درد کی دیوار پر ٹانکی ہوئی تصویر ہے

درد کی دیوار پر ٹانکی ہوئی تصویر ہے
زندگی روزِ ازل سے موت کی جاگیر ہے

شہرِ دل میں سر اٹھاتی خواہشوں کے درمیاں
ہر قدم پر سامنے انسان کے تقدیر ہے

دن ہیں مایوں کےخزائیں لائی ہیں ابٹن ابھی
فصلِ گل کی رُونمائی میں ذرا تاخیر ہے

رقص کرتی ہے سرِ محفل یہ زلفیں کھول کر
عاشقی جیسے طوائف کی کوئی تقصیر ہے

انتشارِ زندگی میں ایک لمحے کا سکوں
جاگتی آنکھوں سے دیکھے خواب کی تعبیر ہے

کر لیا تسخیر جس کو عشق نے وہ آدمی
اس جہاں کے واسطے ناقابلِ تسخیر ہے

آگہی کا لطف دیتا ہے سدا انسان کو
ہجر کے اندر اگرچہ موت کی تاثیر ہے

منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے