دیباچہ بانگِ درا

دیباچہ بانگِ درا
ایک ایکٹ کا کھیل
منظر: اسٹیج پر بائیں طرف ایک دری بچھی ہے جس پر چند لوگ بیٹھے، دائیں طرف رکھی ہوئی تین کرسیوں کی طرف متوجہ ہیں۔ کرسیوں پر دو افراد اپنی اپنی باری کے منتظر بیٹھے ہوئے ہیں۔
شیخ عبدالقادر اسٹیج کی پچھلی جانب سے نمودار ہوتے ہیں اور سبک خرامی کے ساتھ چلتے ہوئے سامنے آ جاتے ہیں۔
شیخ عبدالقادر: کسے خبر تھی کہ غالبِ مرحوم کے بعد ہندوستان میں پھر کوئی ایسا شخص پیدا ہو گا جو اردو شاعری کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دے گا اور جس کی بدولت غالب کا بے نظیر تخئیل اور نرالا اندازِ بیان پھر وجود میں آئیں گے، مگر اردو زبان کی خوش اقبالی دیکھئیے کہ اس زمانے میں اقبال سا شاعر اسے نصیب ہوا جس کے کلام کا سکہ ہندوستان بھر کی اردو داں دنیا کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے۔
جب شیخ محمد اقبال کے والدِ بزرگوار اور ان کی پیاری ماں ان کا نام تجویز کر رہے ہوں گے تو قبولیتِ دعا کا وقت ہو گا کہ ان کا دیا ہوا نام اپنے پورے معنوں میں صحیح ثابت ہوا اور ان کا اقبال مند بیٹا ہندوستان میں تحصیلِ علم سے فارغ ہو کر انگلستان پہنچا، وہاں کیمبرج میں کامیابی سے وقت ختم کر کے جرمنی گیا اور علمی دنیا کے اعلیٰ مدارج طے کر کے واپس آیا۔
( شیخ عبدالقادر اپنی بات ختم کر کے پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں اور پچھلے قدموں اسٹیج کے دائیں جانب ہو جاتے ہیں۔ کرسی پر بیٹھے ہوئے اسٹیج سکریٹری اٹھتے ہیں اور دری پر بیٹھے ہوئے سامعینِ مشاعرہ کو مخاطب کرتے ہیں )
اسٹیج سکریٹری: حضراتِ گرامی قدر! اب میں دعوتِ کلام دے رہا ہوں، صاحبِ طرز غزل گو شاعر نواب مرزا خان صاحب داغ دہلوی کو، جو یوں تو کسی تعارف کے محتاج نہیں، لیکن نظامِ دکن کے استاد ہونے کی حیثیت سے ان کی شہرت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ جو لوگ ان کے پاس جا نہیں سکتے ہیں، خط و کتابت کے ذریعے دور ہی سے ان سے شاگردی کی نسبت پیدا کرتے ہیں۔
داغ دہلوی: ( اٹھ کر)
ناروا کہیئے، ناسزا کہیئے
کہیئے کہیئے، مجھے برا کہیئے
اسٹیج سکریٹری: یا حضرت میں تو۔ ۔ ۔ ( شیخ عبدالقادر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )۔ ۔ ۔ بانگِ درا کے دیباچے سے اقتباس سنا رہا تھا۔ ( ناظرین کی طرف متوجہ ہو کر مسکراتے ہوئے ) حضرت داغ دہلوی۔
داغ دہلوی: ایک غزل کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔
نتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامی
وہاں جاتے جاتے، یہاں آتے آتے
نہیں کھیل اے داغ ! یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
( واہ وا ہوتی ہے۔ اقبال اسٹیج پر نمودار ہوتے ہیں اور تیز تیز قدموں سے چل کر ایک کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں )
اسٹیج سکریٹری: اب میں دعوتِ کلام دے رہا ہوں، داغ دہلوی کے غائبانہ شاگرد کو۔ تشریف لاتے ہیں جناب اقبال۔
بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے
اقبال: اقبال ہمیشہ دیر ہی سے آتا ہے۔ ( کھڑے ہو کر) ایک نظم پیشِ خدمت ہے۔ ہمالہ۔
اے ہمالہ ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیمِ طورِ سینا کے لیے
تو تجلّی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے
( واہ وا ہوتی ہے )
شیخ عبدالقادر: واہ وا، اقبال صاحب! بہت خوب۔ میرے رسالے مخزن کے لیے تو یہی نظم دے دیجئے۔
اقبال: میرے خیال میں اس نظم میں کچھ خامیاں ہیں، اور دوسری کوئی نظم تیار نہیں۔
شیخ عبدالقادر: سامعین کی طرف اشارہ کر کے ) اس نظم کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے میرا اصرار ہے کہ یہی نظم دیدیجیے، اور دوسرے مہینے کے لیے کوئی اور لکھیئے۔
(اقبال اپنی نظم شیخ عبدالقادر کے حوالے کرتے ہیں )
شیخ عبدالقادر: (داغ دہلوی سے مخاطب ہو کر) حضرت! کچھ اپنے اس ہونہار شاگرد کے بارے میں فرمائیے۔
داغ دہلوی: یوں تو سینکڑوں آدمی ہم سے غائبانہ تلمذ رکھتے ہیں اور ہمیں اس کام کے لیے ایک عملہ اور محکمہ رکھنا پڑا ہے۔ شیخ محمد اقبال نے بھی ہمیں خط لکھا اور اپنی چند غزلیں اصلاح کے لیے بھیجی ہیں۔
اقبال: اس طرح مجھے یعنی اقبال کو بھی ایسے استاد سے نسبت پیدا ہوئی جو اپنے وقت میں زبان کی خوبی کے لحاظ سے فنِ غزل میں یکتا سمجھا جاتا ہے۔
داغ دہلوی: ہم تو اقبال کی چند ابتدائی غزلیں دیکھ کر ہی پہچان گئے تھے کہ پنجاب کے ایک دور افتادہ ضلع کا طالبِ علم کوئی معمولی غزل گو نہیں۔ کلام میں اصلاح کی گنجائش بہت کم ہے۔
اقبال: میرے دل میں اس مختصر اور غائبانہ تعلق کی بھی قدر ہے۔
داغ دہلوی: مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اقبال بھی ان لوگوں میں شامل ہے جن کے کلام کی میں نے اصلاح کی۔
(اقبال اور داغ کرسیوں پر اسٹیج سکریٹری کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور شیخ عبدالقادر اسٹیج کے سامنے کی جانب لوٹ آتے ہیں۔)
شیخ عبدالقادر: میں صاحبانِ ذوق کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اردو کلیات اقبال ان کے سامنے رسالوں اور گلدستوں کے اوراقِ پریشاں سے نکل کر ایک مجموعہ دلپذیر کی شکل میں جلوہ گر ہے اور امید ہے کہ جو لوگ مدت سے اس کلام کو یکجا دیکھنے کے مشتاق تھے، وہ اس مجموعے کو شوق کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور دل سے اس کی قدر کریں گے۔
(پردہ)
٭٭٭
ماخوذ از دیباچہ بانگِ درا
از شیخ عبدالقادر بار ایٹ لا، سابق مدیرِ مخزن
پہلی دفعہ جنریشن اسکول کراچی میں ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۷ کو پیش کیا گیا جس میں مندرجہ ذیل طلبا نے حصہ لیا۔
ابراہیم نقوی شیخ عبدالقادر
عثمان خلیل اسٹیج سکریٹری
حسین عاشق اقبال
عثمان فاروق داغ
ہدایات و پیشکش: مس عذرا علوی اور مس زاہدہ : زیر انتظام اقبال سوسائیٹی
محمد خلیل الرحمٰن

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے