درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہاے ہاے

درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہاے ہاے
کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہاے ہاے

تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہاے ہاے

کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہاے ہاے

عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا
عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہاے ہاے

زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگی
یعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہاے ہاے

گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
خاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہاے ہاے

شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں
ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہاے ہاے

خاک میں ناموس پیمان محبت مل گئی
اٹھ گئی دنیا سے راہ و رسم یاری ہاے ہاے

ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہاے ہاے

کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تار برشگال
ہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہاے ہاے

گوش مہجور پیام و چشم محروم جمال
ایک دل تس پر یہ نا امید واری ہاے ہاے

عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
رہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہاے ہاے

اسداللہ خان غالب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے