ڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب

ڈپٹی نذیر احمد
(وبا کے دنوں کا ادب)
کرونا کی عالم گیر وبا کا آسیب کیا منڈلایا کہ وبا کے دنوں میں لکھے گئے ادب کا مطالعہ بھی چھوت کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ جسے دیکھو گیبریئل گارشیا مارکیز اور دیگر ادیبوں کو پڑھ رہا ہے۔ میں نے اس موضوع پر قند مکررdeputy nazir ahmed کے طور پر اپنی پسند کی کتابیں پڑھیں۔ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی (1830-1912) کا ناول توبہ انصوح ان میں شامل تھا۔ میرے خیال میں ڈپٹی صاحب کے چھ ناولوں میں یہ سب سے شاندار ناول ہے کہ اس میں انیسویں صدی کی رسیلی اردو کا چٹخارا ہے۔ ذیل کے چند اقتباسات دیکھیے اور بیان کا ذائقہ چکھئے:
"ایک برس دہلی میں ہیضے کی بڑی سخت وبا آئی۔ نصوح نے ہیضہ کیا اور سمجھا کہ مرا چاہتا ہے۔ یاس کے عالم میں اس کو مواخذہ عاقبت کا تصور بندھا۔ ڈاکٹر نے اس کو خواب آور دوا دی تھی۔ سو گیا تو وہی تصور اس کو خواب موحش بن کر نظر آیا۔
ہیضے کا اتنا زور ہوا کہ ایک حکیم بقا کے کوچے سے ہر روز تیس تیس چالیس چالیس آدمی چھیجنے لگے۔ ایک بازار موت کا تو البتہ گرم تھا، ورنہ جدھر جاو سناٹا اور ویرانی، جس طرف نگاہ کرو وحشت و پریشانی۔۔۔”
"باپ بیٹا وضو کر رہے تھے۔ مسواک کرتے کرتے ابکائی ائی۔ ابھی نصوح دوگانہ فرض ادا نہیں کر چکا تھا، سلام پھیر کر کیا دیکھتا ہے کہ باپ نے قضا کی۔ ان کو مٹی دے کر آیا تو رشتے کی ایک خالہ تھیں، ان کو جان بحق پایا۔۔۔۔”
"گلاب، نارجیل دریائی، بادیان، تمر ہندی، سکنجبین وغیرہ وغیرہ جو دوائیں یونانی طبیب اس مرض میں استعمال کرتے ہیں، تھوڑی تھوڑی سب بہم پہنچا لیں۔ نصوح نے یہاں تک اہتمام کیا کہ انگریزی دوائیاں بھی فراہم کیں۔ کالرا پل کی گولیاں تو وہیں کوتوالی سے لے لیں۔ کالرا ٹنکچر الہ آباد میڈیکل ہال سے روپیہ بھیج کر منگوا کر رکھا۔ آگے سے ایک دوست کی معرفت کلورو ڈائن کی دو شیشیاں خرید لیں۔۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر ہونے کے ناطے آخری فقرہ پڑھ کر میرا ماتھا ٹھنکا۔ طبی حس نے بیدار ہو کر اکسایا کہ اس قدیم انگریزی دوا پر تحقیق کی جائے جس کا ذکر ڈپٹی صاحب نے اپنے ناول میں کیا ہے یعنی کلورو ڈائن (Chlorodyne) کا تو کچھ کھوج لگایا جائے. لٹریچر پڑھنے پر کھلا کہ یہ انیسویں صدی کا قصہ ہے جب ایک ڈاکٹر نے اس زباں زد عام محاورے کو حقیقت کا روپ دیا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ وہ ڈاکٹر جان کولس براون (Dr. John Collis Browne 1819-1884) تھا جو انڈین برٹش آرمی میں ملازم تھا۔ ہیضے کی وبا بہت شدید تھی۔ لاکھوں لوگ مر رہے تھے۔ ایسے میں ڈاکٹر براون رحمت کا فرشتہ بن کر آیا اور اس نے یہ دوا کلورو ڈائن دریافت کی۔ یہ دوا پہلے پہل 1848 میں استعمال ہوئی۔ اس دوا کے اجزائے ترکیبی نہایت دلچسپ تھے۔ ڈاکٹر براون نے دنیا جہاں کا نشہ اس میں بھر دیا۔ یہ دوا الکوحل، افیون، بھنگ، حشیش، گانجا اور کلوروفارم کا آمیزہ تھی۔ دوا کیا تھی، بلا تھی۔ چمتکار کرتی تھی۔ ہیضے کےلئے تیر بہدف نسخہ تھی۔ یہ دوا آئی اور چھائی۔ ہیضے کو اس دوا نے قابو کیا۔ ہیضے کے علاوہ یہ دوا اور بہت سی بیماریوں کا علاج تھی جیسے دمہ، نظام تنفس کی تمام بیماریاں، مرگی، بے خوابی اور آنتوں کے سب عارضے وغیرہ۔
ہیضہ ایک بکٹیریا Vibrio Cholerae سے پھیلتا ہے۔ کلورو ڈائن antibiotic نہیں تھی بلکہ ایک طرح سے جراثیم کش تھی۔ جس مقدار سے جہاں بھر کے نشے اسی دوا میں ٹھونسے گئے تھے، میرے خیال میں ہیضے کے جراثیم پہلے ٹن ہوتے ہوں گے، پھر غشی اور بالآخر بے ہوشی کے عالم میں مر جاتے ہوں گے۔
اب اسے لطیفہ کہہ لیجئے یا المیہ کہ کلورو ڈائن سے بیمار شفا یاب ہونے لگے اور تندرست بیمار، کیونکہ اس دوا کی لت پڑ جاتی تھی یہاں تک کہ چھٹتی نہیں” تھی” منہ سے "وہ” کافر لگی ہوئی۔ یار لوگ اس کا نشہ فرماتے تھے کہ ٹھرا ہر وقت تو دستیاب نہیں ہوتا تھا۔ (ہمارے ہاں کوڈین کف سیرپ کا استعمال اسی طرح ہوتا رہا ہے)۔ دوست احباب عطر بیز غلافوں میں کلورو ڈائن کا تحفہ یوں بھیجتے تھے گویا گوہر نایاب ہے یا کوئی جنس کمیاب ہے۔ اب ہوا کیا کہ اس کی overdose سے لوگ مرنے لگے۔ مرگ ناگہانی ہوتی تو مرحوم کے تکیے کے نیچے سے کلورو ڈائن کی شیشیاں برآمد ہوتیں۔ گمان غالب ہے کہ پس ماندگان دوا ساز کمپنی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر براون پر مغلظات کا طومار باندھتے ہوں گے اور دشنام طرازی کا معیار ماں بہن کے حوالوں سے کہیں ارفع ہو گا۔ بہرحال، دوا ساز کمپنی (J T Davenport) نے پھر اس دوا میں حشیش کی مقدار کم کر دی۔ جونہی ہیضے کی وبا ختم ہوئی تو کلورو ڈائن کو بھی زوال ہوا۔
آجکل کرونا کی وبا زوروں پر ہے۔ دنیا بھر کی لیبارٹریز اس کی vaccine یا antiviral دوا دریافت کرنے میں دن رات سرگرم ہیں۔ دنیا ڈاکٹر براون ثانی یعنی مسیحا کی منتظر ہے۔
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے