سائپرس کلب

سدا اپنے جلوؤں کا جادو جگا کر
جو پر سوز نغمے سناتی ہے شب میں
مخالی مرے دوست تیری مرے۔۔۔۔
کوئی دن کی مہمان ہے اس کلب میں
جسے مدتوں شوق سے تو نے سینچا
جسے تو نے پتھر سے ہیرا بنایا
جو سالوں ترے بازوؤں میں پلی ہے
مَریاؔ کہاں اب وہ کچی کلی ہے
یہ وہسکی کی بو یہ دھوئیں کا لپکنا
دلوں کا بزوکی کی لے پہ دھڑکنا
نفس در نفس مست اوزو کی خوشبو
نظر در نظر بس مرَیا کا جادو
کہاں خوش نوا پنچھیوں کا چہکنا
کہاں نرم کلیوں کا شب میں چٹکنا
جو دل پر عبادت کے در کھولتے ہیں
وہ بت اس کی آواز میں بولتے ہیں
دھڑکتے دلوں کی نئی داستاں ہے
اسے اپنی آواز پر اب گماں ہے
اب اس کی نظر میں ٹھکانے نئے ہیں
مرَیا پہ خوابوں کے در کھل گئے ہیں
یہ لگتا ہے خواب آزما کر رہے گی
مرَیا تو یونان جا کر رہے گی
محبت سے ہنس کے اسے تو جدا کر
نہ دیوار بن اس کی راہِ طلب میں
مخالیؔ مرے دوست تیری مرَیاؔ
کوئی دن کی مہمان ہے اس کلب میں!
۔۔۔۔۔۔
(بزوکی۔ یونانی رباب)
(اُوزو۔یونانی سونف کی شراب)
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے