دشتِ بے آب ہے یاں، پھول نہیں کھل سکتے

دشتِ بے آب ہے یاں، پھول نہیں کھل سکتے
ہیں مُصر دل زدگاں، پھول نہیں کھل سکتے
تو نہ ہو تو ترے ہونے کا گُماں رہتا ہے
خواب ہوتے ہیں جہاں، پھول نہیں کھل سکتے
اک ترا ساتھ ترا قرب ملے پل بھر کو
یار! کھلنے کو کہاں، پھول نہیں کھل سکتے
موسمِ گُل تری صحبت کا اثر ہے دل پر
زخم کھلتے ہیں یہاں، پھول نہیں کھل سکتے
رُت بدلنے میں ذرا دیر ہے، پھر دیکھیے گا
کیا کہا ہم نفَساں، پھول نہیں کھل سکتے
زرد پڑتے ہوئے گُلزار فلک آزردہ
ہے زمیں نوحہ کناں، پھول نہیں کھل سکتے
دلاور علی آزر 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے