دشتِ ہجراں سے محبت کو نبھاتے ہوئے ہم

دشتِ ہجراں سے محبت کو نبھاتے ہوئے ہم
خاک ہوتے ہیں میاں! خاک اڑاتے ہوئے ہم
اک عجب عالمِ حیرت میں چلے جاتے ہیں
تیری آواز میں آواز ملاتے ہوئے ہم
صورتِ حال کو رنجور بنانے والے!
کیسے لگتے ہیں تجھے رنج مناتے ہوئے ہم؟
صاحبِ کشف پرندوں کی کہانی کہہ کر
سو گئے آپ درختوں کو سلاتے ہوئے ہم
یاد ہے تجھ کو مری روح بساتے ہوئے شخص!
ہنستے رہتے تھے سدا باغ کو جاتے ہوئے ہم
موسمِ سبز میں بے حال ہوئے جاتے ہیں
اپنی آنکھوں سے ترے اشک بہاتے ہوئے ہم
مبشّر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے