہوا میں
اُس کے قدموں پہ نچھاور ہوا میں
میں مجاور ہوں اُسی ہستی کا
جس کے چُھونے سے قلندر ہوا میں
کئی صحرا مجھے پینے آئے
قطرہ قطرہ جو سمندر ہوا میں
پس طبیعت میں نہیں ٹھہراءو
گھر کے ہوتے ہوئے بے گھر ہوا میں
یاد رکھنا مجھے اُتنا مشکل
جتنی آسانی سے ازبر ہوا میں
چُھپ گئے عیب مرے بھی سارے
تیرے دربار کی چادر ہوا میں
شاذ ٹھوکر بھی ہے اعزاز مرا
اس کے رستے کا جو پتھر ہوا میں
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے