دیوار کے پہلو سے بجھے دیپ اٹھا دیں

دیوار کے پہلو سے بجھے دیپ اٹھا دیں
یا دن کی منڈیروں پہ بھی اب گھات لگا دیں

یا جسم کی جنت سے پرے ہجر ہرا ہو
یا یونہی دلیلوں کی فصیلوں کو گرا دیں

آزار اٹھائیں ترے ہونٹوں کی پھڑک سے
اور کھال کھرچتی ہوئی وحشت کو صدا دیں

آسودہ رہیں رنگ مرے اشک سے مل کر
بس میری ہتھیلی پہ کوئی دشت بنا دیں

بھر جائے تسلی کی تمناؤں میں گریہ
کچھ دیر اگر خواب کے ہم زخم چھپا دیں

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے