دامن تیرا مجھ سے چھوٹا ملنے کے حالات نہیں

دامن تیرا مجھ سے چھوٹا ملنے کے حالات نہیں
لیکن تجھ کو بھول سکوں میں ایسی بھی تو بات نہیں
بدلے بدلے سے لگتے ہیں آج یہ تیرے تیور کیوں
پہلے جیسے کیوں اب تیرے پیار کے وہ جذبات نہیں
میرے ہاتھ کی ساری لکیریں الجھی الجھی لاکھ سہی
ان میں مجھ کو تو مل جائے ہوگی میری مات نہیں
تم سے بچھڑے عرصہ بیتا پھر بھی عکس ہے آنکھوں میں
آئے نہ ہو تم خوابوں میں جو ایسی کوئی رات نہیں
خوش قسمت ہیں لوگ وہ جن کو پیار کے بدلے پیار ملا
اس دنیا میں ہر انساں کو حاصل یہ سوغات نہیں
جاتے جاتے غم کی دولت تم نے بھر دی جھولی میں
اب یہ زیست کا سرمایہ ہے معمولی خیرات نہیں
درد بھری ہے یاد ماضی پھر بھی بس جی لیتے ہیں
ہم نے جانا ہر منڈپ میں آتی ہے بارات نہیں
چاہے بہار کا موسم ہو یا وصل کا کوئی عالم ہو
بیت گئے جو پھر سے واپس آتے وہ لمحات نہیں
جب جب تم یاد آئے موناؔ بھر آئیں میری آنکھیں
آگ لگائے دل میں آنسو یہ کوئی برسات نہیں
ایلزبتھ کورین مونا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے