ڈھارس

ڈھارس

آج سے ٹھیک آٹھ برس پہلے کی بات ہے۔ ہندو سبھا کالج کے سامنے جو خوبصورت شادی گھر ہے اس میں ہمارے دوست بشیشر ناتھ کی برات ٹھہری ہوئی تھی۔ تقریباً تین ساڑھے تین سو کے قریب مہمان تھے جو امرتسر اور لاہور کی نامور طوائفوں کا مجرا سُننے کے بعد اس وسیع عمارت کے مختلف کمروں میں فرش پر یا چارپائیوں پر گہری نیند سو رہے تھے۔ چار بج چکے تھے۔ میری آنکھوں میں بشیشر ناتھ کے ساتھ ایک علیحدہ کمرے میں خاص خاص دوستوں کی موجودگی میں پی ہوئی وسکی کا خمار ابھی تک باقی تھا۔ جب ہال کے گول کلاک نے چار بجائے تو میری آنکھ کھلی۔ شاید کوئی خواب دیکھ رہا تھا کیوں کہ پلکوں میں کچھ چیز پھنسی پھنسی معلوم ہوتی تھی۔ ایک آنکھ بند کرکے، اس خیال سے کہ دوسری آنکھ ابھی کچھ دیر سوتی رہے، میں نے ہال کے فرش پر نظر دوڑائی۔ سب سو رہے تھے۔ کچھ اوندھے، کچھ سیدھے اور کچھ چاقو سے بنے ہوئے۔ میں نے اب دوسری آنکھ کھولی اور دیکھا۔ رات کو پینے کے بعد جب ہم ہال میں آکر لیٹے تھے تو اصغر علی نے ضد کی تھی کہ وہ گاؤ تکیہ لے کر سوئے گا۔ گاؤ تکیہ مرے سر سے کچھ فاصلے پر پڑا تھا مگر اصغر موجود نہیں تھا۔ میں نے سوچا، حسبِ معمول رات بھر جاگتا رہا ہے اور اس وقت یہاں سے بہت دور رام باغ میں کسی معمولی ٹکھیائی کے میلے بستر پر سو رہا ہے۔ اصغر علی کے لیے شراب دیسی ہو یا انگریزی، ایک تیز گاڑی تھی جو اسے فوراً عورت کی طرف کھینچ کر لے جاتی تھی۔ شراب پینے کے بعد یوں تو ننانوے فی صد مردوں کو خوبصورت چیزیں اپنی طرف کھینچتی ہیں، لیکن اصغر جو نہایت اچھا فوٹو گرافر اور پینٹر تھا۔ جو رنگوں اور لکیروں کا صحیح امتزاج جانتا تھا، شراب پینے کے بعد ہمیشہ نہایت ہی بھونڈی تصویر پیش کیا کرتا تھا۔ میری پلکوں میں پھنسے ہُوئے خواب کے ٹکڑے نکل گئے اور میں نے اصغر علی کے متعلق سوچنا شروع کردیا جو خواب نہیں تھا۔ اس کے لمبے بالوں والے وزنی سر کا دباؤ گاؤ تکیے پر مجھے صاف نظر آرہا تھا۔ کئی بار غور کرنے کے باوجود میں سمجھ نہ سکا تھا کہ شراب پی کر اصغر کا دل اور دماغ شل کیوں ہو جاتا ہے۔ شل تو نہیں کہنا چاہیے کیونکہ وہ خوفناک طور پر بیدار ہو جاتا تھا اور اندھیری سے اندھیری گلیوں میں بھی راستہ تلاش کرتا، وہ لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے کسی نہ کسی جسم بیچنے والی عورت کے پاس پہنچ جاتا۔ اس کے غلیظ بستر سے اٹھ کر جب وہ صبح نہا دھو کر اپنے اسٹوڈیو پہنچتا اور صاف ستھری، تندرست جوان اور خوب صورت لڑکیوں اور عورتوں کی تصویر اُتارتا تو اس کی آنکھوں میں حیوانیت کی ہلکی سی جھلک بھی نہ ہوتی جو شرابی حالت میں ہر دیکھنے والے کو نظر آسکتی تھی۔ یقین مانیے شراب پی کر وہ سخت بے چین ہو جاتا تھا۔ اس کے دماغ سے خود احتسابی کچھ عرصے کے لیے بالکل مفقود ہو جاتی تھی۔ آدمی کتنا پی سکتا تھا! چھ، سات، آٹھ پیگ۔ مگر اس بظاہر بے ضرر سیال مادے کے چھ یا سات گھونٹ اسے شہوت کے اتھاہ سمندر میں دھکیل دیتے تھے۔ آپ وسکی میں سوڈا یا پانی ملا سکتے ہیں، لیکن عورت کو اس میں حل کرنا کم از کم میری سمجھ میں نہیں آتا۔ شراب پی جاتی ہے۔ غم غلط کرنے کے لیے۔ عورت کوئی غم تو نہیں۔ شراب پی جاتی ہے۔ شور مچانے کے لیے۔ عورت کوئی شور تو نہیں۔ رات اصغر نے شراب پی کر بہت شور مچایا۔ شادی بیاہ پر چونکہ ویسے ہی کافی ہنگامہ ہوتا ہے اس لیے یہ شور دب گیا ورنہ مصیبت برپا ہوتی۔ ایک دفعہ وسکی سے بھرا ہوا گلاس اٹھا کر یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا:

’’میں بہت اونچا آدمی ہوں۔ اونچی جگہ بیٹھ کر پیوں گا۔ ‘‘

میرا خیال تھا کہ رام باغ میں کسی اونچے کوٹھے کی تلاش میں چلا گیا ہے، لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد جب دروازہ کھلا تو وہ ایک لکڑی کی سیڑھی لیے اندر داخل ہوا اور اسے دیوار کے ساتھ لگا کر سب سے اوپر والے ڈنڈے پر بیٹھ گیا اور چھت کے ساتھ سر لگا کر پینے لگا۔ بڑی مشکلوں کے بعد میں نے اور بشیشر نے اسے نیچے اتارا اور سمجھایا کہ ایسی حرکتیں صرف اس وقت اچھی لگتی ہیں جب کوئی اور موجود نہ ہو، شادی گھر مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہے، اسے خاموش رہنا چاہیے۔ معلوم نہیں کیسے یہ بات اس کے دماغ میں بیٹھ گئی کیونکہ جب تک پارٹی جاری رہی، وہ ایک کونے میں چپ چاپ بیٹھا اپنے حصے کی وسکی پیتا رہا۔ یہ سوچتے سوچتے میں اُٹھا اور باہر بالکنی میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ سامنے ہندو سبھا کالج کی لال لال اینٹوں والی عمارت صبح کے خاموش اندھیارے میں لپٹی ہوئی تھی۔ آسمان کی طرف دیکھا تو کئی تارے مٹیالے آسمان پر کانپتے ہوئے نظر آئے۔ مارچ کے آخری دنوں کی خُنک ہوا دھیرے دھیرے چل رہی تھی۔ میں نے سوچا چلو اوپر چلیں۔ کھلی جگہ ہے، کچھ دیر مر مر کے بنے ہوئے شہ نشین پر لیٹیں گے۔ سردی محسوس ہونے پر بدن میں جو تیز تیز جھرجھریاں پیدا ہوں گی، ان کا مزا آئے گا۔ لمبا برآمدہ طے کرکے جب میں سیڑھیوں کے پاس پہنچا تو اوپر سے کسی کے اترنے کی آواز آئی۔ چند لمحات کے بعد اصغر نمودار ہوا اور مجھ سے کلام کیے بغیر پاس سے گزر گیا اندھیرا تھا میں نے سوچا شاید اس نے مجھے دیکھا نہیں چنانچہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر میں نے چڑھنا شروع کیا۔ میری عادت ہے، جب کبھی میں سیڑھیاں چڑھتا ہوں تو اس کے زینے ضرور گنتا ہوں۔ میں نے دل میں چوبیس کہا اور دفعتہً مجھے آخری زینے پر ایک عورت کھڑی نظر آئی۔ میں بوکھلا گیاکیونکہ قریب قریب ہم دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا گئے تھے۔

’’معاف کر دیجیے گا۔ اوہ، آپ!‘‘

عورت شاردا تھی۔ ہماری ہمسائی ہرنام کور کی بڑی لڑکی جو شادی کے ایک برس بعد ہی بیوہ ہو گئی تھی۔ پیشتر اس کے میں اس سے کچھ اور کہوں، اس نے مجھ سے بڑی تیزی سے پوچھا۔

’’یہ کون تھا جو ابھی نیچے گیا ہے؟‘‘

’’کون!‘‘

’’وہی آدمی جو ابھی نیچے اُتر کے گیا ہے۔ کیا آپ اسے جانتے ہیں۔ ‘‘

’’جانتا ہوں۔ ‘‘

’’کون ہے؟‘‘

’’اصغر۔ ‘‘

’’اصغر!‘‘

اس نے یہ نام اپنے دانتوں کے اندر جیسے کاٹ دیا اور مجھے، جو کچھ بھی ہُوا تھا اس کا علم ہو گیا۔

’’کیا اس نے کوئی بدتمیزی کی ہے۔ ‘‘

’’بدتمیزی!‘‘

شاردا کا دوہرا جسم غصے سے کانپ اٹھا۔

’’لیکن میں کہتی ہوں اس نے مجھے سمجھا کیا۔ ‘‘

یہ کہتے ہُوئے اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’اس نے۔ اس نے۔ ‘‘

اس کی آواز حلق میں پھنس گئی اور دونوں ہاتھوں سے منہ ڈھانپ کر اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔ میں عجیب الجھن میں پھنس گیا۔ سوچنے لگا اگر رونے کی آواز سن کر کوئی اوپر آگیا تو ایک ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔ شاردا کے چار بھائی ہیں اور چاروں کے چاروں شادی گھر میں موجود ہیں۔ ان میں سے دو تو ہر وقت دوسروں سے لڑائی کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اصغر علی کی اب خیر نہیں۔ میں نے اس کو سمجھانا شروع کیا:

’’دیکھیے آپ روئیے نہیں۔ کوئی سُن لے گا۔ ‘‘

ایک دم دونوں ہاتھ اپنے منہ سے ہٹا کر اس نے تیز آواز کہا۔

’’سُن لے۔ میں سُنانا ہی تو چاہتی ہوں۔ مجھے آخر اس نے سمجھا کیا تھا۔ بازاری عورت۔ میں۔ میں۔ ‘‘

آواز پھر اس کے حلق میں اٹک گئی۔

’’میرا خیال ہے اس معاملے کو یہیں دبا دینا چاہیے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بدنامی ہو گی۔ ‘‘

’’کس کی۔ میری یا اس کی؟‘‘

’’بدنامی تو اس کی ہو گی لیکن کیچڑ میں ہاتھ ڈالنے کا فائدہ ہی کیا ہے!‘‘

یہ کہہ میں نے اپنا رومال نکال کر اسے دیا۔

’’لیجیے آنسو پونچھ لیجیے۔ ‘‘

رومال فرش پر پٹک کروہ شہ نشین پر بیٹھ گئی۔ میں نے رومال اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔

’’شاردا دیوی! اصغر میرا دوست ہے۔ اس سے جو غلطی ہوئی، میں اس کی معافی چاہتا ہوں۔

’’آپ کیوں معافی مانگتے ہیں؟‘‘

’’اس لیے کہ میں یہ معاملہ رفع دفع کرنا چاہتا ہوں۔ ویسے آپ کہیں تو میں اسے یہاں لے آتا ہوں۔ وہ آپ کے سامنے ناک سے لکیریں بھی کھینچ دے گا۔ ‘‘

نفرت سے اس نے اپنا منہ پھیر لیا۔

’’نہیں۔ اس کو میرے سامنے مت لائیے گا۔ اس نے میرا اپمان کیا ہے۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے پھر اس کا گلا رندھ گیا، اور شہ نشین کی مرمریں سل پر کہنیوں کے بل دوہری ہو کر اس نے مجروح جذبات کے اٹھتے ہوئے فوارے کو دبانے کی ناکام کوشش کی۔ میں بوکھلا گیا۔ ایک جوان اور تندرست عورت میرے سامنے رو رہی تھی اور میں اسے چپ نہیں کراسکتا تھا۔ ایک دفعہ اسی اصغر کی موٹر چلاتے چلاتے میں نے ایک کتے کو بچانے کے لیے ہارن بجایا۔ شامت اعمال ایسا ہاتھ پڑا کہ ہارن بس وہیں، آواز۔ ایک نہ ختم ہونے والا شور بن کے رہ گئی۔ ہزار کوشش کررہا ہوں کہ ہارن بند ہو جائے مگر وہ پڑا چلا رہا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں اور میں مجسم بے چارگی بنا بیٹھا ہوں۔ خدا کا شکر ہے کوٹھے پرمیرے اور شاردرا کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ لیکن میری بے چارگی کچھ اس ہارن والے معاملے سے سوا تھی۔ میرے سامنے ایک عورت رو رہی تھی جس کو بہت دکھ پہنچا تھا۔ کوئی اور عورت ہوتی تو میں تھوڑی دیر اپنا فرض ادا کرنے کے بعد چلا جاتا، مگر شاردا ہمسائی کی لڑکی تھی اور میں اسے بچپن سے جانتا تھا۔ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ اپنی تین چھوٹی بہنوں کے مقابلے میں کم خوبصورت لیکن بہت ذہین۔ کروشیے اور سلائی کے کام میں چابک دست اور کم گو۔ جب پچھلے برس شادی کے عین ساڑھے گیارہ مہینوں بعد اس کا خاوند ریل کے حادثے میں مر گیا تھا تو ہم سب گھر والوں کو بہت افسوس ہوا تھا۔ خاوند کی موت کا صدمہ کچھ اور ہے، مگر یہ صدمہ جو شاردا کو میرے ایک واہیات دوست نے پہنچایا تھا، ظاہر ہے کہ اس کی نوعیت بالکل مختلف اور بہت اذّیت دہ تھی۔ میں نے اس کو چپ کرانے کی ایک بار اور کوشش کی۔ شہ نشین پراس کے پاس بیٹھ کر میں نے اس سے کہا:

’’شاردا یوں روئے جانا ٹھیک نہیں۔ جاؤ! نیچے چلی جاؤ اور جو کچھ ہُوا ہے، اس کو بھول جاؤ۔ وہ کم بخت شراب پیے ہوا تھا۔ ورنہ یقین جانو اتنا برا آدمی نہیں۔ شراب پی کر جانے کیا ہو جاتا ہے اسے۔ ‘‘

شاردا کا رونا بند نہ ہُوا۔ مجھے معلوم تھا اصغر نے کیا کیا ہو گا، کیونکہ عام مردوں کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے، جسمانی۔ لیکن پھربھی میں خود شاردا کے منہ سے سننا چاہتا تھا کہ اصغر نے کس طور پر یہ بے ہودگی کی۔ چنانچہ میں نے اسی ہمدردانہ لہجے میں اس سے کہا۔

’’معلوم نہیں اس نے تم سے کیا بدتمیزی کی ہے، لیکن کچھ نہ کچھ میں سمجھ سکتا ہوں۔ تم اوپر کیا کرنے آئی تھیں۔ ‘‘

شاردا نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔

’’میں نیچے کمرے میں سو رہی تھی، دو عورتوں نے میرے متعلق باتیں شروع کردیں۔ ‘‘

آواز ایک دم اس کے گلے میں رندھ گئی۔ میں نے پوچھا۔

’’کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘

شاردا نے اپنا منہ مرمریں سل پر رکھ دیا اور بہت زور سے رونے لگی۔ میں نے اس کے چوڑے کاندھوں پر ہولے ہولے تھپکی دی۔

’’چپ کر جاؤ شاردا۔ چپ کر جاؤ۔ ‘‘

روتے روتے، ہچکیوں کے درمیان اس نے کہا۔

’’وہ کہتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں۔ اس ودوا کو یہاں کیوں بُلایا گیا ہے۔ ‘‘

ودوا کہتے ہوئے شاردا نے اپنے آنسوؤں بھرے دوپٹے کا ایک کونہ منہ میں چبا لیا۔

’’یہ سن کر میں رونے لگی اور اوپر چلی آئی۔ اور۔ ‘‘

یہ سُن کر مجھے بھی شدید دکھ ہوا۔ عورتیں کتنی ظالم ہوتی ہیں۔ خاص طور پر بوڑھی۔ زخم تازہ ہوں، یا پرانے کیا مزے لے لے کرکریدتی ہیں۔ میں نے شاردا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور پُر خلوص ہمدردی سے دبایا۔

’’ایسی باتوں کی بالکل پروا نہیں کرنی چاہیے۔ ‘‘

وہ بچے کی طرح بلکنے لگی۔

’’میں نے اوپر آکر یہی سوچا تھا اور سو گئی تھی۔ کہ آپ کا دوست آیا اور اس نے میرا دوپٹہ کھینچا۔ اور میرے کُرتے کے بٹن کھول کر۔ ‘‘

اس کے کُرتے کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔

’’جانے دو شاردا۔ بھول جاؤ جو کچھ ہوا۔ ‘‘

میں نے جیب سے رومال نکالا اور اس کے آنسو پونچھنے شروع کیے۔ دوپٹے کا کونہ ابھی تک اس کے منہ تھا، بلکہ اس نے کچھ اور زیادہ اندر چبا لیا تھا۔ میں نے کھینچ کر باہر نکال لیا۔ اس گیلے حصے کو اس نے اپنی انگلیوں پر لپیٹتے ہوئے بڑے دکھ سے کہا:

’’آپ کے دوست ودوا سمجھ کر ہی مجھ پر ہاتھ ڈالا ہو گا۔ سوچا ہو گا اس عورت کا کون ہے۔ ‘‘

’’نہیں نہیں شاردا، نہیں۔

’’میں نے اس کا سر اپنے کندھے کے ساتھ لگا لیا‘‘

’’جو کچھ اس نے سوچا، جو کچھ اس نے کیا لعنت بھیجو اس پر۔ چپ ہو جاؤ۔ ‘‘

جی چاہا لوری دے کر اس کو سلادوں۔ میں نے اس کی آنکھیں خشک کی تھیں لیکن آنسو پھر اُبل آئے تھے۔ دوپٹے کا کونہ جو اس نے پھر منہ میں چبا لیا تھا، میں نے نکال کر انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھے اور دونوں آنکھوں کو ہولے ہولے چوم لیا۔

’’بس اب نہیں رونا۔ ‘‘

شاردا نے اپنا سر میرے سینے کے ساتھ لگا دیا۔ میں نے دھیرے دھیرے اس کے گال تھپکائے:

’’بس، بس، بس!‘‘

تھوڑی دیر کے بعد جب میں نیچے اترا تو مارچ کے آخری دنوں کی خنک ہوا میں، شہ نشین کی مرمریں سل پر، اصغر کی بے ہودگی کو بھول کر شاردا اپنا ململ کا دوپٹہ تانے خود کو بالکل ہلکی محسوس کررہی تھی۔ اس کے سینے میں تلاطم کے بجائے اب شیر گرم سکون تھا۔

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے