دیپ خود ہی بجھانا پڑتا ہے

دیپ خود ہی بجھانا پڑتا ہے
رنج یوں بھی اٹھانا پڑتا ہے
منزلیں کب نشاں بتاتی ہیں
راستہ خود بنانا پڑتا ہے
زندگی راگ ہے خوشی کا مگر
جوگ میں گنگنانا پڑتا ہے
ورنہ یہ لوگ برا مانتے ہیں
قرب میں مسکرانا پڑتا ہے
منہ پہ کہتا ہوں اس لئے شائد
آپ کو تازیانہ پڑتا ہے
طارق جاوید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے