داستانِ عشق میری کچھ نہیں ہے دوستو

داستانِ عشق میری کچھ نہیں ہے دوستو
اک محبت، ہجر کے ڈر کا یقیں ہے دوستو
گرپڑےہیں باری باری سارےمیرے دوست ہی
جب کبھی بھی میں نےجھاڑی آستیں ہے دوستو
پہلا دھوکا آخری تھا پھر محبتاب نہیں
زندگی میں پھر سے دھوکا آفریںہےدوستو
آسماں توکب کاروٹھا بادلوں کااب نشاں
دور تک بھی تو نہیں بنجر زمیںہے دوستو
آدمی تھاجنّتوں میں عیش وعشرت تھی وہاں
اک خطا کی اور زمیں پر اب مکیں ہےدوستو
جب زمیں پر اُترا تھا تب رُتبے میں اشرف تھاوہ
دیکھ کر کردار اپنا اب حزیں ہے دوستو
خود یہ عصیاں میں ہےلتھڑا داٸمی مدہوش ہے
کس قدر یہ دوسروں پہ نکتہ چیں ہے دوستو
ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے