دیوار ہوا میں، کوئی تصویر نہیں ہے

دیوار ہوا میں، کوئی تصویر نہیں ہے

جز میرے یہاں کوئی بھی دلگیر نہیں ہے

اب مجھ سے قبیلے کی حفاظت نہیں ہو گی

اب ہاتھ میں دل ہے کوئی شمشیر نہیں ہے

اک دکھ نے مجھے عمر بسر کرنے نہیں دی

وہ دکھ جو مرے ہاتھ پہ تحریر نہیں ہے

یہ تیری محبت کی عنایت ہے وگرنہ

اس درجہ اداسی مری تقدیر نہیں ہے

اک رمز کہ جس رمز کے مارے ہیں سبھی لوگ

اک خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں ہے

ہم عشق اسیری میں کسی دل سے بندھے ہیں

پاؤں میں ہمارے کوئی زنجیر نہیں ہے

یہ کہہ کے مرے ہاتھ پہ رکھا گیا تیشہ

یہ عشق ہے اور عشق میں تاخیر نہیں ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے