درد ہونٹوں میں جو دبا رہے گا

درد ہونٹوں میں جو دبا رہے گا
خواب کا ذائقہ بنا رہے گا
مجھے معلوم ہے کہیں نہیں میں
تو اگر ہے کہیں، بتا، رہے گا؟
میرے تیرے ستارے ملتے ہیں
سو تعلق کا سلسلہ رہے گا
تیری آنکھوں کے رنگ کہہ رہے تھے
میرے رنگوں سے فاصلہ رہے گا
تُو مرا دکھ سمجھ نہیں سکتا
رنجِ لاحاصلی جو تھا، رہے گا
بول، کیسے تجھے معافی دوں
تُو ہمیشہ ہی بے وفا رہے گا
ایک پودا لگایا خواہش کا
اور سمجھی سدا ہرا رہے گا
ناہید وِرک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے