داغ دہلوی کے قصے

داغ دہلوی کے قصّے

١) ایک روز داغؔ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب ان سے ملنے آئے اور انہیں نماز میں مشغول دیکھ کر لوٹ گئے ۔اسی وقت داغؔ نے سلام پھیرا۔ملازم نے کہا ’’فلاں صاحب آئے تھے واپس چلے گئے ۔‘‘فرمانے لگے ۔’’دوڑ کر جا،ابھی راستے میں ہوں گے ۔‘‘ وہ بھاگا بھاگا گیا اور ان صاحب کو بلا لایا ۔داغؔ نے ان سے پوچھا کہ ’’آپ آکر چلے کیوں گئے ؟ ‘‘وہ کہنے لگے ۔’’آپ نماز پڑھ رہے تھے ، اس لیے میں چلا گیا ۔‘‘داغؔ نے فوراً کہا۔’’حضرت! میں نماز پڑھ رہا تھا ، لاحول تو نہیں پڑھ رہا تھا جو آپ بھاگے۔‘

٢ )مرزا داغؔ کے شاگرد احسن مارہروی اپنی غزل پر اصلاح کے لیے ان کے پاس حاضر ہوئے ۔ اس وقت مرزا صاحب کے پاس دو تین دوستوں کے علاوہ ان کی ملازمہ صاحب جان بھی موجود تھی۔ جب احسنؔ نے شعر پڑھا۔

کسی دن جا پڑے تھے بیخودی میں ان کے سینے پر

بس اتنی سی خطا پر ہاتھ کچلے میرے پتھر سے

اس پر صاحب جان جو صحبت یافتہ اور حاضر جواب طوائف تھی، بولی:

’’احسن میاں بیخودی میں بھی آپ دونوں ہاتھوں سے کام لیتے ہیں۔؟‘‘

اس پر سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور مرزا صاحب نے احسنؔ سے کہا :’’لیجئے صاحب جان نے آپ کے شعر کی اصلاح کردی ۔

کسی دن جا پڑا تھا بیخودی میں ان کے سینے پر

بس اتنی سی خطا پر ہاتھ کچلا میرا پتھر سے

٣ )ایک دفعہ حبیب کنتوری صاحب کے ہاں نشست تھی جس میں مرزا داغؔ بھی شریک تھے۔ کنتوری صاحب نے غزل پڑھی جس کی زمین تھی ’’سفر سے پہلے ہجر سے پہلے ‘‘ وغیرہ ۔انہوں نے ایک شعر جس میں ’سفر ‘ کا قافیہ باندھا تھا ، بہت زور دے کر اسے پڑھا اور فرمایا کہ’’ کوئی دوسرا اگر ایسا شعر نکالے تو خون تھوکنے لگے ۔‘‘ مرزا داغ یہ سن کر مسکرائے اور بولے کہ’’ ہم تو اس زمین پر تھوکتے بھی نہیں۔‘‘ اس جملہ پر حاضرین میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی اور کنتوری صاحب خفیف ہوکر رہ گئے ۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے