درد ہمدرد سے پیارا تو نہیں ہوسکتا

درد ہمدرد سے پیارا تو نہیں ہوسکتا
آپ کے ساتھ گزارہ تو نہیں ہوسکتا
آپ دل کش ہیں دل فریب بھی ہیں
دیکھئے عشق دوبارہ تو نہیں ہوسکتا
یا تو آغازِ سفر میں ہی پلٹ جانا تھا
بیچ دریا میں کنارہ تو نہیں ہو سکتا
مالکِ کُل کو بنایا گیا تھا ان میں گواہ
ایسی قسموں کا کفارہ تو نہیں ہوسکتا
اپنی تنہائی کو رنگین بنانے کے لئے
اس کا نقصان گوارہ تو نہیں ہو سکتا
سلمیٰ سید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے