دیکھی تھی تیرے کان کے موتی کی اک جھلک

دیکھی تھی تیرے کان کے موتی کی اک جھلک
جاتی نہیں ہے اشک کی رخسار کے ڈھلک
یارب اک اشتیاق نکلتا ہے چال سے
ملتے پھریں ہیں خاک میں کس کے لیے فلک
طاقت ہو جس کے دل میں وہ دو چار دن رہے
ہم ناتوان عشق تمھارے کہاں تلک
برسوں ہوئے کہ جان سے جاتی نہیں خلش
ٹک ہل گئی تھی آگے مرے وہ پھری پلک
آئی نہ ہاتھ میر کی میت پہ کل نماز
تابوت پر تھی اس کے نپٹ کثرت ملک
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے