کٹ چکی تھی یہ نظر سب سے بہت دن پہلے

کٹ چکی تھی یہ نظر سب سے بہت دن پہلے
میں نے دیکھا تھا تجھے اب سے بہت دن پہلے

آج تک گوش بر آواز ہوں سنّاٹے میں
حَرف اُترا تھا ترے لب سے بہت دن پہلے

میں نے مستی میں یہ پوچھا تھا کہ ہستی کیا ہے
رفتگانِ مئے و مشرب سے بہت دن پہلے

مسلکِ عشق فقیروں نے کیا تھا ایجاد
اے مبلّغ ترے مذہب سے بہت دن پہلے

پھر کسی مَے کدہ ء حسن میں ویسی نہ ملی
جیسی پی تھی کسی خوش لب سے بہت دن پہلے

ایک شخص اور ملا تھا مجھے تیرے جیسا
تو نہ تھا ذہن میں جب، جب سے بہت دن پہلے

حضرتِ شیخ کا اک رند سے رشتہ کیسا
ہاں ملے تھے کسی مطلب سے بہت دن پہلے

کیا تری سادگیء طبع نئی شے ہے شعورؔ
لوگ چلتے تھے اسی ڈھب سے بہت دن پہلے

انور شعورؔ​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے