دیکھنے میں تو میں ایک ہوں

دیکھنے میں تو میں ایک ہوں اور پھر تم پہ لشکر کھلے
یہ دعا ہی بہت ہے کسی پر نہ معنیِ قیصر کھلے

اس کی عادت بدلنے لگی اور پھر اس نے چپ سادھ لی
جب کلائی نہیں مل سکی زخم سینے کے اندر کھلے

کب سے ہم بند ہیں چار دیواروں میں بس ہوئی جاتی ہے
اب تو دل چاہتا ہے کہ گھومیں پھریں اور دفتر کھلے

اس کو بانہوں میں بھر کر ہم اپنی خطا کا ازالہ کریں
دل میں ڈر تک نہ ہو جب ہمارے لیے ماں کی چادر کھلے

بے اثر ہوگی ہر طرح کی آزمائش بتا دیتے ہیں
اس پرستان میں بھی اگر ہم پہ وہ جادو پیکر کھلے

دھیان کرنا کہ مدت سے خود میں سمائے ہوئے ہے گھٹن
ڈوبنا مت اگر تم پہ چھونے سے کھارا سمندر کھلے

کون کہتا ہے تجدید ہو کر دکھاؤ انہیں آگ تم
چاہتا کون ہے بے ضمیروں پہ سادھو کا منتر کھلے

تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے