کرونا بوسٹر

اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ کرونا نے انتہائی غریب اور مڈل کلاس کے لوگوں کو ہی نقصان پہنچایا ہے۔کرونا نہ صرف یہ کہ امیروں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا بلکہ اس نے انہیں فائدہ ہی پہنچایا ہے کیونکہ وہ مزید امیر ہوئے ہیں۔
[امریکہ کی دو بڑی دواساز کمپنیاں جو پہلے ہی کرونا کی ویکسین سے اربوں ڈالر کماچکی ہیں، اب ’’کرونا بوسٹر‘‘ لانے کی تیاری میں ہیں۔ یہ کمپنیاں پھر اربوں ڈالر کمائیں گی۔]
[گزشتہ دو سالوں میں کرونا کی مہاماری کے دوران ایک طرف تو یہ ہوا کہ لاکھوں گھر برباد ہوگئے اور اربوں کھربوں چھوٹے بیاپاریوں کے کاروبار ڈوب گئے اور دوسری طرف یہ بھی ہوا کہ دنیا کے ارب پتیوں کی فہرست میں تقریبا 500 نئے ارب پتی مزید پیدا ہوئے۔۔۔]
امیری اور غریبی کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے
امیری اور غریبی کے درمیان صدیوں کا فاصلہ توسالہاسال سےموجود تھا مگر گزشتہ دو سالوں میں جب سے کووڈ -19 کی وبا نے دنیا کے دروازے پر دستک دی ہے ، تب سے یہ فاصلہ مزید بڑھا ہے ۔اب صورت حال ایسی ہے کہ دنیاکے دس فیصد انسان سونے کی تھالی اور پیالیوں میں کھاتے پیتے ہیں اورباقی نوے فیصد انسانوں کے پاس نہ کھانا ہے نہ تھالی ہے۔
اگر رپورٹس اور خبروں پر اعتبار کریں توگزشتہ دو سالوں میں غریب مزید غریب ہوئے ہیں اور مالدار مزید مالدار بن گئے ہیں۔ایک خبر کی سرخی ہے’’کورونا کا بُوسٹر: دوا ساز اداروں پر سونے چاندی کی برسات‘‘۔اس خبر کے تحت یہ تفصیل بھی آئی ہے کہ دنیا بھر کی دوا ساز کمپنیوں نے کووڈ- 19 کی ڈوزس سے اربوں روپے کمائے ہیں۔ مگر اب کرونا کی دو ڈوز کے بعد ’کرونا بوسٹر‘ کو بھی مارکیٹ میں لانے کی تیاری ہے اور اب یہ کمپنیاں اس بوسٹر سے مزید اربوں کھربوں روپیے کا کاروبار کریں گی۔نیوز دیکھیں:
’’ امریکی دوا ساز ادارے فائزر اور اس کی جرمن پارٹنر کمپنی بائیو این ٹیک اور موڈیرنا پہلے ہی سن 2021 اور 2022 میں ویکسین کی ممکنہ فراہمی سے ساٹھ بلین ڈالر سے زائد کما چکے ہیں۔ اب یہ کمپنیاں بُوسٹر کی فراہمی میں بھی اربوں ڈالر کمانے کی اہل ہو گئی ہیں۔ مالی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بُوسٹر کی فراہمی پر ان دونوں کمپنیوں کو اربوں ڈالر ملیں گے۔ ان کے مطابق فائزر بائیو این ٹیک 6.6 بلین ڈالر اور موڈیرنا 7.6 بلین ڈالر حاصل کر سکیں گی۔ یہ بُوسٹر سن 2023 تک فراہم کرنے ہوں گے۔‘‘(DW.com )
ایک اور نیوز ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں کم از کم 493 نئے ارپتی پیدا ہوا ئے ہیں:
’’ گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 493 افراد ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔قوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی آدھی آبادی دنیا کی 99 فیصد دولت کی مالک ہے، جبکہ دنیا کی بقیہ آدھی آبادی صرف ایک فیصد دولت پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔‘‘
موجودہ دنیا کی آبادی 7.9 بلین ہے اور مسلمان 1.9 بلین ہیں،نیز پچاس سے زائد چھوٹے بڑے ممالک میں مسلمانوں کی حکومتیں ہیں، بڑے بڑے لیڈر ہیں،ماہرین اقتصادیات ہیں اور علماء ہیں، مگر پھر بھی ان سب کی سوچ یہی ہے کہ ان کو ان سب عالمی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔ان مسائل کو حل کرنے میں ان کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی، نہ ان کے اپنے مسلم ممالک کے دستور میں کوئی گائڈ لائن ہے اور نہ ہی اسلام ان پر ایسی کوئی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اس نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ امیرو غریب کے درمیان فاصلے مٹ جائیں اور دولت چہار طرف سے بہتی ہوئی امیروں کی تجوریوں میں جمع نہ ہوتی رہے۔یہ مسلمانوں کی عجیب ذہنیت ہے اور ان کے ذہنوں میں موجود اسلام کا عجیب تصور ہے۔

ابوفہد، نئی دہلی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے