دستکِ حرص پہ دروازہءِ شر کھلتا ہے

دستکِ حرص پہ دروازہءِ شر کھلتا ہے
حسبِ توفیقِ دعا بابِ اثر کھلتا ہے

شمع در طاق سمجھ سکتی ہے سورج خودکو
اصل دم خم تو سرِ رہگزر کھلتا ہے

مجھے تو وسعتِ دنیا بھی ہے کمرے جیسی
ایک دروازہ اِدھر ایک اُدھر کھلتا ہے

جس طرح عکس کوئی اصل سے بہتر بن جائے
جس طرح خواب کی حالت میں ہنر کھلتا ہے

اتنے کردار نبھائے ہیں کہ مجھ پر بھی مرا
اصل چہرہ نہیں کھلتا ہے اگر کھلتا ہے

تجھ کو اس دل کی سمجھ آئے گی آتے آتے
اجنبی شخص پہ تاخیر سے گھر کھلتا ہے

آئنہ گر اُسے پتھرائے ہوئے دیکھتے ہیں
وہ جو بے خوف و خطر آئنے پر کھلتا ہے

رشتہءِ رزق بس اک جسم پہ موقوف نہیں
نسل در نسل نوالے کا اثر کھلتا ہے

میرے اندر وہ اُجالا ہے کہ مجھ پر شاہد
رات کا رنگ بہ اندازِ سحر کھلتا ہے

شاہد ذکی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے