ڈرے ہوئے ہیں سبھی لوگ ابر چھانے سے

ڈرے ہوئے ہیں سبھی لوگ ابر چھانے سے
وہ آئی بام پہ کیا دھوپ کے بہانے سے
وہ قصہ گو تو بہت جلدباز آدمی تھا
بہت سی لکڑیاں ہم رہ گئے جلانے سے
نظر تو ڈال روانی کی استقامت پر
یہ آبشار ہے کہسار کے گھرانے سے
مسافران محبت مجھے معاف کریں
میں باز آیا انہیں راستہ دکھانے سے
اگر میں آخری بازی نہ کھیلتا اظہرؔ
تو خالی ہاتھ نہ آتا قمار خانے سے
اظہر فراغ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے