داغؔ کے کلام میں حمد و نعت

داغؔ کے کلام میں حمد و نعت
بوسٹن یونیورسٹی میں میری کلاسوں میں بیسیوں ایرانی شامل رہے۔ ان سے مجھے معلوم ہواکہ ایران میں تازہ انقلاب ہواتو آیت اللہ امام خمینی کی رہنمائی سے قوم کے بیشتر لوگوں نے شیخ سعدی کوتو بخش دیا، لیکن خواجہ حافظؔ کے مردود ہونے کی منادی ہوئی۔ مجتہدوں کی نظر میں حافظؔ کے دین اورایمان محفوظ نہ تھے۔ عربی میں وَسواس کے معنی ہیں وسوسہ اور ہندی میں وِشواس کے معنی ہیں ایمان، بھرو سا ۔ آئیے ہم مل کر اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور دیکھیں کہ ہمارے سینوں میں وِشواس کتنا ہے اور وَسواس کتنا، آس کتنی ہے اور یاس کتنی ہے، لاپروائی کتنی ہے اور پاس کتنا ۔

نواب میرزا داغؔ کاایمان سلامت تھا یا نہیں، ان کا دین ٹھیک تھا یا نہیں۔ مولانا شبلی اور مولانا ابوالکلام اس کا جو جواب دیں گے، مولانا مودودی کے جواب سے مختلف ہوگا، سب مولانا ایک جیسے نہیں ہوتے۔

خیرآبادی خاندان کے چشم وچراغ ڈاکٹر نعمان الحق صاحب سے بوسٹن میں شاعری ،ادبیات اور صرف ونحو اورمحاورہ اورافکار پر ہماری خوب باتیں ہوا کرتی تھیں۔ ایک روز میں نے ان سے کہا:’’خیر آبادی خاندان کی خاص دلبستگی منطق سے تھی۔ منطق کاایک نکتہ ہم سے سنیے۔ دین اور ایمان دو مختلف چیزیں ہیں‘‘۔نعمان صاحب اس قول کو لطیفہ سمجھ کرخوش ہوئے۔

داغ کے وسیع المشرب اورعالی ظرف ہونے کی شہادت ان کے کلام میں نہیں، ان کی حیات کے قصے میں ملے گی۔ ان کا سلوک ہم جنسوں سے کیسا رہا اور ہم جنسوں نے ان سے جواچھے اور برے برتاؤ کیے،ان سے یہ کس طرح نپٹے؟ بالعموم ان کا حال شکرانے کاتھا یا کفرانِ نعمت کا۔انہی باتوں سے ایمان کا حال معلوم ہوگا۔ کلام پر جائیں توایک طرف داغؔ کاشعر ہے :

روزے رکھیں ،نماز پڑھیں ،حج ادا کریں
اللہ یہ ثواب بھی ہے کس عذاب کا

اوردوسری طرف یہ امر واقعی کہ داغؔ روزہ بھی رکھتے تھے ،نماز بھی پڑھتے تھے اور حج بھی کر آئے۔ اُدھر داغؔ نے اپنے ہردیوان کی تمہید حمداور نعت سے باندھی ۔حمد اور نعت روایتی اصناف ہیں۔ ان کے بغیر دیوان ٹھیک سے مرتب نہیں ہوسکتا ۔حقیقت یہ ہے کہ حمد اور نعت سے شاعر اپنے دھرم کااعلان کرتا ہے۔ ایسے کلام سے اس کے ایمان کاحال بخوبی معلوم نہیں ہوسکتا۔ البسۂ فاخرہ سے پہننے والے کے کردار کی خوبی ثابت نہیں ہوتی۔ کلمۂ شہادت کازبان پر لانا اچھی بات ہے ،لیکن اسے بول دینے کے یہ معنی نہیں کہ بولنے والے کے سینے میں اب یقین ہی یقین ہے۔ گمان کاشائبہ تک نہیں۔

لاکھوں صوفی ایسے ہوگزرے ہیں کہ انہوں نے لاالہ الااللہ بھی کہااور لاموجود الااللہ بھی ۔ان سے کوئی پوچھے کہ کیا اس دوسرے کلمہ میں انبیاء کے وجود سے انکار نہیں؟ عقیدے کااظہار بہرحال عجیب وغریب پہیلی ہوتاہے۔

عقیدہ اورعقیدت کے اظہار سے ایک مقصد تو بہرحال پورا ہوتا ہے۔دیوان کے آغاز میں حمد اور نعت شامل کرکے صاحبِ دیوان ملت سے اپنی یگانگی جتاتا ہے۔اس سے تپاک حاصل ہوتاہے۔ حمد اور نعت کو پڑھ کرمسلمان قارئین جی میں کہتے ہیں ہاں یہ ہمارا اپنا آدمی ہے۔ باقاعدگی سے نماز پڑھنے والوں کے بارے میں بھی ہم سوچتے ہیں خداجانے اس نمازی کی دیانت کادرجہ کیاہے۔ میں نے لڑکپن میں برسوں مغرب کی نماز بغیرنماز کے الفاظ کوسمجھے پڑھی۔ عربی کی سُدھ بُدھ ہو جانے کے بعد معانی سمجھ میں آئے تو بھی حضورِ قلب کی صورت کم ہی ہوئی۔ نماز کے الفاظ ستّر میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑائے۔سبحان ربی العظیم تین دفعہ اورسبحان ربی الاعلیٰ تین دفعہ۔ یہ بھی اُسی بھاگڑ میں۔آخری رکعت ختم کرکے سلام پھیرا تو فرشتوں کوہنسی آئی۔

ایک غزل کے مقطع کونعتیہ کرکے داغؔ نے دعاکی۔ ظاہرہے کہ اسلام کے قافیہ سے یکایک دھیان اُدھرکیا۔دعا میں اس اچانک پن سے لطف پیدا ہوا۔ بیساختہ مقطع نے غزل کی تاثیر بڑھادی:

داغ عاصی کوملے نعمتِ فردوس و نعیم
یانبی دولتِ اسلام کے دینے والے

مسلمان کاایک تعلق اللہ سے ہے اور ایک محمدسے ۔ اللہ کی محبت کے ساتھ خوف خدابھی لگاہواہے۔ محمد کی محبت میں خوفِ محمد شامل نہیں۔ اس دعامیں خطاب اللہ سے نہیں، شفیع المذنبین سے ہے:

جس غزل کا یہ مقطع ہے،اس کے موڈ کااندازہ ان دوشعروں سے کیجیے:

میرے قاصد کودیا اس نے یہ جھنجلا کے جواب
کون ہوتے ہیں وہ پیغام کے دینے والے

جاں نثاروں کوملا کرتے ہیں اکثر دشنام
تم سلامت رہو انعام کے دینے والے

خوش طبعی والے ان غزلیہ اشعار کے آخر میں مقطع نعتیہ ہواتو سرخوشی اس میں بھی موجزن رہی اور یوں لگا کہ دعا کرنے والے کو نبی کریم اور پروردگار کے لطف وکرم کایقین اسی طرح ہے جس طرح ایک لاڈلے بچے کوماں باپ کے لاڈ پیار کایقین ہوتاہے۔یہ مقطع قوالوں کے کام کاہے۔ ایک بار پھر سنیے:

داغؔ عاصی کوملے نعمتِ فردوس و نعیم
یانبی دولتِ اسلام کے دینے والے

دیوان مرتب کرنے کاوقت آیا تو داغؔ کوخدااور رسول ایک خاص ضرورت سے یاد آئے ۔ دیوان کے آغاز میں حمد اور نعت کا شامل کرنا ضروری ہوا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس طرح کی رسمی یاد کی کیفیت کیا ہے۔

’’گلزارِ داغؔ ‘‘ والی حمد میں غالباً مطلع ہی پہلے کہاگیا اور مطلع کابھی دوسرا مصرع پہلے اور اسی سے حمد کی زمین طے ہوئی :

ع عصائے موسوی ہے حمدِ خالق میں قلم میرا

اللہ کوشاعر نے خالق کہہ کر آفرینش کااشارہ کیایعنی انتہائی اجمال کے ساتھ یاد کیا۔بارہ اشعار کی حمدمیں اتنی گنجائش کہاں تھی کہ ساری کائنات کی آفرینش کی کہانی اس میں کہی جاتی۔

متکلمین نے کہاہے کہ جمہور کاایمان اجمالی ہوتاہے غور کریں تو ماننا پڑے گاکہ بڑے سے بڑے مفکر کاایمان بھی اجمالی ہی ہوگا۔ اس حمدکے مطلع کی شرح لکھی جائے تو لفظ خالق پرجو کچھ کہا جائے ،وہ بھی اجمالی ہی رہے گا۔

تحت الشعور خداکوہرلمحہ یادرکھتا ہے، شعورگاہے گاہے ۔گفتگو میں بعض جملے ہم واللہ (خداکی قسم) کہہ کر بول جاتے ہیں۔اُف اللہ یا ہائے اللہ بول اُٹھتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں اللہ کرے، کبھی کہتے ہیں اللہ کانام لو۔ استعجاب کے حال میں اللہ اللہ زبان پرآتاہے۔ یہ سب کہتے ہوئے شعور کواعتراف رہتا ہے کہ سرِّ اعظم اللہ ہی ہے۔

اللہ سے خطاب کرتے ہوئے یااللہ کاذکر کرتے ہوئے اس کے ننانوے ناموں میں سے چند تحت الشعور میں ہوتے ہیں۔ علیم، خبیر، بصیر، غفار،قہار، مالک یوم الدین ،رحیم ، کریم ، عادل، ،لیکن مسلمان کے ذہن میں اللہ کاتصور (معاذ اللہ ) ایک بزرگوار بابا کی صورت سے آئے تواس کا ہوش چوکنّا ہوکر کہے گا۔ خبردار، اللہ تجسم سے بری ہے ،اللہ کو نورالسموٰات جان کر یاد کرو۔

دا غؔ کے ہاں اللہ کے دھیان میں چند باتیں قصص القرآن کی شامل ہوں گی،لیکن اللہ کا سبھاؤ کیا ہے اس کااحساس داغؔ کے احوالِ زندگی سے متعین ہوگا۔ داغؔ نے خدا کویاد کیاتو قسّام جان کر۔ یعنی یہ سوچ کر کہ اللہ نے مجھے کس حال میں رکھا، اللہ نے مجھے آرام کی زندگی عطاکی یامتواتر میراامتحان لیا؟ اسی سوچ سے احساس کی کیفیت پیدا ہوئی۔

ساری دنیا کے حق میں اللہ کی مرضی کیاہے، اس کی سوچ داغؔ کی بساطِ خیال پرمرکزی نہیں۔ داغؔ کو تویہ جاننا ہے کہ داغؔ کے حق میں اللہ کی مرضی کیا تھی، ہے اور ہوگی۔ زیادہ تر اسی مرضی کے خیال میں رہ کر داغؔ نے اللہ کے سبھاؤ کو(حیرت کے عالم میں )جانا۔

حمد کاپہلا شعرخم ٹھونک کرکہا۔ ایسی ایکٹنگ بچے خوب کرتے ہیں۔ ہٹ جاؤ،رستم کے راستے سے ہٹ جاؤ ۔

عدوئے سامری فن دیکھے اعجازِ رقم میرا
عصائے موسوی ہے حمدِ خالق میں قلم میرا

کہتے ہیں میراقلم حمدِخالق میں عصائے موسوی ہے۔ میں اپنے دشمن کوجو سامری کاسامداری ہے، اپنی تحریر کاایسا معجزہ دکھاؤں گاکہ وہ منھ دکھانے کے قابل نہ رہے گا۔

شاعر نے جودعویٰ کیا ، اس پر شاعر کویقین ہے کہ سامعین اسے سن کرخوش ہوں گے،لیکن یہ شعرتو شاعر نے اللہ میاں کوسنانے کے لیے کہا۔ کیا شاعر کویقین ہے کہ اللہ میاں نے یہ شعر سنا اور وہ خوش ہوئے؟ یہاں یہ کہنا بے جانہیں کہ شاعر صرف امیدہی رکھ سکتا ہے کہ اللہ میاں یہ مصرع سن کر ملتفت ہوئے۔ یہاں سرِّ اعظم کی سوچ ہے۔ اس میں عقیدہ کے ساتھ لاادریت کی کچھ آمیزش ضرور ہوگی۔ داغؔ کوبہرحال امید ہوئی کہ ان کی شاعرانہ شوخی سے خدا اور حضرت موسی ؑ نے مل کر لطف اٹھایا۔

دوسرا شعر
برنگِ بوئے گل ہے ہرنفس یادِ الٰہی میں
قیامت تک بھرے گی دم نسیمِ صبحِ دم میرا

میراہر نفس یادِ الٰہی میں گل کی سی خوشبو رکھتا ہے۔ نسیم سحری قیامت تک میرادم بھرے گی، شاعرانہ مبالغہ کی حد ہے۔ اس مبالغہ کو جذبۂ عبودیت کے وفورکا اظہار جان کر ہی اس کی داد دی جائے گی۔ گووفور کے اظہارسے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ ایسا وفور شاعر کے دل میں واقعی ہے بھی یانہیں۔ قصیدہ گوممدوحوں کی ثنامیں ایسے مبالغے صدیوں کرتے رہے۔

اگلاشعر دعا ہے:

سلامت منزلِ مقصود تک اللہ پہنچا دے
مجھے آنکھیں دکھاتا ہے ہراک نقشِ قدم میرا

شعرکامضمون قافیہ سے تحریک پذیر ہوتواس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس شعرکا مضمون نقش قدم کی سوچ سے نکلا۔ یااللہ مشکل آسان کر، یہ نہیں بتایا کہ مشکل ہے کیا۔

اگلے دوشعروں کاحمدسے صریحاً کوئی تعلق نہیں:

یہ دودِ شمع دل راتوں کولیتا ہے تعلّی کی
خجل کرتاہے زلفِ حور کوبھی پیچ و خم میرا

کہیں سودائیانِ عشق کو تفریح ہوتی ہے!
بہت چھانا ہوا ہے باغِ فردوس و ارم میرا

یہ دو شعرتشبیب (تعزل) کامضمون رکھتے ہیں۔یہ درمیان میں کہاں سے آٹپکے ۔صاف ظاہر ہے کہ داغؔ کی عادت غزل کہنے کی ہے۔ حمد کہتے ہوئے انہوں نے تعزل پر بندباندھا تھا۔ بندٹوٹ گیا۔ دو شعرغزل کے آ داخل ہوئے۔ پھراحساس ہواکہ یہ توحمد کاسلسلہ ہے۔اللہ کی طرف دھیان پھرسے جما کرکہا:

الٰہی کعبۂ تسلیم میں یوں باریابی ہو
بڑھے لبیک کہہ کر پیشتر سب سے قدم میرا

الٰہی !دوسروں سے پہلے مجھے بار یاب کیجیو۔شاہی درباروں کا پروردہ ایسا شعر کہے گا۔ ماوشماایسی بات نہ کہیں گے۔ ہم تو کہیں گے الٰہی ! جب دربار لگے تو ہمیں بھی باریاب کیجیو، یہ نہ کہیں گے ہماری باری پہلے ہو:

مجھے آباد کرتاہے مجھے برباد کرتا ہے
خدا یا دین و دنیا میں کرم تیرا ستم میرا

مضمون عجلت میں ملا۔ ’’ستم میرا‘‘ قافیہ ذہن میں آیاتو ’’کرم تیرا ‘‘بھی آیا۔ تیراکرم مجھے آبادکرتا ہے یہ خیال تودرست ہے۔ میراستم مجھے برباد کرتاہے، کون ساستم ؟ شاید یہ کہ فاطمہ بیگم سے پوشیدہ رکھ کرمُنی بائی کو باربار گلے لگایا۔ اورتوکوئی ستم ایسا ہمیں معلوم نہیں جو داغؔ نے کسی پرکیاہو۔ شعرمیں کوئی بات پیدا نہ ہوئی۔ خانہ پُری رہی۔ سازسنگت مہیا ہواور کوئی طبیعت دارقوال اس شعر کو گائے تواس میں جان ڈالے۔

اگلاشعر آمدسے کہاگیا ۔طبیعت حاضرہوئی اورموج میں آئی ؂

تری بندہ نوازی ہفت کشور بخش دیتی ہے
جو تو میرا جہاں میرا ، عرب میرا ، عجم میرا

اللہ کی مہربانی شامل حال ہوتوواقعی بندہ محسوس کرتاہے کہ میں نے دنیا فتح کرلی۔عدم کے قافیہ نے پھر یہ شعر کہلوایا:

فنافی اللہ ہوکر پاؤں عمرِ جاوداں ایسی
مسیح و خضر کی ہستی سے بڑھ کر ہو عدم میرا

سوچ نے کرتب دکھانا چاہا، صوفیوں سے محاورہ مستعار لے کرشعر میں جڑدیاگیا۔ فنا فی اللہ ہونے کی اس آرزو میں صدق ہے یانہیں کون جانے۔ یہ محاورہ وحدت الوجود والوں کا محاورہ ہے۔محاورے کہنے کی باتیں ہوکر رہ جاتے ہیں۔ داغؔ کے مشاغل صوفیوں کی چلہ کشی کے مشاغل نہ تھے۔ داغؔ کارہن سہن خانقاہی نہ تھا۔ان کامزاج بقا باللٰہی تھانہ کہ فنافی اللٰہی ۔صوفیوں کاسناسنایا ، بنا بنایا محاورہ بلا توقف عدم کے قافیہ کی مناسبت سے استعمال کیا۔

اس شعر میں عمرِ جاوداں کی خواہش کااظہار ہے۔یہ خواہش فطری نہیں لگتی۔ غالبؔ نے سچ کہا:

ع نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

میں نے ایک روز ڈیڑھ سوطلبہ کی ایک کلاس سے کہاتم میں سے جس پسریاد ختر کوکئی جنم لے لے کر باربار پیدا ہونے کی خواہش ہے،ہاتھ کھڑا کرے۔ کسی نے بھی ہاتھ نہ اٹھایا۔ پھر میں نے کہا تم میں سے اگرکسی کوہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش ہے تو ہاتھ بلند کرے۔ اب کے بھی کسی نے ہاتھ نہ اٹھایا۔ اس سے میرے خیال کی تصدیق ہوئی کہ عمرِ جاوداں کی خواہش فطری نہیں۔ عمرجاوداں کے خیال سے طبیعت پر بوجھ پڑتا ہے۔

اگلے شعر میں شکراورشکایت کی گنگا جمنی ہے۔ لطیف طنزکاشبہ ہوتاہے:

سناجب سے یہ دولت آدمی کو تونے بخشی ہے
نہیں پھولا سماتا خاطرِ غمگیں میں غم میرا

کہاگیاہے:

باخدا دیوانہ باش وبا نبی ہشیار باش

اللہ سے صوفی اورغزل گو چُہل اورشوخی سے بات کریں گے۔ رسولؐ کی یاد میں ایسا احترام ہوتاہے کہ سب سنبھل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بیبیاں سروں کو دوپٹوں سے ڈھانک لیتی ہیں، مردوں کے چہرے مؤدب ہوجاتے ہیں۔ داغؔ نے اگلاشعر ایسے ہی حال میں کہا ہو گا:

الٰہی نقش ہو کلمہ رسول اللہ کا دل پر
چلے کونین میں نامِ محمد سے درم میرا

حمد کے مقطع میں تعزل نے پھر زور مارا۔ رندانہ جسارت کی رگ پھڑکی۔ شطحات گوئی کی عادت نے یہ شعر کہلوایا:

جلوں گا حشرتک اے داغؔ میں سوزِ محبت میں
نہ دے گی ساتھ تا روز جزا شمعِ حرم میرا

میری محبت کے سوز کاساتھ شمع حرم نہ دے گی۔ اس شعر میں حمد کاپہلو کیاہے؟

یہ جوکہتے ہیں الحمداللہ علیٰ کلِ حال، آہ بھر کر کہتے ہیں۔ اس کی تہہ میں ذراسی سرکشی ضرور ہوتی ہے۔ حمد میں داغؔ نے کچھ دُکھڑا شامل کردیا۔ داغؔ بھی ہماری مانند عاجز تھے۔ خدا کے ساتھ ہمارے تعلقات کی صورت یہی ہے کہ شکر کے ساتھ شکایت بھی ہوگی۔خلوص میں ریا کی ایک لہر بھی ہوگی۔ یقین میں تھوڑا سا شائبہ شبہ کاہوگا۔ اس لیے کہ اللہ میاں :

ع صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

’’گلزارِ داغؔ ‘‘میں حمد کی دونظمیں ہیں۔ پہلی کی ردیف ہے میرا ،دوسری کی ردیف ہے تیرا۔ دوسری ردیف سے حمد میں بہتر اشعار نکلے ۔قوالی میں اس کامطلع دُہراکرگایا جائے توسماں بندھے:

یہاں بھی تُو وہاں بھی تُو ، زمیں تیری ، فلک تیرا
کہیں ہم نے پتا پایا نہ ہر گز آج تک تیرا

اس مطلع کے بول توشاعرانہ اوروالہانہ ہیں۔ دوسرے شعرمیں راسخ عقیدہ نظم ہواہے ۔ شاعرنے اس میں طبعزادبات نہیں کہی۔ علمائے دین بھی عین یہی کلمہ پڑھیں گے ۔فرق یہ ہے کہ ان کی زبان سے یہ نثر ہوکر بولا جائے گا:

صفات وذات میں یکتا ہے تو اے قادرِ مطلق
نہ تیرا کوئی ثانی ہے نہ کوئی مشترک تیرا

نثر میں مشترک کی جگہ شریک کہاجائے گا۔یہاں قافیہ نے مجبور کیاتومشترک کہنا پڑا۔ سچ تو یہ ہے کہ قافیہ ہی سے خیال اس مضمون کی طرف دوڑا۔اس کے بعد کہتے ہیں:

جمالِ احمد و یوسف ؑ کو رونق تونے بخشی ہے
ملاحت تجھ سے شیریں،حسنِ شیریں میں نمک تیرا

نمک کے قافیہ سے خیال ملاحت کی طرف گیا۔ وہاں سے حسن کی طرف ،حسن سے یوسف ؑ کی طرف۔ احمدؐ کے جمال کاذکر شامل کیا کہ حمد کے ضمن میں نعت کی بات بھی ہو۔ دونبیوں کے جمال کے ذکرسے شعر میں قوالی والی بات پیدا ہوئی۔دیگرجوقافیے ذہن میں گھومے ، ان میں سے ملک کوچن کرایک اورمضمون موزوں ہوا:

ترے فیض وکرم سے ناز و نور آپس میں یکدل ہیں
ثنا گریک زباں ہرایک ہے جنّ ومَلک تیرا

پہلے مصرع میں طبعزادخیال لائے ہیں۔ دوسرے میں قرآن مجید کی آیات کی گونج ہے۔

ایک اور قافیہ ابھرا (شک ) تواس سے جو خیال چھڑا،وہ صوفیانہ آزاد خیالی کانمائندہ ہے۔ متکلمین کے ہاں یہ نزاعی مسئلہ ہے:

کسی کو کیا خبر کیوں خیر و شر پیدا کیے تونے
کہ جو کچھ ہے خدائی میں وہ ہے لاریب و شک تیرا

اگلے شعر میں اپنی طرف سے کچھ نہیں، مشہور قصہ شعر میں باندھا ہے:

نہ جلتا طور کیوں کر، کس طرح موسیٰ نہ غش کھاتے
کہاں یہ تاب وطاقت جلوہ دیکھے مردمک تیرا

مقطع میں جودعا کی ہے، ضروردل سے نکلی ہے :

دُعا یہ ہے کہ وقتِ مرگ اس کی مشکل آساں ہو
زباں پرداغؔ کے نام آئے یارب یک بیک تیرا

اب ’’گلزارِ داغؔ ‘‘ والی نعت پڑھیے:

اللہ شوق دے مجھے نعتِ شریف کا
شہرہ ہو خوب میرے کلامِ لطیف کا

سرسبزکشتِ دل ہے محمد کے عشق میں
کیا اس زمیں میں کام ربیع و خریف کا

اللہ رے اس کے علمِ لدنیّ کا معجزہ
اُمیّ سبق پڑھائے کتابِ شریف کا

حسرت جس آبرو کی سلیمان کو رہی
یثرب میں ہے وہ مرتبہ مورِ ضعیف کا

شیطان بھاگتا ہے محمد کے نام سے
کیا خوف اس پلید و خبیث و کثیف کا

مداحِ مصطفےٰ سے کرے کوئی بحث کیا
سحباں ہے خوشہ چیں مری طبعِ ظریف کا

ادنیٰ شجاعت احمد مرسل کی دیکھنا
کیاحال جنگِ بدر میں تھا ہر حریف کا

ہے ناتوان عشقِ محمد میں پہلواں
رستم سے ہو مقابلہ کب اس نحیف کا

صبر جمیل تھا کہ ستم پر ستم سہا
بوجہل وبولہب سے ذلیل و خفیف کا

اے داغؔ شعر ڈھل گئے نعتِ شریف میں
ہے فکرِ قافیہ نہ تردد ردیف کا

اس نعت کے مقطع سے یوں لگتا ہے کہ نعت آمد کے بغیر کہی گئی ،بلکہ مطلع بھی کہے دیتا ہے کہ کہنی پڑی توکہی۔ اللہ سے دعا کی ہے یااللہ ! مجھے نعتِ شریف کا شوق دے۔اگرطبیعت میں جوش ہوتا توشوق کے ہونے نہ ہونے کاخیال ہی کیوں آتا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ داغؔ کورسول اکرمؐ سے محبت نہ تھی۔ آمد اس لیے نہ ہوئی کہ نعت گوئی داغؔ کامیدان نہ تھی، جیسے مرثیہ گوئی غالبؔ کافن نہ تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ محبت اللہ سے ہویا رسول اللہؐ سے ہویا محبوب سے ہو، پرائیوٹ ہوتی ہے۔ اس کے اعلان کا پیرایہ کیسا ہوناچاہیے ،عجیب سوال ہے۔ قیافہ سے یالہجہ سے رازِ محبت کاکھل جانا اور بات ہے، لیکن محبوب کانام لے کر محبت کاڈھنڈورا پیٹنا ایسا فعل ہے کہ شائستہ آدمی اس سے بخوبی نپٹ نہیں سکتا ۔اس عجز کا اعتراف غالبؔ نے اس مقطع میں کیا:

غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است

پہلے دیوان(’’گلزارِ داغؔ ‘‘) کی ترتیب کے ایام میں داغؔ کی خاطر جمع نہ تھی۔ رامپور کی نوکری تھکانے والی تھی۔ جوانی ڈھلنے لگی۔صدق دلی سے یہ کہنا شاید ان کے لیے ان دنوں آسان نہ تھا کہ اللہ تیرا ہزار شکرہے، اس لیے حمد اور نعت دونوں آورد سے کہی گئیں ۔ دوسرا دیوان (’’آفتابِ داغؔ ‘‘) اس کے چھ سال بعد مرتب ہوا۔ اس زمانے میں رامپور کے نواب کی عنایات سے ناراحتی کم ہوئی ،عمر اور کلام کی پختگی سے استادی کامرتبہ مسلم ہوا، سارے ملک میں کلام کی دھوم مچی، طبیعت میں شکر کی مٹھاس آئی۔’’گلزارِداغؔ ‘‘ والی حمد میں اللہ سے من وتُو کارشتہ تھا:

ع عصائے موسوی ہے حمدِ خالق میں قلم میرا

’’آفتابِ داغؔ ‘‘ میں شامل کرنے کو جوحمد کہی، اس میں رشتہ من وتو ہوکرآیا۔عشقِ مجازی سے سوز حاصل کرناداغؔ کاخاص مشغلہ رہا۔ جتناسوز حاصل ہوا اس کانذرانہ لے کراب یہ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوئے ہیں ۔اب کے حمدمیں اللہ سے سچی دوستی کی باتیں ہیں۔ عرضِ نیاز کاآغاز کیسی بے تکلفی سے کیا ہے:

اللہ رے مرتبہ مرے عجز و نیاز کا
گویا جواب ہے یہ تیرے کبر و ناز کا

دے مجھ کو داغِ عشق کہ احسان مان لوں
اس دردِ جانفزا و غمِ دلنواز کا

’’گلزارِ داغؔ ‘‘ والی حمد سپاٹ سی ہے۔اسے سن کر اللہ میاں کو ضرور رحم آیاہوگا۔ اب کے جو مضمون آفرینی ہوئی توآسمان سے ندا آئی عش عش، جیو،جیو:

کھا کھا کے رشک تیرے شہیدانِ عشق کا
غم کھا نہ جائے خضر کو عمرِ دراز کا

بگڑے ہوئے بھی تیغِ حقیقت کے زخم زخم
ہنس ہنس کے مُنھ چڑاتے ہیں عشقِ مجاز کا

نہیں معلوم اگلے شعر میں خود اپنے آگاہِ راز ہونے کادعویٰ کیاہے یاعارفوں کے عرفان کومانا ہے۔شعرکا لہجہ بہرحال والہانہ ہے:

گو مہرِ لب ہے حکم ترا اس کاکیا علاج
دل بولتا ہے خود بخود آگاہِ راز کا

اگلاشعر کہنے کوخیال کی اُلٹ پلٹ میں رہنا نہ پڑا۔ یہ شعر تر شا تر شا یا ذہن پراُترا:

عالم تمام چشمِ حقیقت نگر بنا
مُنھ دیکھتا ہے آئنہ آئینہ ساز کا

اس کے بعد چار شعروں میں قافیہ پیمائی توہوئی، لیکن خیال میں چمک نہ آئی:

یوسف کو چاہ میں تو مسیحا کو چرخ پر
عالم دکھا دیا ہے نشیب و فراز کا

ہر چند راہِ کعبہ و بُت خانہ ایک ہے
اے راہ رَو ہے کام یہاں امتیاز کا

جل جل کے تیرے عشق میں گھل جائیں استخواں
مانندِ شمع لُطف ہے سوز و گداز کا

ناکامئ دوام بھی ہو عیشِ جاوداں
ایسا اسیر ہوں ہوس و حرص و آز کا

اب خیال شکر آمادہ ہوا۔ایک شعر بیساختہ نکلا، ایسا کہ کہاوت بن جانے کے لائق ہے:

دنیا بھی اک بہشت ہے اللہ رے کرم
کن نعمتوں کو حکم دیا ہے جواز کا

پھرزور لگانا پڑا۔ دو شعر کہے۔ مبالغہ سے کام لے کر شاعرانہ بات پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ بات بنی تو بناوٹی سی:

رُتبے سے میرے، قیصر و سنجر کو رتبہ کیا
میں ہوں غلام شاہِ عراق و حجاز کا

مجھ کو نہ کیوں کراس کی غلامی سے فخر ہو
محمود ایک بردہ ہے جس کے ایاز کا

مقطع اچھا ہاتھ آیا
کونین جس کے ناز سے چکرا رہے ہیں داغؔ
میں ہوں نیاز مند اُسی بے نیاز کا

دفترِ اعمال میں ثواب درج ہوا۔کتنا ؟ یہ ہمیں معلوم نہیں۔

’’آفتابِ داغ‘‘ میں جونعت ہے، اس کامطلع سنتے ہی بے اختیار اس کے ساتھ تالی بجانے کوجی چاہتاہے :

تُو جو اللہ کا محبوب ہوا، خوب ہوا
یانبی خوب ہوا، خوب ہوا خوب ہوا

داغؔ کے تیسرے دیوان (’’مہتابِ داغؔ ‘‘) کے آغاز میں حمدکی دو نظمیں ہیں۔ ان دونوں میں ثنائے پیمبر حمدالٰہی کے ضمن میں منظوم ہوگئی ہے۔ نعت جدا گانہ نہیں کہی گئی :

میں کلمہ گو ہوں خاص خدا و رسول کا
آتاہے بامِ عرش سے مژدہ قبول کا

وہ پاک ، بے نیاز، تجسم سے ہے بری
محتاج فوق و تحت، نہ وہ عرض و طول کا

انسان سے بیان ہوں کیوں کرصفاتِ ذات
ایسا کہاں ہے ذہن ظلوم و جہول کا

دونوں جہاں میں بوئے محمد ہے عطر بیز
کونین میں ہے رنگ فقط ایک پھول کا

صلِ علیٰ! ہے نام محمد میں کیا اثر
درماں دلِ علیل و حزین و ملول کا

طاعت خدا کی اور اطاعت رسول کی
یہ ہے طریق ، دولتِ دیں کے حصول کا

یہ داغؔ ہے صحابہ عظّام کا مطیع
یہ داغؔ جاں نثار ہے آلِ رسول کا

مقطع میں آلِ رسول سے اپنی شیفتگی کے ساتھ صحابہ عظّام کااحترام بھی جتایا ہے۔اس سے داغؔ کی صلح پسندی اور وسعت قلب کا پتا ملتاہے۔داغؔ کے باپ دادا سنّی (حنفی) تھے۔رامپور اورحیدرآباد میں ان کے مربیّ شیعہ تھے۔اس شعر سے آشکار ہے کہ شاعر کومحتاط رہنا پڑا۔البتہ غور کامقام ہے کہ داغؔ کے تین دیوان جومیرے سامنے ہیں ،ان میں منقبت حضرت علیؓ شامل نہیں۔

حمد اور نعت کویکجا کرکے دوسری نظم جو’’ مہتابِ داغؔ ‘‘ کے لیے کہی گئی ،نقل کی جاتی ہے:

یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام میرا

جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری
جب تک زباں ہے مُنھ میں جاری ہو نام تیرا

ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا
احمد رسول تیرا مصحف کلام تیرا

شمس الضحیٰ محمد بدر الدجیٰ محمد
ہے نورِ پاک روشن ہر صبح و شام تیرا

اُس شاہِ انبیا کے در کا ہوں میں سلامی
آیا سلام جس کو پہنچا پیام تیرا

ہے توہی دینے والا پستی سے دے بلندی
اسفل مقام میرا اعلیٰ مقام تیرا

بے چون وبے چگوں ہے بے شبہ ذات تیری
واحد اَحَد صمد ہے اللہ نام تیرا

محروم کیوں رہوں میں جی بھر کے کیوں نہ لوں میں
دیتاہے رزق سب کو ہے فیض عام تیرا

یہ داغؔ بھی نہ ہوگا تیرے سوا کسی کا
کونین میں ہے جو کچھ وہ ہے تمام تیرا

داغؔ کے کہے ہوئے دوسلام جو’’مہتابِ داغؔ ‘‘ میں شامل ہیں ،غالباً حیدرآباد ہی میں کہے گئے۔ سلام کہنے کاخود نظام دکن محبوب علی خاں کو بھی شوق تھا۔ اس فضا میں رہ کرداغ کی طبیعت کوبھی تحریک ہوئی۔ان دوسلاموں کی زمینیں نہایت مؤثر ہیں۔ ان میں شعر کہتے ہوئے داغؔ کااخلاص ایسا گہرااور احساس ایسانازک اور اظہارایسا بلیغ ہے کہ ان سلاموں کوان کی شعرگوئی کااوجِ کمال کہنا چاہیے:

سلام
اُن کو مجرا تھے جو زیرِ آسماں بیٹھے ہوئے
بھوکے پیاسے بے وطن بے خانماں بیٹھے ہوئے

شورِماتم سن کے اہلِ بیت کا سب اہلِ شام
شادیاں کرتے تھے گھرمیں شادماں بیٹھے ہوئے

شاہ اس پر بھی اُٹھا دیتے تھے اعدا کے قدم
تیرتن پر دل پہ داغِ جاں ستاں بیٹھے ہوئے

وا دریغا دستِ عابد میں توہو اُن کی مہار
اور اونٹوں پرچلیں کچھ سارباں بیٹھے ہوئے

کربلا سے شام تک دم دم کی جاتی تھی خبر
جا بجا تھے ڈاک پرسب خط رساں بیٹھے ہوئے

اُمتِ عاصی کے حق میں شاہ نے مانگی دعا
جانبِ قبلہ زمیں پر نیم جاں بیٹھے ہوئے

جب مدینے میں شہادت کی خبر اُڑ کر گئی
کچھ کھڑے روتے تھے کچھ پیر و جواں بیٹھے ہوئے

کوفیوں نے خود بُلا کا یہ ستم برپا کیا
اپنے گھرتھے چین سے یہ شادماں بیٹھے ہوئے

حلق پر خنجر چلا سبطِ رسول اللہؓ کے
کھائی ہیں عابد نے غم کی برچھیاں بیٹھے ہوئے

بیٹھے بیٹھے پشتِ زیں پرہی پڑھی شہ نے نماز
زخم کاری تھے بہت تا استخواں بیٹھے ہوئے

راہِ تسلیم و رضا میں اہلِ بیت مصطفیٰ
صبر کا کرتے تھے باہم امتحاں بیٹھے ہوئے

کہہ رہے تھے العطش جس وقت اہلِ حرم
سب کی سنتے تھے شہِ کون و مکاں بیٹھے ہوئے

۔۔۔*۔۔۔

قطعہ
حضرتِ عابد کو زنداں میں بھی تھااتنا لحاظ
ہم سے غافل ہوں نہ در پرپاسباں بیٹھے ہوئے

رات کوجب چاپ ہوتی تھی کوئی دم کو اگر
پھرہلا دیتے تھے اپنی بیڑیاں بیٹھے ہوئے

شاہ کے ماتم میں روئے ہیں بہت حور و مَلک
دیکھنا جنت میں بھی ہوں گے مکاں بیٹھے ہوئے

حج زیارت کرچکے اب کربلا کو بھی چلو
داغؔ مدت ہوگئی تم کو یہاں بیٹھے ہوئے

۔۔۔*۔۔۔

سلام
سلام اس کو کیا جس کے نام چار طرف
اسی کے نام درود و سلام چار طرف

پڑی تھی گھیرے ہوئے فوجِ شام چار طرف
حسینؓ بیچ میں تھے روک تھام چار طرف

خضر بھی لا نہ سکے ایک بوند پانی کی
یہ اشقیا کا رہا انتظام چار طرف

نکل کے جائیں شہِ دیں نہ کربلا سے کہیں
پہنچ گیا تھا یہی حکمِ عام چار طرف

جب ایک بار ہی ساری سپاہ ٹوٹ پڑی
کیاہے شاہ نے کیا قتلِ عام چار طرف

مدد کہیں سے نہ پہنچے یہ سب کو دھڑکا تھا
حسینؓ ابنِ علیؓ کا تھا نام چار طرف

یہ عرض شاہ سے کی حُر نے کیجیے اپنا
نہ بھٹکے یا مرے مولا غلام چار طرف

عدو کی جان پہ گرتی تھی ہرطرف بجلی
چمک رہی تھی جو تیغِ امام چار طرف

اِدھر تو خیمۂ اطہر میں ہر طرف ماتم
اُدھر خوشی کی پڑی دھوم دھام چار طرف

قضا بھی آئی تو مر مر کے آئی مقتل میں
عجب طرح کا رہا اژدہام چار طرف

در آیا جب صفِ اعدا میں ابنِ شیر خدا
تو بھاگتے نظر آئے تمام چار طرف

بلا بلا کے کریں کربلا میں شہ کو شہید
پہنچ گئے تھے یہ خفیہ پیام چار طرف

ہزار قتل کیے ذوالفقار حیدرؓ نے
قضانے خوب کیا اپنا کام چار طرف

کھڑی ہوئی تھیں شہیدوں کے واسطے حوریں
لیے ہوئے مئے کوثر کے جام چار طرف

محبِ آلِ محمد محبِ حق ہوگا
یہ مشتہر ہے نبی کا کلام چار طرف

مثالِ خلطِ عناصر تھے متفق دشمن
اگرچہ پھیلے ہوئے تھے تمام چار طرف

رہے گا حشرتک اے داغؔ ربع مسکوں میں
غمِ حسین علیہ السلام چار طرف

ڈاکٹر داؤد رہبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے