دشت دیکھے ہیں گلستاں دیکھے

دشت دیکھے ہیں گلستاں دیکھے
تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے
اس کو کہتے ہیں تیرا لطف و کرم
خشک شاخوں پہ آشیاں دیکھے
جو جہاں کی نظر میں کانٹا تھے
ہم نے آباد وہ مکاں دیکھے
دوستوں میں ہے تیرے لطف کا رنگ
کوئی کیوں بغض دشمنان دیکھے
جو نہیں چاہتا اماں تیری
مانگ کر غیر سے اماں دیکھے
تیری قدرت سے ہے جسے انکار
اٹھکے وہ صبح کا سماں دیکھے
یہ حسیں سلسلہ ستاروں کا
کوئی تا حد آسماں دیکھے
ایک قطرہ جہاں نہ ملتا تھا
ہم نے چشمے وہاں رواں دیکھے
کس نے مٹی میں روح پھونکی ہے
کوئی یہ ربط جسم و جاں دیکھے
دیکھ کر بیچ و تاب دریا کا
یہ سفینے پہ بادباں دیکھے
جس کو تیری رضا سے مطلب ہے
سود دیکھے نہ وہ زیاں دیکھے
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے