دیکھتا ہوں پھول اور کانٹے بہ ہر سو آج بھی

دیکھتا ہوں پھول اور کانٹے بہ ہر سو آج بھی
یاد کرتا ہوں تری خوشبو تری خو آج بھی
جانے کیوں جلتی سلگتی شام کے ایوان میں
پھیل جاتی ہے تری باتوں کی خوشبو آج بھی
زیست کے خستہ شکستہ گنبدوں میں گاہ گاہ
گونجتا ہے تیری آوازوں کا جادو آج بھی
زلف کب کی آتش ایام سے کمھلا گئی
زلف کا سایہ نہیں ڈھلتا سر مو آج بھی
تو نے پانے ہاتھ میں جس پر لکھا تھا میرا نام
وہ صنوبر لہلہاتا ہے لب جو آج بھی
وہ ترا پل بھر کو ملنا پھر بچھڑنے کے لئے
دل کی مٹھی میں ہے اس لمحے کا جگنو آج بھی
مدتیں گزریں مگر اے دوست تیرے نام پر
ڈول جاتی ہے مرے دل کی ترازو آج بھی
خورشید رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے