دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے

دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے
رات کو رقص کیا ہجر منایا ہم نے
گھر بنانے کی تمنا تھی ادھوری ہی رہی
ایک نقشہ تو بہر حال بنایا ہم نے
روٹھنے والا کسی طور بھی مانا ہی نہیں
اس کو اک گیت کا مکھڑا بھی سنایا ہم نے
ایک دو چار سہی جھیل میں کنکر پھینکے
اپنے ہونے کا تو احساس دلایا ہم نے
یہ جو منصور ہیں ، تبریز ہیں مرتے ہی نہیں
کھال کھینچی بھی ، کبھی دار چڑھایا ہم نے
کتنا مشکل تھا فرشتے بھی گریزاں ہی رہے
یہ ترا بارِ امانت بھی اٹھایا ہم نے
افتخار شاھد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے