دھاگا بولتا ہے

دھاگا بولتا ہے
بہت تو نے گزارا ہے مجھے
اے زندگی !
سوئی کے ناکے سے
مگر اب میں
تجھے کون و مکاں کے پارچے کے نرم ریشوں سے گزاروں گا۔
مجھے تو نے
مسلسل کھینچ کر ہر رنگ کا دھاگا بنایا تھا
مگر میں پھر بھی زندہ ہوں۔
تجھے یہ علم ہونا چاہیے اے زندگی !
وہ مصر کے بازار میں جو سوت کی اٹی پڑی ہے
سانس لیتی ہے۔
میں تیری چشم سوزن میں کسی رنگین کاجل کی طرح پھرتا رہوں گا۔
میں بازار ہنر منداں میں تیرا تھان کھولوں گا
میں ہر امکان کھولوں گا۔
میں اپنا کام کاڑھوں گا
میں تیرے ریشمی سینے پہ اپنا نام کاڑھوں گا۔
کچھ ایسے نقش ابھریں گے
کہ تیرا پارچہ بولے گا ‘میرا سانس اکھڑتا ہے’
میں تجھ میں ایسے اتروں گا
کہ جیسے آتشیں مے کے تپے تیزاب میں
جلتے ہوئے زہراب میں
پانی اترتا ہے۔
میں تیرا قرض اتاروں گا
بہت تو نے گزارا ہے مجھے اے زندگی !!
لیکن
تجھے اب میں گزاروں گا۔

وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے