دعوت اسلام روکنے کی سازشیں

دعوت اسلام روکنے کی سازشیں

علامہ عبدالمصطفیٰ کی تالیف سیرت مصطفی میں لکھاہے کہ ایک مرتبہ سرداران قریش حرم کعبہ میں بیٹھے ہوئے یہ سوچنے لگے کہ آخراتنی تکالیف اورسختیاں برداشت کرنے کے باوجودمحمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اپنی تبلیغ بندکیوں نہیں کرتے؟آخران کامقصدکیاہے؟ممکن ہے یہ عزت وجاہ یاسرداری ودولت کے خواہاں ہوں۔چنانچہ سبھوں نے عتبہ بن ربیعہ کوحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجاکہ تم کسی طرح ان کادلی مقصدمعلوم کرو۔چنانچہ عتبہ تنہائی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملااورکہنے لگا کہ اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)آخراس دعوت اسلام سے آپ کامقصدکیاہے؟کیاآپ مکہ کی سرداری چاہتے ہیں، یاعزت ودولت کے خواہاں ہیں،یاکسی بڑے گھرانے میں شادی کے خواہش مندہیں؟آپ کے دل میں جوتمناہوکھلے دل کے ساتھ کہہ دیجئے میں اس کی ضمانت لیتاہوں کہ اگرآپ دعوت اسلام سے بازآجائیں توپورامکہ آپ کے زیرفرمان ہوجائے گا۔اورآپ کی ہرخواہش اورتمناپوری کردی جائے گی۔۔عتبہ کی یہ ساحرانہ تقریرسن کرحضوررحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں قرآن مجیدکی چندآیتیں تلاوت فرمائیں جن کوسن کرعتبہ اس قدرمتاثرہواکہ اس کے جسم کا رونگٹ ارونگٹااوربدن کابال بال خوف ذولجلال سے لرزنے اورکانپنے لگااورحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ پرہاتھ رکھ کرکہامیں آپ کورشتہ داری کاواسطہ دے کر درخواست کرتاہوں کہ بس کیجئے میرادل اس کلام کی عظمت سے پھٹاجارہاہے۔عتبہ بارگاہ رسالت سے واپس ہوا۔ مگراس کے دل کی دنیامیں ایک نیاانقلاب رونماہوچکاتھا۔عتبہ ایک بڑاہی ساحرالبیان خطیب اورانتہائی فصیح وبلیغ آدمی تھا۔اس نے واپس لوٹ کرسرداران قریش سے کہہ دیا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جوکلام پیش کرتے ہیں وہ نہ جادوہے نہ کہانت نہ شاعری بلکہ وہ کوئی اورہی چیزہے۔لہٰذا میری رائے ہے کہ تم لوگ ان کوان کے حال پرچھوڑدواگروہ کامیاب ہو کرسارے عرب پرغالب ہوئے تواس میں ہم قریشیوں کی ہی عزت بڑھے گی۔مگرقریش کے سرکش کافروں نے عتبہ کایہ مخلصانہ اورمدبرانہ مشورہ نہیں مانا۔بلکہ اپنی مخالفت اورایذارسانیوں میں اورزیادہ اضافہ کردیا۔
کفارقریش میں کچھ لوگ صلح پسندبھی تھے وہ چاہتے تھے کہ بات چیت کے ذریعے صلح صفائی کے ساتھ معاملہ طے ہوجائے۔چنانچہ قریش کے چند معزز رؤسا ابوطالب کے پاس آئے اورحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت اسلام اوربت پرستی کے خلاف تقریروں کی شکایت کی۔ابوطالب نے نہایت نرمی کے ساتھ ان لوگوں کوسمجھابجھاکررخصت کردیا۔لیکن حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی الاعلان شرک وبت پرستی کی مذمت اوردعوت توحیدکاوعظ فرماتے ہی رہے۔اس لیے قریش کاغصہ پھربھڑک اٹھا۔چنانچہ تمام سرداران قریش یعنی عتبہ وشیبہ،ابوسفیان وعاص بن ہشام وابوجہل ولیدبن مغیرہ،عاص بن وائل وغیرہ وغیرہ سب ایک ساتھ مل کرابوطالب کے پاس آئے اوریہ کہاکہ آپ کابھتیجا ہمارے معبوودوں کی توہین کرتاہے۔ اس لیے یاتوآپ درمیان سے ہٹ جائیں اوراپنے بھتیجا کو ہمارے سپردکردیں یاپھرآپ بھی کھل کران کے ساتھ میدان میں نکل پڑیں تاکہ ہم دونوں میں سے ایک کافیصلہ ہوجائے۔ ابوطالب نے قریش کے تیوردیکھ کرسمجھ لیا کہ اب بہت ہی خطرناک اورنازک گھڑی سرپرآم پڑی ہے۔ظاہرہے کہ اب قریش برداشت نہیں کرسکتے اورمیں اکیلاتمام قریش کامقابلہ نہیں کرسکتا۔ ابوطالب نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوانتہائی مخلصانہ اورمشفقانہ لہجے میں سمجھایا کہ میرے پیارے بھتیجے اپنے بوڑھے چچاکی سفیدداڑھی پررحم کرواوربڑھاپے میں مجھ پراتنابوجھ مت ڈالو کہ میں اٹھانہ سکوں۔اب تک توقریش کابچہ بچہ میرااحترام کرتاتھا۔مگرآج قریش کے سرداروں کالب ولہجہ اوران کاتیوراس قدر بگڑا ہواتھا کہ اب وہ مجھ پراورتم پرتلواراٹھانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم کچھ دنوں کے لیے دعوت اسلام موقوف کردو۔ اب تک حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ظاہری معین مددگارجوکچھ بھی تھے وہ صرف اکیلے ابوطالب ہی تھے۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ اب ان کے قدم بھی اکھڑرہے ہیں۔چچاکی گفتگوسن کرحضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھرائی ہوئی مگرجذبات سے بھری ہوئی آوازمیں فرمایاکہ چچاجان!خداکی قسم اگرقریش میرے ایک ہاتھ میں سورج اوردوسرے ہاتھ میں چاندلاکر دے دیں تب بھی میں اپنے اس فرض سے بازنہ آؤں گا۔یاتوخدا اس کام کوپورافرمادے گا یامیں خود دین اسلام پرنثارہوجاؤں گا۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ جذباتی سن کرابوطالب کادل پسیج گیااوروہ اس قدرمتاثرہوئے کہ ان کی ہاشمی رگوں کے خون میں قطرہ قطرہ بھتیجے کی محبت میں گرم ہوکرکھولنے لگا اورانتہائی جوش میں آکرکہہ دیا کہ جان جان عم! جاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں جب تک میں زندہ ہوں کوئی تمہارامال بیکانہیں کرسکتا۔
کفارمکہ نے جب اپنے ظلم وستم سے مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کردیا توحضوررحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کوحبشہ جاکرپناہ لینے کاحکم دیا۔ تمام مہاجرین نہایت امن وسکون کے ساتھ حبشہ میں رہنے لگے۔مگرکفارمکہ کوکب گواراہوسکتاتھا کہ فرزندان توحید کہیں امن وچین کے ساتھ رہ سکیں۔ ان ظالموں نے کچھ تحائف کے ساتھ عمروبن العاص اورعمارہ بن ولید کوبادشاہ حبشہ کے دربارمیں اپناسفیربناکربھیجاان دونوں نے نجاشی کے دربارمیں پہنچ کر تحفوں کانذرانہ پیش کیا اوربادشاہ کوسجدہ کرکے فریادکرنے لگے کہ اے بادشاہ!ہمارے کچھ مجرم مکہ سے بھاگ کرآپ کے ملک میں پناہ گزین ہوگئے ہیں۔آپ ہمارے ان مجرموں کوہمارے حوالے کردیجئے یہ سن کرنجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کودربارمیں طلب کیا اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے نمائندہ بن کرگفتگو کے لیے آگے بڑھے اوردربارکے آداب کے مطابق بادشاہ کوسجدہ نہیں کیابلکہ صرف سلام کرکے کھڑے ہوگئے درباریوں نے ٹوکا توحضرت جعفررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خداکے سواکسی کوسجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے اس لیے میں بادشاہ کوسجدہ نہیں کرسکتا۔اس کے بعد حضرے جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دربارشاہی میں اس طرح تقریرشروع فرمائی کہ اے بادشاہ ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے شرک وبت پرستی کرتے تھے لوٹ مار،چوری وڈکیتی،ظلم وستم اورطرح طرح کی بداعمالیوں میں مبتلاتھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری قوم میں ایک شخص کواپنارسول بناکربھیجا۔ جس کے حسب ونسب اورصدق ودیانت کوہم پہلے سے جانتے تھے۔اس رسول نے ہم کوشرک وبت پرستی سے روک دیااورصرف ایک خدائے واحدکی عبادت کا حکم دیااورہرقسم کے ظلم وستم اورتمام برائیوں اوربدکاریوں سے ہم کومنع کیا۔ہم اس رسول پرایمان لائے اورشرک وبت پرستی چھوڑ کرتمام برے کاموں سے تائب ہوگئے۔بس یہی ہماراگناہ ہے۔ جس پرہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہوگئی اوران لوگوں نے ہمیں اتناستایا کہ ہم اپنے وطن کوخیربادکہہ کرآپ کی سلطنت کے زیرسایہ امن کی زندگی بسرکررہے ہیں اب یہ لوگ ہمیں مجبورکررہے ہیں کہ ہم پھراس پرانی گمراہی میں واپس لوٹ جائیں۔حضرت جعفررضی اللہ عنہ کی تقریرسے نجاشی بادشاہ بے حدمتاثرہوا۔یہ دیکھ کرکفارمکہ کے سفیرعمروبن العاص نے اپنے ترکش کاآخری تیربھی پھینک دیا اورکہا کہ اے بادشاہ!یہ مسلمان لوگ آپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کچھ دوسراہی اعتقاد رکھتے ہیں جوآپ کے عقیدہ کے بالکل خلاف ہے۔یہ سن کرنجاشی بادشاہ نے حضرت جعفررضی اللہ عنہ سے اس بارے سوال کیا توآپ نے سورۃ مریم کی تلاوت فرمائی۔کلام ربانی کی تاثیرسے نجاشی بادشاہ کے قلب پراتناگہرااثرپڑا کہ اس پررقت طاری ہوگئی اوراس کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے۔حضرت جعفررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کویہی بتایاہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اوراس کے رسول ہیں جوکنواری مریم کے شکم مبارک سے بغیرباپ کے خداکی قدرت کانشان بن کرپیداہوئے۔نجاشی بادشاہ نے بڑے غورسے حضرت جعفررضی اللہ عنہ کی تقریرکوسنااوریہ کہا کہ بلاشبہ انجیل اورقرآن ایک آفتاب ہدایت کے دونورہیں اویقیناحضرت عیسیٰ علیہ السلام خداکے بندے اوراس کے رسول ہیں اورمیں گواہی دیتاہوں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداکے وہی رسول ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل میں دی ہے اور اگرمیں دستورسلطنت کے مطابق تخت شاہی پررہنے کاپابندنہ ہوتا تومیں خودمکہ جاکررسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوتیاں سیدھی کرتا اوران کے قدم دھوتا بادشاہ کی تقریرسن کراس کے درباری جوکٹرقسم کے عیسائی تھے ناراض وبرہم ہوگئے مگرنجاشی بادشاہ نے جوش ایمانی میں سب کوڈانٹ پھنکارکرخاموش کر دیا اور کفار مکہ کے تحفوں کوواپس لوٹاکرعمروبن العاص عماربن ولیدکودربارسے نکلوادیااورمسلمانوں سے کہہ دیا کہ تم لوگ میری سلطنت میں جہاں چاہوامن وسکون کے ساتھ آرام وچین کی زندگی بسرکروکوئی تمہاراکچھ بھی نہیں بگاڑسکتا۔
کفارمکہ کی دعوت اسلام روکنے کی تینوں سازشیں ناکام ہوگئیں۔سب سے پہلے انہوں نے حضوررحمت عالم،شفیع معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودنیاوی جاہ ومنصب اورعہدے اوررشتے کالالچ دے کردعوت اسلام سے روکنے کی سازش کی۔اس سازش کی ناکامی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچاابوطالب کے پاس گئے۔کفارمکہ کی یہ سازش بھی کامیاب نہ ہوئی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت پرعمل کرتے ہوئے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ کفارمکہ وہاں بھی پہنچ گئے نجاشی بادشاہ کوصحابہ کرام کے خلاف کرکے انہیں وہاں سے نکلوانے کی سازش کی جوناکام ہوگئی۔ ان تینوں واقعات سے ہمیں یہ درس بھی ملتاہے کہ دعوت اسلام کتنی ضروری ہے۔ اگردعوت اسلام چھوڑنے کے بدلے میں دنیاومافیھابھی مل جائے تب بھی دعوت اسلام نہیں چھوڑنی چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ درس بھی ملتاہے کہ چاہے پوری دنیاآپ کی مخالف ہو، کوئی آپ کی بات سننے والانہ ہو،کوئی آپ کی بات پرتوجہ دینے والانہ ہو تب بھی حق اورسچ بات کہتے رہیں۔
آج بھی حق اورسچ بات کی مخالفت کی جاتی ہے۔ حق اورسچ بات کہنے والوں کی بھی مخالفت کی جاتی ہے۔ اسے حق اورسچ بات کہنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسے ہی سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔کہ تم یہ کن چکروں میں پڑگئے ہو،کسی کوکچھ نہ کہو،جوکیاکرتاہے اسے کرنے دو۔کسی کونہ چھیڑو۔ تمہاراکسی سے کیالینادینا تم اپنے کام سے کام رکھو۔

محمدصدیق پرہار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے