دیر تک چند مختصر باتیں

دیر تک چند مختصر باتیں
اس سے کیں میں نے آنکھ بھر باتیں
تو مرے پاس جب نہیں ہوتا
تجھ سے کرتا ہوں کس قدر باتیں
کیسی بیچارگی سے کرتے ہیں
بے اثر لوگ با اثر باتیں
دیکھ بچوں سے گفتگو کر کے
کیسی ہوتیں ہیں بے ضرر باتیں
سن کبھی بے خودی میں کرتے ہیں
بے خبر لوگ با خبر باتیں
اس کی عادت ہے بات کرنے کی
وہ کرے گا ادھر ادھر باتیں
انتہائی حسین لگتی ہے
جب وہ کرتی ہے روٹھ کر باتیں
آ مجھے سن کہ ہو تجھے معلوم
کیسی ہوتی ہیں خوب تر باتیں
سہل کٹ جائے یہ طویل سفر
اور کر میرے ہم سفر باتیں
کوئی سنتا نہ ہو کہیں عاصمؔ
یوں نہ کر اس سے فون پر باتیں
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے