کورونا حقیقت کیا ہے

کورونا حقیقت کیا ہے
کورونا کی اصل حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔جو دو جہانوں کے مالک ہیں۔ انسان اسکی حقیقت سمجھنے کی جستجو میں ہے۔ کہ کورونا کیا ہے اور کیسے آیا۔ اس پر قابو پانے کے ممکنہ طریقے کیا ہو ں گے۔در اصل کورونا وائرس سارس وائرس کی ایک قسم بتایا جاتا ہے جو 2002میں پھیلا اب کووڈ 2019جو چائنہ کے شہر وہان کی زندہ جانوروں کی منڈی سے شروع ہوا۔ پہلے 41 مریضوں میں سے 27کا تعلق اسی منڈی سے تھا۔ اس وقت دنیا میں اس وائرس سے متاثرین کی تعدا د 14لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اور تقریباً 2لاکھ پچاس ہزار کے قریب یہ لوگوں کو نگل گیا ہے۔ اور تقریباً چار لاکھ کے قریب لوگ صحت یاب بھی ہوئے۔ چائنیز مفروضے کے مطابق یہ وائرس 27ڈگری سنٹی گریڈ تک زندی رہ سکتا ہے اس کے بعد اس کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ لیکن بعد کی تحقیقات کے مطابق اس مفروضے کو غلط قرار دے دیا گیا۔ کافی دنوں تک تو بالکل پتہ نہ چل سکا کہ یہ کیا ہے مگر تقریباً ایک ماہ کے بعد چائنیز اس بیماری کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے۔ کیونکہ سارس وائرس چمگادڑ سے پھیلا تھا اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس بھی اسی سے پھیلا ہو گا۔ ابھی تک یہ بات معمہ بنی ہوئی ہے کہ یہ وائرس چمگادڑ سے انسانوں میں کیسے منتقل ہوا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ وائرس معاشرتی تعلق سے پھلتا ہے تو چین سے پوری دنیا میں کیسے چلا گیا۔ یا اسے پوری دنیا میں بھیجا گیا۔ موناش یونیورسٹی کے شعبہ مائیکروبیالوجی کے پروفیسر اسٹیفن ٹرنر کا خیال ہے کہ اس مفروضے کی بنیاد پر کہ یہ انسان اور جانور کے تعامل سے ہوتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ حتمی ہے۔ مگر 2002کا سارس وائرس چمگادڑ سے ہوا تھایہ گھوڑے کی چمڑی، بلی اور چند دودھ دینے والے جانوروں کی وجہ سے منتقل ہوا تھا۔ پروفیسر ایڈورڈ ہولمس کے مطابق چمگادڑ سے انسانوں میں یہ وائرس کیسے پیوست ہو سکتا ہے۔ اسکی وجہ پینگوئن ہو سکتی ہے۔ پینگوئن کی تجارت دنیا بھر میں غیر قانونی ہے۔ اور وہان میں بھی اس کے گوشت بیچنے پر پابندی ہے مگر غیر قانونی طور پر اس کا گوشت فروخت ہو تا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پینگوئن کی وجہ سے بلی، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور کبوتر متاثر ہوئے۔ ہولمس کا خیال ہے کہ کسی متاثرہ جانور سے انسان مارکیٹ میں ٹکرایا۔ اور یہ وائرس انسان میں منتقل ہو گیا۔ پروفیسر سٹینلے پرل مین کا خیال ہے کہ وائرس کا جینیاتی مواد پہلے ہی مارکیٹ میں موجود تھا۔ پرل مین کا کہنا ہے کہ کوئی نہ کوئی وسطی واسطہ ہے۔ لیکن پینگوئن ممکنہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کلیدی بیچوان کون ہے۔
ایک نظرئیے کے مطابق یہ وائرس ان لوگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر بچے اور پچاس سال سے اوپر کے لوگ۔ اس کے باوجود بہت حد تک نوجوان بھی اس کی ضد میں آئے۔ اور ان کی اموات بھی ہوئیں۔ ایک واضع تاثر ہے کہ اگر یہ وائرس جانداروں کو متاثر کرتا ہے۔ تو ابھی تک کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی کہ کتنے جانور یا پرندے متاثر ہوئے اور ان کی مرنے کی شرح کیا ہے۔ یا یہ صرف انسانوں کو ہی متاثر کرتا ہے۔ اگر جانوروں کو متاثر کرتا ہے ہو ممکن ہے کہ ان کا مدافعتی نظام انسانی مدافعتی نظام سے مضبوط ہو۔ یا پھر کسی بین الاقوامی سازش کے تحت اس کو پھیلایا گیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق دسمبر 2019میں وہان میں ایک بین الاقوامی فوجی میلالگا۔ جس میں امریکی فوجی بھی سازوسامان کیساتھ شریک ہوئے۔ تو اس وقت یہ بات سامنے آئی۔ کہ انہوں نے اس وبا ء کے وائرس چھوڑے ہیں۔چند دن بعد امریکی صدر کا ایک بیان کہ یہ وباء دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اور امریکہ میں اگر دو لاکھ کے قریب بھی ہم نے اموات کو روک لیا تو ہم سمجھیں گے کہ ہم کامیا ب ہو گئے ہیں۔ اہل دانش کا خیال ہے کہ اس وباء کے پیچھے یہودو نصارا کے مکروہ عزائم ہیں۔ جیسا کہ ستمبر 2011میں ایک خود ساختہ منصوبے کے تحت امریکہ نے twin tower گرا کر مسلمانوں پر ظلم کا بازار گرم کر دیا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس وباء کو بھی اسی طرح استعمال کیا جائے گا۔ اس کی ایک مثال 2011میں شائع ہونے والی انگریزی فلم contagion کی کہانی ہے۔ جو بالکل اسی واقع سے مطابقت رکھتی ہے۔ ایک امریکن خاتون کی دوستی ہانک کانگ کے ایک شخص سے ہوتی ہے۔ وہ اسے ملنے آتی ہے۔ بیمار ہو کر مر جاتی ہے تحقیق کی جاتی ہے معلوم ہو تا ہے کہ اس نے ایک ہو ٹل میں اپنے دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ جس میں سور کا گوشت تھا۔ سوار نے کیلا کھایا۔ ایسا کیلا جو چمگادڑ کے منہ سے گرا تھا۔ جس کی وجہ سے سور میں یہ وائرس داخل ہو گیا اور وہ انسان میں چلا گیا۔ اس فلم میں بھی اس کا نام کورونا وائرس رکھا گیا ہے۔کیا اسی سکرپٹ کو تو عملی جامہ نہیں پہنایا جا رہا۔
ایک خیال کے مطابق چیرٹی کے بڑے بڑے نام مثلاً بل گیٹس۔گوگل اور بہت سے۔ اپنی مقبولیت کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرتے۔ افریکا کہ غریب عوام اور بہت سے ایسے غریب ممالک مگر ان کو میانمار میں مسلمانوں کو زندہ کا ٹنے۔شام پر کارپٹنگ بمباری سے لاکھوں لوگوں قتل۔ عراق پر ناجائز حملہ۔کشمیر میں تین سو دن سے لاک ڈاؤن یہ باتیں کیوں نظر نہیں آتیں اس لئے کہ ان کے ایجنڈے چیرٹی نہیں کچھ اور ہوتے ہیں۔ آج سے پچپن سال پہلے ہمارے سکولوں میں سوکھا دودھ کے ڈبے اور پیسے دئے جاتے تھے۔ جس کے بدلے وہ عیسائیت کی تبلیغ کرتے تھے۔ مشنریاں کام کرتی تھیں۔ آج بھی وہ اسی مشن پر قائم ہیں اور طریقہ کار بدل گیا ہے۔ اس وباء کے پیچھے ایک گھناؤنی سازش یہ بھی ہو سکتی ہے۔ بش نے نیو ورلڈ آرڈر جاری کیا تھا۔ جس میں گریٹر اسرائیل کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ ممکنہ طریقوں سے یہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ رہا تھا۔ مندرجہ فلم سکرپٹ کے مطابق امریکا میں سب سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ اور پوری دنیا کے عوام نفسیاتی طور پر قائل ہو چکے ہیں کہ یہ وباء 210ملکوں کو نقصان پہنچا چکی ہے۔ پچھلے دنوں اسرائیل کے وزیر ایک تقریر میں کہہ رہے تھے کہ اگر ستر فیصد اسرائیلی بھی اس وباء کا شکار ہو جائیں تو ہمیں تب بھی کو ئی فرق نہیں پڑتا۔ سوچنے کی بات ہے تب امریکہ س یا کہیں اور سے ویکسین کی خبر آئے۔ تب تک ساری دنیا اس نرغے میں پھنس چکی ہو گی۔ اور اقوام متحدہ کی شکل میں ایک بین الاقوامی ھکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔
ایک اور نظریہ گردش کر رہا ہے۔ کہ 5Gٹیکنالوجی کی وجہ سے کرونا وائرس بہت زیادہ حساس ہوا۔ میرے خیال کے مطابق مائیکروسافٹ اور گوگل کی یہ سازش بھی ہو سکتی ہے۔ کہ 5Gٹیکنالوجی کے ذریعے انسانوں کو روبوٹ کی طرح کنٹرول کیا جائے گا۔ اور جو ویکسئین آئے گی۔ وہ انسانی ذہن کو اس ٹیکنالوجی کے تابع بنا دے گی۔
میرے مطابق یہ عذاب الہی ہے۔ انسان خود کو ناقابل تسخیر سمجھنا شروع ہو گیا تھا۔ کہ ہم نے ایٹم بم بنا لئے۔چاند، مریخ اور بہت سے سیاروں مسخر کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالی کی طاقتوں کو بھول گیا۔ مسلمان بھی دین سے راہ فرار، غیر مسلموں کا دنیا بھر کے مسلمانوں پر اندھا دھند ظلم۔ رسول اللہ ﷺ کا فرما ن ہے کہ جب شام میں افراتفری ہو گی تو پوری دنیا اس کا شکار ہو گی۔ شام میں مسلمانوں کا قتل عام۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشت گردی۔تب کسی مظلوم کی آہ اللہ تعالی تک پہنچ گئی۔ اور اللہ تعالی نے یہ عذاب نازل کر دیا۔ اور اپنی لا زوال ہستی کی موجودگی کا اظہار کر دیا، اللہ تعالی رب العالمین ہیں۔ گڑ گڑا کر معافی مانگیں۔اللہ تعالی غفورالرحیم ہیں۔
عابد خان لودھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے