کرونا سے مکالمہ

"کرونا سے مکالمہ "
کرونا مریض: یہ… یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ… اتنی گھبراہٹ کیوں ہو رہی ہے مجھے… دو دن سے تیز بخار، کپکپاہٹ، پورے جسم میں شدید درد اور ساتھ میں خشک کھانسی… کھانس کھانس کر برا حال ہو گیا ہے اب تو حلق بھی جیسے چھل سا گیا ہو- جسم سے جیسے جان سی نکل رہی ہو-
(ہاہاہاہاہا……) ایک قہقہہ
کرونا: ابھی تو اور بھی بہت کچھ ہوگا کیا ہوتا اگر تم تھوڑی سی احتیاط کر لیتے
کرونا مریض:کک.. کک.. کون… کون ہے یہ
کون بول رہا ہے میرے اندر سے
یہ آواز کہاں سے آرہی ہے؟؟
کون ہو تم جو اس طرح مجھ پر ہنس رہے ہو قہقہے لگا رہے ہو؟؟؟
کرونا: ارے!!!! پہچانا نہیں تم نے مجھے "میں ہوں کرونا”
کرونا مریض: کیا کہا تم ہو کرونا.. تم میرے اندر کیسے آگئے؟؟ ؟
کرونا: تم نے احتیاط جو نہیں کی تھی اس لیے میں آسانی سے تمہارے جسم میں داخل ہوگیا اور تمہیں بیمار کرتا جا رہا ہوں-
کرونا مریض: لیکن تم کرونا کیسے ہو سکتے ہو؟ میں نے تو نہیں سنا کہ کرونا کا وائرس بات بھی کرسکتا ہے-
کرونا : ہاں صحیح سنا تم نے بات کرنے کا وقت ہی کہاں ہے ہمارے پاس ہم تو بس اپنا کام کرنے میں لگے ہوئے ہیں خاموشی سے خاموش رہتے ہوئے- باتیں تو انسان کرتے ہیں اور کرتے کچھ نہیں-
کرونا مریض: لیکن تم کہاں سے آئے ہو اور کیوں ہم سب کو پریشان کیا ہوا ہے-
کرونا: آئے تو ہم سب سے پہلے چین میں تھے اور کیسے آئے اس سب کو چھوڑ دو اب بہت باتیں ہوگئیں اس پر بس یہ ہے کہ جب تک وہ بے چارے سنبھلتے ہم وہاں کافی تباہیاں پھیلا چکے تھے- لیکن سلام ہے اس قوم پر جو ہمت ہاری ہو اور ہمارا مقابلہ کرتے رہے یہاں تک کہ ہمیں وہاں سے نکل کر دوسرے ایسے ممالک میں جانا پڑا جنہوں نے ہمیں غیر سنجیدگی سے ہلکا لے لیا-
کرونا مریض: اچھا تو تم ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچے کیسے؟
کرونا: لوگوں کے ذریعے.. ایک بارڈر سے دوسرے بارڈر تک-
ایک ملک سے دوسرے ملک- جب تک بارڈر بند کیے گئے ہمیں پوری دنیا میں پھلنے پھولنے کا خوب موقع مل گیا-
کرونا مریض: اوہ….
کرونا: اور یہ بہت آسان تھا ہم لوگوں کے حلق میں کچھ گھنٹے آرام کرتے اور پھر ان کے پھیپھڑوں میں مستقل قیام کرنے اندر تک اتر جاتے اور پھر ان کے جسم کی مدافعتی نظام کو کمزور کرنا شروع کردیتے ہیں- نتیجتاً ہمارا شکار شدید ترین مسلسل خشک کھانسی اور تیز بخار کا شکار ہو جاتا ہے-
بس پھر اس کے کھانسنے، چھینکنے، ہاتھ ملانے، گلے لگانے سے ہم اس سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہو کر ان کو بھی ویسا ہی بیمار کردیتے ہیں- اور ہمارا پھیلاؤ کا طریقہ کار بہت مربوط و منظم اور وسیع ہے ہم ہفتوں نہیں، دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں میں خود کو تقسیم کرتے ہوئے اپنی تعداد بڑھاتے رہتے ہیں-
کرونا مریض: تم تو واقعی بہت بڑا خطرہ ہو ہر ایک کے لیے- میں نے سنا ہے کہ جس کے جسم میں تم چلے جاتے ہو اس کی جان لے کر ہی پیچھا چھوڑتے ہو-
کرونا: نہیں ایسا نہیں ہے ہم خطرناک تو ہیں اگر ہم کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو لیکن جانی نقصان عموماً ان لوگوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے جن کا مدافعتی نظام کسی بھی وجہ سے پہلے سے ہی کمزور ہو بس پھر ہم ان پر بھرپور طریقے سے حملہ آور ہو کر جانی نقصان کردیتے ہیں- جوان لوگ پھر بھی ہمارا مقابلہ کر لیتے ہیں لیکن بچوں اور بوڑھوں کے لیے ہم بہت خطرناک ثابت ہوتے ہیں-
کرونا مریض: تو بھئی آخر تم سے بچا کیسے جائے؟ ؟؟
کرونا: اچھا سوال کیا تم نے-
کرونا: مجھ سے اگر بچنا ہے تو بس احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے- ورنہ میری تباہ کاریاں انسانی سوچ سے باہر ہیں- دیکھا نہیں اٹلی میں لوگوں کا کیاحال کیا میں نے؟ اس قوم نے مجھے غیر سنجیدگی سے لیا اور کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں نہ اسکول بند کیے نہ کالج، نہ آفس نہ ریستوران-
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج سے ٹھیک ایک مہینہ پہلے جہاں اٹلی میں مجھ سے صرف ایک ہی شخص متاثر ہوا تھا آج صورتحال یہ ہے کہ وہاں لاشیں دفنانے قبرستانوں میں جگہ کم پڑ رہی ہے- اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں اور لوگ اذیت ناک موت کے انتظار میں سسک رہے ہیں-
کرونا مریض: تم تو واقعی بہت خطرناک ہو…..
اچھا تو وہ کونسی احتیاطی تدابیر ہیں جنکو اختیار کرکے تمہاری شرانگیزی سے بچا جاسکتا ہے؟؟؟؟ ؟
کرونا: اچھا تو تم بچنا چاہتے ہو لیکن اگر میں نے یہ سب تمہیں بتادیا تو یہ تو آ بیل مجھے مار والا معاملہ ہو جائے گا- کرونا ایک واشگاف قہقہہ لگاتے ہوئے بولا
کرونا مریض: پھر بھی کچھ پتا تو چلے کہ آخر تم سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟؟
کرونا: ہمممممم!!! دو دن سے تمہارے اندر ہوں… بھلے مانس لگتے ہو تم… چلو بتا ہی دیتا ہوں تم کو…
اگر مجھ سے بچنا ہے تو…….
اپنے منہ اور ناک کو کسی ماسک سے ڈھانپ کر رکھو- کیونکہ میرا سائز بہت چھوٹا یہی کوئی 400 سے 500 مائیکرون قطر ہے تو میں کسی بھی موٹے ماسک سے نہیں گزر سکتا-
میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے سے اور گلے ملنے سے یا ٹچ کرنے سے با آسانی منتقل ہو جاتا ہوں اور ایک مریض سے کسی بھی علاقے کے تیس فیصد لوگوں کو متاثر کر سکتا ہوں-
کرونا: (مزید کہتے ہوئے) ارے تم نے زومبیز کی موویز نہیں دیکھیں، کس طرح ایک سے دوسرے کو کاٹنے یا حملہ کرنے سے دوسرا انسان بھی زومبیز بن جاتا ہے بالکل اسی طرح ایک متاثرہ مریض کو چھونے سے دوسرا شخص بھی میرا شکار ہوجاتا ہے-
لیکن یہ بھی ہے کہ ہر تھوڑی دیر بعد کسی بھی عام صابن سے ہاتھ دھونے سے میں ختم ہوجاتا ہوں-
عمدہ غذا جسمیں پھل، سبزیوں اور وٹامن سی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے انسان یا مریض کو طاقتور جبکہ مجھے کمزور کردیتی ہے-
جو لوگ پہلے سے ہی نزلہ اور بخار کا شکار ہوں ان سے تو میں بآسانی منتقل ہو سکتا ہوں یا ان میں اپنی جگہ بنا سکتا ہوں-
صفائی کا خاص خیال میری نشوونما کو روک دیتا ہے-
تم مسلمان تو پھر بہت اچھے ہو کہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے کے لیے وضو کرتے ہو اپنا چہرے کو بار بار گیلا کرتے ہو اور ہاتھ دھوتے ہو- یہ سب ہمیں بڑھنے سے روکتا ہے-
لیکن مجھے یہ دیکھ کر بہت ہی حیرت ہوئی کہ تم لوگوں نے ابھی تک مجھے سنجیدگی سے نہیں لیا اور مجھ سے متعلق ہنسی مزاق میں لگے ہوئے ہو- سوشل میڈیا پر ہر شخص کچھ نیا لے کر آ رہا ہوتا ہے اور عوام قہقہے لگا رہی ہوتی ہے- یا پھر دوسری جانب کچھ لوگ پوسٹس پر پوسٹس لگا کر صرف مجھ سے متعلق خوف و ہراس پھیلانے میں مشغول ہیں- ڈرنے والے اور خوفزدہ لوگوں کو تو میں اور ڈراؤں گا ہاں جو مجھے سنجیدگی سے لیتے ہوئے میرا توڑ کرنا شروع کر دیں گے تو اصل خطرہ مجھے ان لوگوں سے ہی ہے-
کرونا مریض: یہ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو تم سے واقعی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تم سے ہم سب کو انفرادی طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے- تمہارے خلاف جنگ میں ہم عوام کو انفرادی طور پر حکومت اور پاکستانی فوج کا ساتھ دینا ہوگا، خود کو اپنے گھروں تک محصور اور محدود کرکے، اپنا اور اپنی فیملی کا خیال کرتے ہوئے- صرف اسی طریقے سے دوسری تمام فیملیز محفوظ رہ سکیں گی- تمہارے پھیلاؤ سے بچاؤ میں اصل کردار عوام کا ہی ہوگا تبھی تمہیں بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے-
کرونا: ہاہاہاہاہاہا کرونا ایک بھرپور قہقہہ لگاتے ہوئے –
حکومت نے تو لاک ڈاؤن کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے لیکن تمہاری عوام اور خصوصاً نوجوان نسل اس لاک ڈاؤن کو تفریح کے طور پر لیتے ہوئے گلی محلوں میں کرکٹ کھیلتے ہوئے اور فرینچ فرائز کھاتے ہوئے نظر آ رہی ہے- رات کو دیر تک گلی کے کونوں اور چبوتروں پر مرد حضرات بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہیں- شام کو معصوم بچے کھیل کود میں مشغول نظر آتے ہیں شاید ان کے والدین کو ان ننھی جانوں کی فکر نہیں-
یاد رکھو!!!! جس وقت تمہاری عوام میں انفرادی طور پر میرے خلاف مکمّل آگاہی اور شعور آگیا، بس اسی دن میری اصل موت واقع ہو جائے گی-
لبنیٰ مقبول غنیمؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے