دیہی سندھ کے مسائل

ویسے تو سندھ ایک ہی ہے لیکن چند مسائل اور وسائل کی بنا پر اس کے کچھ اضلاع دیہی تو کچھ اضلاع شہری کے نام سے منسوب ہیں۔دیہی سندھ میں ریگستانی یا سندھ کے دور دراز کے علاقے شامل ہیں۔ شہری سندھ میں مقامی آبادی کے ساتھ دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والی آبادی بھی مقیم ہے لیکن دیہی سندھ میں خالصتا وہاں پر قدیم سندھی مقیم ہیں جنہیں ہم ”ماروئڑا یعنی خالص اور سادہ لوگ” کہتے ہیں۔

الف) دیہی سندھ میں تعلیمی بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ والدین غربت اور کم شعور ہونے کے وجہ سے بچوں کو اسکول بھیجنے کو تیار نہیں۔بچیوں کی تعلیم کا تو کوئی خاص نام و نشان تک نہیں۔ اس کی وجوہات دو ہیں ایک والدین اور دوسرا محکمہ تعلیم۔والدین بچیوں کو اسکول بھیجنا اپنی شان اور غیرت کے خلاف سمجھتے ہیں انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ بچی کپاس چنے اور گندم کی کٹائی کرے مگر اسکول مت جائے۔محکمہ تعلیم بھی تعلیم کے لیے خوشگوار ماحول پیدا کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے۔محمکہ تعلیم اور پرائوٹ اسکول مالکان کے نخرے اپنی جگہ قائم ہیں۔شہری سندھ کی ماسٹرڈ اور گریجوئٹڈ استانیوں کے لیے گھر سے دور دیہی سندھ میں کام کرنا مشکل ہے اور دیہی سندھ میں صرف انٹرمیڈیئٹ کی بنیاد پر استانیاں مل سکتی ہیں اور عجیب بات ہے کہ سرکاری اور پرائوٹ اسکول والے انٹرمیڈیٹ کو کسی کھاتے میں نہیں لیتے۔ یہ بھی ایک اہم اور غور طلب مسئلہ ہے۔سرکاری اور پرائوٹ اسکول مالکان کو اس معاملے میں نرمی دکھانی چاہیے

ب) دیہی سندھ میں لوگوں کی اکثریت زراعت کے پیشہ سے منسوب ہے ۔ ان میں زراعت کے بارے میں سرکاری سطح پر شعور کی ضرورت ہے اور انہیں بلا سود قرضوں کو بھی ضرورت ہے کیوں کہ اکثر دیکھا گیا ہے یہاں پر جاگیرداروں کے ساتھ چھوٹے زمیندار بھی رہتے ہیں۔ ان میں اتنی مالی طاقت نہیں کہ وہ اپنے بلبوتے پر زمین کے خرچے برداشت کر سکیں اس لیے وہ مجبور ہوکر بیج،کھاد اور دوائیاں مقامی سیٹھ صاحبان سے سود پر لیتے ہیں فصل تیار ہوتے ہی ان کی ساری فصل سود کے عیوض چلی جاتی ہے اور ان پر قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور ان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ایک چھوٹے زمیندار کی پہنچ فیکٹری اور بڑی منڈی تک نہیں اسی وجہ اسے اپنے فصل کی پوری قیمت بھی ادا نہیں ہوتی اور مقامی بازار میں ہی اسے لوٹ لیا جاتا ہے تو کپاس کی چنائی اور گندم کے کٹائی کی سیزن میں زمیداران اور کمیشنر صاحبان کو مارکیٹ میں چیزوں کی قیمتوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔

ج) دیہی سندھ میں صحت کے بھی سنجیدہ مسائل ہے،ہر سال کئی بچے خسرہ سے مرجاتے ہیں اس پر سرکار توجہ دے بھی رہی اور مزید توجہ کی بھی ضرورت ہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ دیہی سندھ میں گردوں کی بیماریوں میں کافی حد تک اضافی ہوا ہے کافی نوجوان بچے بچیوں کو ڈائلسس تک جانا پڑ جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس کی وجوہات پر غور کرنی چاہیے اور سندھ کے مختلف حصوں سے پانی اور خوراک کے نمونے لے کر اس پر عملی پیش رفت کرنی چاہیے۔

د) لوڈشیڈنگ کا ختم کیا جائے،میٹر چیکنگ کا نظام بنایا جائے اور لوگوں کو کنڈی مافیا سے نجات دلایا جائے۔بہت سے لوگ بل کم کروانے کے لیے پانچ پانچ ہزار تک رشوت ادا کرتے ہیں اور ہر ایک کنڈی پر کم سے کم دو ہزار منتھلی ہوتا ہی ہے اس حساب سے صرف پچاس کنڈیوں کی ایک لاکھ روپے بنتے ہیں اگر کوئی منتھلی وقت پر نہیں دیتا تو یہ مافیا اس کی وائر تک اکھاڑ کر لے جانے تک کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کنڈی والوں کا بوجھ رجسٹرڈ صارفین کو بھی زیادہ بل اور لوڈشیڈنگ کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ اگر سرکار میدان عمل میں آئے اور سب کو میٹر لگا کر دے،ریڈنگ کو منظم بنائے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دیہانی کرائے تو میرے خیال سے ہر ایک شخص بل دینے کے لیے رضامند ہوگا۔

گویا سندھ کوئی صوبہ نہیں مسائلستان ہے جس کی سب سے بڑی وجہ مسمینجمنٹ جیسی غفلت اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہ ہونا ہے۔براہ کرم،یہاں بسنے والے لوگ پاکستان کی ہی عوام ہیں جو باقائدہ سانس لیتے ہیں اور دل و جگر رکھتے ہیں۔لہذا انسانوں جیسے حقوق سے نوازا جائے۔

لعل ڈنو شنبانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے