درِ دُنیا پہ سبھی یار کھڑے ہیں گم سم

درِ دُنیا پہ سبھی یار کھڑے ہیں گم سم
اور یہ سوچتے ہیں
اس طرح بھی کوئی ناراض ہوا کرتا ہے
آنکھ میں نم نہ خطِ رُخ پہ رمِ حُزن و ملال
ہاتھ میں نظم کے اسرار میں ڈوبا ہوا کاغذ ہے
نہ ماتھے پہ کسی سطرِ دلآویز کی لَو
لبِ ساکت پہ کوئی حرفِ وصیّت نہ دُعا اور نہ سلام
اس طرح بھی کوئی ناراض ہوا کرتا ہے
جوتے پہنے ہیں نہ کُرتے کے بٹن بند کیے
بس اچانک ہی اُٹھے
جیسے آنگن سے کسی زرد بگولے کا گماں اُٹھتا ہے
یوں اُڑے
جیسے کسی بیوہ کے شانوں سے رِدا اُڑتی ہے
یوں چلے
جیسے کسی صحن گلستاں سے ہوا
جانبِ دشت وفا چلتی ہے
اس طرح بھی کوئی ناراض ہوا کرتا ہے
آئینے آئینہ خانوں میں چٹخنے کے لیے
کون یوں چھوڑتا ہے
ان کہی نظم کی سطروں میں پگھلنے کے لیے
کون اک خواب کی زنجیر کو یوں توڑتا ہے
اس طرح بھی کوئی ناراض ہوا کرتا ہے
اس طرح بھی کوئی حیرت سے کھلی آنکھوں میں
اپنے ہی ہجرمسلسل کا لہو بھرتا ہے
اس طرح سے بھی کوئی صاحبِ اسلوب کبھی مرتا ہے
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے