درد کی سِل ہے کہ دِل ہے

درد کی سِل ہے کہ دِل ہے
جو دھڑکتا نہ پگھلتا ہے مرے سینے میں
یہ پگھل جائے تو اس میں سے ٹپکنے والے
سیلِ غم زاد سے کچھ حرف چنوں
نظم لکھوں
مگر اے ہجر نژادوں کو پرکھنے والے
نظم لکھنے میں نہیں آتی ہے
تعزیت دھول بھری آنکھوں کے چورستے میں
درد کے نوُر میں لپٹی ہوئی چپ بیٹھی ہے
نظم لکھنے میں نہیں آتی ہے
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے اظہار کا چاند
رات ڈھلتی ہے نہ اظہار کی رو چلتی ہے
اک عجب سکر کا عالم ہے
رگِ جاں پہ مسلط ہے لحد کی ٹھنڈک
استخواں بولتے ہیں اور نہ سفالِ رُخِ دل دار پہ
خوشبو کے سخن کھلتے ہیں
سبز بادل کے بھرے چھاج برستے ہیں
نہ شاخِ ہنرِ شعر پہ نم اُگتا ہے
اے مرے ہجر نژادوں کو پرَکھنے والے
تُو نے مٹّی میں اُتر کر کل شام
کس قفس میں ہمیں زنجیر کیا
نظم بنتی ہی نہیں
درد کی سِل ہے کہ آہوں سے پگھلتی ہی نہیں
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے