دھیان میں وا دریچہء چشمِ کرم کیے ہوئے​

دھیان میں وا دریچہء چشمِ کرم کیے ہوئے​
بیٹھے ہیں اپنے دشت کو باغِ ارم کیے ہوئے​

دیکھ رہا ہوں دَور میں سارے صراحی و سبو​
جامِ سفالِ صبر کو ساغرِ جم کیے ہوئے​

صبح وہ جتنی دیر تک باغ میں گھومتا رہا​
سر و سمن کھڑے رہے گردنیں خم کیے ہوئے​

اُس کے جواب کی مجھے آج بھی ہے اُمید سی​
جیسے ہوئے ہوں چار دن حال رقم کیے ہوئے​

اے مرے ہم نواؤ آؤ آج بہت شبیں ہوئیں​
نعرہ زناں ہوئے ہوئے، دَم ہمہ دَم کیے ہوئے​

رات معاصروں میں ہم لے کے گئے غزل شعور ​
پہنچے ہوا کے سامنے شمع عَلم کیے ہوئے​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے