کرونا وائرس: کیسے اور کہاں تک پھیل سکتا ہے؟

کرونا وائرس
یہ وائرس کتنا مہلک اور متعدی ہے؟
اس کی علامات کب ظاہر ہوتی ہیں اور کیا مریض علامات ظاہر ہونے سے پہلے اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے؟
ماہرین ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن اب تک کوئی واضع جواب نہیں ملا-
اب تک کے اعداد و شمار
جمعرات تک کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۵٦۵ تک جا پہنچی ہے جبکہ اس سے لگ بھگ ۲۸ ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں-
کرونا وائرس چین کے صوبے ہیوبے کے ووہان شہر سے پھیلتا ہوا دنیا کے ۱۵ ممالک تک جا پہنچا ہے-
2019-nCoV وائرس جو اسے نام دیا ہے- کرونا وائرس فیملی سے تعلق رکھتا ہے جو اس سے قبل بھی دو وبائی بیماریوں کا موجب رہ چکا ہے-
۲۰۰۲/۰۳ میں سارس سے ۷۷۴ لوگ مارے گئے تھے اور ۸۰۹٦ اس سے متاثر ہوئے تھے- یہ گوانڈانگ صوبے سے شروع ہوا تھا-۲۰۱۲ کے ایم-ای-آر-ایس کے نتیجے میں ۸۵۸ لوگ مارے گئے تھے جبکہ ۲۴۹۴ لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے-

سارس اور ایم-ای-آر-آیس کے مریضوں کے مرنے کا تناسب بالترتیب ۹۔۵ اور ۳۴۔۵ فی صد تھا جو کہ موجودہ وائرس سے کافی زیادہ ہے-
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں ایمرجنسی رسپانس ڈائریکٹر مایئکل ریان کا کہنا تھا کہ متاثرہ میں سے اب تک صرف دو فیصد لوگ اس میں مارے گئے ہیں-
یہ کتنا وبائی ہے؟
یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے پروفیسر ڈیوڈ فش مین کے مطابق ایک کرونا وائرس مریض سے ۱۔۴ سے ۳۔۸ لوگ متاثر ہوتے ہیں-
تاہم برٹش امپیریل کالج کے سائنسدانوں کے مطابق یہ اوسطً ۲۔٦ لوگوں کو متاثر کرتا ہے جو کہ سالانہ انفلوئنزا کی وبا کے برابر ہے-
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کا شکار ہونے سے لے کر اس کی علامات ظاہر ہونے میں اوسط ۵۔۲ دن کا وقت لگتا ہے-
یہ کب وبائی بنتا ہے؟
اتوار کے دن چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس بیماری کا پھیلاؤ علامات ظاہر سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے-
فلو کے کیس میں بھی ایسا ہی ہے لیکن سارس کے معاملے میں ایسا نہ تھا-
لیکن کچھ ماہرین جن میں یونیورسٹی آف آیڈنبرگ کے انفیکشیس ڈیزیز ایپیڈمیولوگی کے پروفیسر مارک وول ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ علامات ظاہر ہونے سے پہلے یہ منتقل ہوسکتا ہے-
انسان سے انسان میں منتقلی
یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ وائرس جنگلی جانوروں سے نکلا ہے یا شاید چمگادڑوں سے لیکن اب یہ انسان سے انسان میں منتقل ہو رہا ہے-
ایسے تمام کیس چین میں دیکھنے میں آئے ہیں لیکن مٹھی بھر ایسے کیس ویتنام، جرمنی اور جاپان میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں-
واشنگٹن کے سینٹر فار سٹریجک اینڈ انٹرنیشنل سٹدیز کے ستیفن موریسن کا کہنا تھا کہ عالمی طور پر چند سیکنڈری منتقلی کے کیس سامنے آئے ہیں- البتہ انہوں نے محدود صحت کے وسائل والے ممالک میں سیکنڈری منتقلی کا خدشہ ظاہر کیا ہے-
کرونا وائیرس سے کیسے بچا جائے؟
اس کی علامات کیا ہیں؟
بدھ کو لیسنٹ فاؤنڈ میں شائع ہونے والی ۹۹ کرونا وائرس کے مریضوں پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق آدھے سے زیادہ مریض دل کے عارضے یا شوگر کے مرض میں مبتلا تھے-
تمام مریضوں کو نمونیا تھا، زیادہ تر کو بخار بھی تھا- ان میں سے ۸۰ فی صد کو کھانسی جبکہ آدھے سے زائد کو سانس میں دشواری کی شکایت تھی-
کرونا وائرس کی علامات کو جاننا ضروری ہے اور مشکل بھی کیونکہ ایسے وقت میں موسمی نزلہ بھی ہوتا ہے جس کی علامات بھی ایسی ہی ہیں-
انفیکشن سے بچاؤ
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وائرل بیماریوں سے بچنے کے لیے معیار وہی پرانا ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں، منہ ڈھانپ کر کھانسیں اور اپنے چہرے پر حاتھ مت لگائیں-
جو بھی وائرس کی زد میں آئے اسے تنہائی میں رکھیں-
چین کی ٹیم نے گزشتہ ہفتے لانسٹ سٹڈی میں گزشتہ ہفتے خبردار کیا ہے کہ یس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ بہت سے مریض سارس اور ایم-ای-آر-ایس کا شکار ہیلتھ کیئر میں ہوئے تھے ہمیں ایسا کرنے سے احتیاط کرنا ہوگی-
بشکریہ: SBS

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے