چپ فقیر گواہ رہنا

چپ فقیر گواہ رہنا
گاڑی نے جونہی پرانی ماڑی کا دلفریب اور پر پیچ موڑ کاٹا تو سامنے کا منظر ہی بدل گیا۔ چھوئی ڈکی اور پھر کالا باغ کا نشانِ عظمت سلاگر کا پہاڑ سینہ پھیلائے خاموش کھڑا تھا۔ دریائے سندھ کے پر سکون اور کشادہ سینے پر گھنے باغات کے اوپر شمال کی جانب پہاڑی پر بنے تہہ در تہہ کچے مکان اپنے اندر بہت سی بھولی بسری داستانیں سموئے خاموش کھڑے تھے۔ دور سے دیکھتے ہوئے ان کچے پکے گھروں پر گتے کے مصنوعی گھروندوں کا گمان گزرتا تھا۔
مجھے اپنے آبائی الف لیلوی قصبے کالا باغ کا یہ منظر انوکھا اور نیا لگا۔ ممکن ہے یہ اس لیے بھی ہو کہ میں طویل عرصے کے بعد یہاں آیا تھا۔۔۔۔۔ میں موڑ پر ہی اتر گیا اور دریا کی سمت پھیلی ریت پر چل پڑا، جو سڑک سے ایک فرلانگ ہٹ کر پر سکون بہہ رہا تھا۔دن بھر کے سفر کے بعد ریت پر چلتے ہوئے میں اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا یوں جیسے خلا ء میں چہل قدمی کر رہا ہوں۔ میری نگاہیں کسی خود کار کیمرے کی طرح دریا کے اس پار قصبے کے ایک ایک گوشے کا طائرانہ جائزہ لینے لگیں۔ ایسے میں مجھے معصوم اور بے گناہ سارہ کا خیال ستانے لگا۔ جس نے بے قدری کے اس دور میں سرِ عام جرمِ محبت کا اقرار کیا تھا مگر جھوٹی انا کی خود ساختہ مسند پر بیٹھے تنگ نظری کی عینک لگائے سماج کے آگے سر نگوں ہونا گوارا نہ کیا۔جس کی پاداش میں اسے حسبِ روایت سخت سزا دی گئی۔
میں نے دریا کے کنارے پہنچ کر چٹان پر بیگ رکھا، جوتے اتارے اور دریا کے دھڑکتے سینے میں اپنے پیر گاڑ دئیے، جیسے کئی سال سے بچھڑی دریائے سندھ کی تہذیب و ثقافت سے میرا ربط پھر سے جڑ گیالیکن شہید وفا سارہ کی موت کا تصور دل فگار، میرے دل و دماغ کو بوجھل کرتا چلا گیا۔ دن بھر کا تھکا ماندہ سورج ابھی تک مغربی افق پر عالمِ رنگ و بو کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ سارہ کو یاد کرتے ہوئے نگاہ اٹھی تو سامنے اتلے پتن کے دریا میں گم ہوتی ہوئیں سنگیں سیڑھیوں پر قطار میں بیٹھی ناریاں کپڑے دھونے میں محو تھیں۔ کبھی سارہ بھی ان کے ساتھ پتنوں کی رونق بڑھایا کرتی تھی۔ کپڑے دھوتے دھوتے اچانک کسی کو پانی میں شڑاپ سے دھکا دے دیا کرتی یا خود پانی میں چھلانگ لگا کر سکھیوں کو بھگو دیا کرتی مگر اب سارہ کے وچھوڑے نے جیسے اس کی سکھیوں کے ہونٹوں سے ڈھولے، ماہیے اور گیت چھین لیے تھے۔ اب پتن ان کے لیے پتن نہیں بیگار کیمپ ہو کر رہ گئے تھے۔ جہاں وہ نرم و نازک ہاتھوں سے سارا سارا دن بیٹھی گھر والوں کے میلے کپڑے دھوتیں یا پھر پانی بھرتی تھیں ۔ بدلے میں فقط ان کی سانسوں کا رشتہ سلامت تھا۔ ایک ردائے غم تھی جو ان کے اطراف میں تنی ہوئی تھی۔ ایسے میں سارہ کی پتن پتن بھٹکتی بے چین روح شاعر وفا چستی کی سرائیکی کافی کے بولوں میں تحلیل ہوئی محسوس ہونے لگی۔۔۔۔
"کون کرم نروار وے سانول
کون کرم نروار۔۔۔۔۔
بھاہ برہوں دی جی بت پھوکے،
کلی جند پتناں تے کوکے
دریا تار متاراں شوکے،
سائیں سنگ اترنا پار
بٹھ پووے اروا ر وے سانول۔
کون کرم نروار۔”
ماحول کی سوگواری میں اضافہ ہو چلا تھا۔ اتلے اور تلمیں پتن بیٹھی کپڑے دھوتی سارہ کی سکھیاں یوں لگتا تھا جیسے محو احتجاج ہوں۔ مردوں کے میلے کچیلے کپڑوں کو ڈنڈوں سے بے تکان پیٹے چلی جا رہی تھیں۔ انہیں بار بار پانی میں غوطے دیتے ہوئے کوس رہی تھیں، جیسے سارہ کے چھن جانے پر ماتم کناں ہوں اور جیسے کپڑوں کے بجائے مردوں کا سینہ کوٹتے ہوئے کہہ رہی ہوں۔”تم مردوں کے بے حس معاشرے میں کومل سی سارہ نے بے وفا مسعود کی وفا میں جاں تک وار دی اور تم خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے۔۔۔؟”
گیلے کپڑوں پر پڑتے ڈنڈوں کی آوازیں دریا کے سینے پر سفر کرتی ہوئی تواتر سے مجھ تک آ رہی تھیں۔ دریا کے بیچ کچھ کشتیاں بہاؤ کے ساتھ تلمیں پتن اور چند ایک بہاؤ کے خلاف ککڑانوالے وانڈے کی سمت محو سفر تھیں۔ جہاں سے دریا کی غضب ناک لہریں دونوں طرف کے پہاڑوں سے سر ٹکرا کر اچانک تنگ درے سے چوڑے پاٹ میں داخل ہو کر پر سکوں ہو جاتی تھیں۔ سطح آب پر بگلے مچھلیاں پکڑتے اور اٹکھیلیاں کرتے اڑتے پھرتے تھے۔ کالا باغ کے باغ باغیچوں پر بہار اپنے جوبن پر تھی۔ رنگا رنگ پھولوں کی بیلیں دریا کے کنارے گھروں کے آہنی جنگلوں پر سے ہوتی ہوئی دریائے سندھ کے پانی کو چومنے لگیں تھیں ۔ مشام جاں کو معطر کرتی ان کی بو باس چہار سو پھیلی تھی۔ ایسے میں یہ خوش کن مناظر بجائے مسرت آمیزی کے ، سوگواری میں اور اضافہ کرنے لگے تھے ۔ اتلے پتن سے ذرا اوپر دائیں جانب سلاگر کے قدموں میں بھاکریوں کے محلے میں مسعود اور سارہ کے آمنے سامنے بنے گھر اداس، ویران اور اجڑے ہوئے تھے۔ کبھی جس گھر کے آنگن میں سارہ ،مسعود کی ایک جھلک کا انتظار کیا کرتی تھی۔ اب وہاں ہجر کی دھول اڑتی تھی۔ دونوں گھروں کے دروازے اپنے مکینوں کے فراق میں سرکش ہوا سے کبھی کھلتے اور کبھی بند ہوتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اطراف میں بھٹکتی سارہ کی روح گھر کے در دیوار سے سر پٹختی پھرتی ہو اور کہتی ہو۔۔۔۔
"کون کرم نروا وے سانول
کون کرم نروا۔۔۔
بٹھ گھر بار محلے گلیاں
کونتل کان مسافر بھلیاں
سجناں باجھوں محض اکلیاں
بٹھ ساون بٹھ میگھ ملہار
پینگھاں باغ بہاروے سانول کون کرم نروار”
مجھے دریا کے کنارے بیٹھے دیگر سے شام ہو چکی تھی۔ سامنے کالاباغ کے پتن دیکھتے ہی دیکھتے ویران ہو چلے تھے۔ مغربی سمت زرد رو سورج بھی کالا باغ بیراج پر سے دریا میں غوطہ لگانے سے پہلے کچھ کہہ رہا تھا، ’’کالا باغ کی پر بہار فضا ؤ اداس نہ ہو، سارہ کی پیاری سکھیو، میں اس بھری بہار میں تمہیں اداس نہیں دیکھ سکتا، تمھارے لیے غوطہ زن ہو رہا ہوں اور دیکھنا اگلی صبح سارہ میرے ساتھ طلوع ہو گی، تم سب اسے میری چمکیلی کرنوں کے جھولے میں جھولا جھولتے دیکھ سکو گی۔۔۔۔” سارہ ظلمت اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں سچائی اور وفا کے نور کا وہ استعارہ ہے جو اب محبت کی کتاب کا ایک روشن باب بن چکا ہے۔ جس کے ذکر کے بغیر تاریخ داں کا قلم آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ وفا کی اس دیوی کے لیے کالاباغ کے شاعررشید قمر نے نظمیں لکھیں۔ وہی سارہ جس نے وفا کی لاج بھی رکھ لی اور والدین کی عزت و وقار کو بھی مجروح نہ ہونے دیا۔ چپ چاپ زہر کا پیالہ پی لیا اور یوں محبت کی دھیمی دھیمی آنچ میں سلگ کر وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی۔
سارہ! جس نے ہوش سنبھالتے ہی مسعود کو اپنے قلب و روح کے سنگھاسن پر کسی دیوتا کی طرح براجمان پایا۔ بچپن کے آنگن اور لڑکپن کی گلیوں میں گڈی گڈے کے کھیل کھیلتے سارہ اور مسعود نے جوانی کی شاہراہ پر ساتھ ساتھ چلنا شروع کیا۔ پھر یہ قرب اور رفاقت اتنی بڑھی کہ محبت کا روپ دھار گئی اور انہیں اپنے آئینہ چہروں میں ایک دوسرے کا عکس دکھائی دینے لگا۔ مسعود اور سارہ، سارہ اور مسعود، دونوں شہر میں سوہنی اور ماہیوال کی طرح مقبول ہو گئے۔ سارہ جس کی پوتر محبت کی گواہی دریائے سندھ کا یہ بہتا پانی، جب
تک بہے گا، دیتا رہے گا۔ چھوٹے سے مسائل زدہ قصبے کی تنگ و تاریک گلیوں میں پلی بڑھی روشن خیال سارہ کی جان کنی کی کیفیت کا عینی شاہد سلاگر کا وہ پہاڑ ہے جس کے پاؤں صدیوں سے اس دھرتی میں پیوست اور جس کے لب ہمیشہ آسمان سے ہمکلام رہتے ہیں۔ وہ آنے والے ہر دور میں اپنی عظیم بیٹی کی ثابت قدمی اور جانثاری کی داستان فخر سے سناتا رہے گا۔
اس سے پہلے کہ بہار کی شام کے دھندلاتے منظر کو رات اپنے سوگوار آنچل تلے سلا دے، میں آپ کو سامنے دریا کے اس پار رام سرن کے ایک چوتھائی دریا میں ڈوبے محل نما بنگلے کے برابر سارہ کا وہ سکول بھی دِکھاتا چلوں، جہاں سارہ شہر کے بچوں کو علم و آگہی اور سچائی کا درس دیا کرتی تھی۔ سارہ کو اپنے سکول اور اس کے سبزہ و گل سے بے حد پیار تھا۔ سکول کے مغرب میں عید گاہ واقع ہے۔ جہاں کسی زمانے میں سحری کے وقت جنات حافظ خدا بخش سے درسِ قرآن لیا کرتے تھے۔ سکول اور عید گاہ کا امتیاز بڑ کے دو قدیم اور چھتناور درخت ہیں۔ ایک درخت عید گاہ اور دوسرا سارہ کے سکول پر �آج بھی سایہ فگن ہے۔ تقسیم برصغیر پاک و ہند سے پہلے سکو ل کی جگہ بڑ کے درخت کے نیچے دریا کے کنارے پتھروں کے چبوترے پر ایک چھوٹا سا مندر ہوا کرتا تھا۔ جسے ہندو”برہم اکھاڑہ” کہتے تھے ، جہاں سادھو سنت فقیر دھونی رمائے گیان دھیان میں مگن بیٹھے دریا کو تکتے رہتے تھے مگر تیزی سے گزرتے دریا کے پانی کو کوئی نہ روک سکا ۔جیسے گزرتے وقت کے آگے بند نہ باندھا جا سکا، ویسے ہی سارہ کو روٹھ جانے سے بھی کوئی نہ روک سکا۔ شام کے دھندلکے میں سکول کے جنگلے سے لپٹی موتیے اورچنبے کی اداس بیلیں بہتے دریا کو حسرت و یاس سے تکے جا رہی تھیں، جیسے کہتی ہوں، ہماری البیلی سارہ کہیں ملے تو کہنا لوٹ آئے کہ سکول کے در و دیوار ، سبزہ و گل ، استانیاں، بچے اداس اور تنہا رہ گئے ہیں۔”
سورج کب کا ڈوب چکا تھا، رات اپنا سیاہ آنچل پھیلا چکی تھی۔ سلاگر کے نیچے ڈکی اور چھوئی پر بنے تہہ در تہہ کچے پکے گھرندوں میں اب برقی قمقمے جگمگا اٹھے تھے جن کے عکس دریا کے دھڑکتے سینے پر لیلی شب کے آنسووں کی طرح لانبے ہوتے جاتے تھے۔ مجھے یکبارگی خیال آیا کہ ہم اپنی تنگ و تاریک گلیوں اور گھرندوں کو اجالنے کے لیے جتنی سعی کرتے ہیں اگر تھوڑی سی ریاضت اپنے اند ر کی تاریکی میں فکر و شعور کے چراغ جلانے کے لیے بھی کر لیں تو آج کوئی سارہ بے وفا مسعود کی ریا کاری کی بھینٹ نہ چڑھی ہوتی۔ یہ سوچ کر آنکھوں میں ستارے سے جھلملانے لگے اور سامنے کا منظر دھندلانے لگا تو میں ماڑی اور کالا باغ کے درمیان تنے قدیم ریلوے پل کے راستے کالا باغ جانے کے لیے اٹھ کر سڑک کی جانب چل پڑا۔
اگلی صبح میں اعظم نیازی کو لے کر قبرستان کی جانب چل پڑا۔ خواہش تھی کہ وہ نقشِ وفا دیکھوں جہاں وفا کی دیوی آسودۂ خاک تھی۔ چھوئی، جہاں کبھی میرا بچپن اور لڑکپن غلیل چلاتے، تتلیوں کے پیچھے بھاگتے، پتنگ اڑاتے اور پیلو کھاتے پلک جھکپتے ہی گزر گیا تھا، آج ذہن میں ان حسین یادوں کے نقوش کسی گم گشتہ دفینے کی مانند تھے۔ جن پر اب فقط ایک ہی دکھ کا غلبہ تھا اور وہ تھا سارہ کی موت کا دکھ، جو کسی پل چین نہ لینے دے رہا تھا۔ ہم چھوئی کے اونچے ٹیلے پر پہنچے تو سامنے شمال کی جانب وادی میں چاروں طرف اونچے اونچے ٹیلوں کے درمیان گھرے چپ فقیرکا مزار مرجع خاص و عام تھا۔’’سارہ اور مسعود کی آخری ملاقات چپ سائیں کے مزار پر ہی ہوئی تھی” اعظم نے بلندی سے مزار کی جانب دیکھتے ہوئے بتایا۔ ہم کچھ دیر ٹیلے پر سانس بحال کرنے کے لیے رک گئے۔ نشیب میں چپ فقیر کا سبز گنبد والا سفید مزار کسی سر سبز جزیرے کی مانند پر سکون تھا۔ اس کے چاروں اور پھیلی کچی پکی سفید قبریں اتنی بلندی سے چھوٹی بڑی کشتیوں اور بجروں کی مانند ہوا سے ہلکورے لیتی محسوس ہو رہی تھیں۔ مزار کے پالتو کبوتر، سمندر ی بگلوں کی طرح کبھی پانی تو کبھی جزیرے پر محو پرواز لگتے تھے۔
بہار کی صبح عجب رنگ لے کر آئی تھی۔ قبرستان میں پرندوں کی اللہ ہو اور سبحان تیری قدرت کا وِرد اور ادھر چپ سائیں کے مزار سے قرآن مجید کی تلاوت کی روح پرور صدائیں دیر تلک ہمارا تعاقب کرتی رہیں ۔ ہم دونوں قبروں سے بچتے بچاتے بوجھل قدموں سے چڑھائی چڑھنے لگے ۔کبھی کبھی چپ سائیں کے مزار کی پالتو بطخیں بھی ایک ساتھ چیخ اٹھتی تھیں۔مزار پر محوپرواز کبوتروں کا غول بھی موج میں آ کر لمبی اڑان کے لیے نکلتا تو ہمارے سر پر اپنی پریشان پھڑپھڑاہٹ چھوڑ جاتا۔ آسمان پر نرم نرم بادلوں کے باوجود سارہ کی قبر کی جانب بڑھتے ہوئے مجھے پسینہ آگیا۔ اعظم رہنمائی کرتے ہوئے چندقدم آگے تھا۔ پانچ سات منٹ کی تگ و دو کے بعد چوٹی پر پہنچ کر اعظم ایک بغیر کتبے کی سادہ سی قبر کے سرہانے بیٹھتے ہوئے آہستگی سے بولا ” مٹی کی اس ڈھیری کے نیچے سارہ سو رہی ہے۔”
"ہاں سارہ ایسی بلند کردار اور با وفا لڑکی کی قبر یقیناًایسے ہی بلند مقام پر ہونی چاہیے تھی” میں نے سانسوں کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ صبح کاسورج چپ سائیں کے مزار کے مغربی ٹیلے پر سارہ کی کچی قبر کو سنہری کرنوں کا لبادہ دے چکا تھا۔ قبر کے تین بے رنگ پتھر سورج کی روشنی سے دہکنے لگے تھے۔ قبر کیا تھی، سادگی کا نمونہ تھی، مٹی اور سنگریزوں کی کچی ڈھیری جس کے نیچے سارہ محو خواب تھی۔ قبر پر جا بجا مرجھائے ہوئے پھول اور اگر بتیاں بکھری پڑی تھیں۔ اب اس پر کچھ تازہ پھولوں اور اشکوں کا بوجھ اور بڑھ گیا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے بہت دنوں سے یہاں کوئی نہ آیا تھا۔ ایسے سمے سارہ کی قبر بہت اداس اور تنہا محسوس ہونے لگی تھی۔
چچالی کی سمت سے امنڈ کر آنے والے کالے بادل نے بارش کی پیشن گوئی کر دی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں ہوا چلنے لگی تھی۔ داود خیل کی طرف نگاہ اٹھی تو دریائے سندھ کے اس پار سکندر آباد کی فیکٹریوں کا گاڑھا اور سیاہ دھواں آسمان کے نیلگوں کینوس پر کسی نو آموز مصور کی طرح ماتمی رنگ بھرتے ہوئے سوگواری میں اضافہ کر رہا تھا۔
"ہم مردوں کے اس معاشرے میں عورت مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں اور جب مر جاتی ہے، تب مٹی میں مل کر مٹی کا ڈھیر بھی نہیں رہتی۔۔۔” اعظم نے خاموشی کو توڑا۔
’’لیکن دوست ! سارہ کا معاملہ اور ہے، وہ تو خوشبوؤں کی رانی تھی، خوشبوئیں اس سے راستہ پوچھ کر آگے بڑھتی تھیں ، سارہ مر کر بھی زندہ ہے، اس کا جسم مٹی کا ڈھیر سہی مگر اس کی روح بہار کے غنچوں اور پھولوں میں تمہیں ہمیشہ مہکتی ہوئی محسوس ہوا کر یگی۔۔۔ جب کہ ہر جائی مسعود موت سے بچ کر بھی مردوں سے بدتر حالت میں جی رہا ہے۔۔۔” میں نے اپنی رائے دی۔’’آپ ٹھیک ہی کہتے ہیں مسعود جیل میں ماہی بے آب کی طرح ہے جسے صرف موت ہی سکون دے سکتی ہے‘‘۔ اعظم بولا۔میں نے قبر کی طرف دیکھا جو ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی تھی کہ دیکھو! ایسی موت مرنے والی لڑکیوں کی قبر پر شناخت کے لیے کتبہ بھی نہیں لگتا مگر وہ وفا، ایثار اور سچائی کی علامت بن کر آنے والوں کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔
’’یار اعظم ! تم جیل میں کبھی مسعود سے ملنے گئے ہو۔۔۔۔؟” ہاں ایک بار گیا تھا مگر اس کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ وہ بھی مر جاتا تو اچھا ہوتا ،اب وہ سارہ کی روح سے شرمندہ ہے موت سے زندگی کی طرف لوٹ آنے کی خواہش نے مسعود کی جھوٹی محبت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ مسعود سارہ کا قاتل ہے۔۔۔ اس نے سارہ سے اپنی ناکامی کا انتقام لیا ہے۔۔۔” اعظم جذباتی ہو کر بولا۔ ’’مگر لوگ تو ایسا نہیں سمجھتے” میں نے اعظم کی بات کاٹی۔
"نہیں ایسا ہرگز نہیں لوگوں کو حقائق کا علم نہیں اگر مسعود باوفا ہوتا تو سارہ کے ساتھ زہر پی کر مرجاتا ہسپتال جا کر معدے کی صفائی کرا کے زندگی کی خواہش نہ کرتا۔۔۔ اگر زندہ رہنے کا اتنا ہی شوق تھا تو پھر اسے ہسپتال میں سارہ کے
زہر پی لینے کا انکشاف بھی کر دینا چاہیے تھا تاکہ اسے بھی بروقت طبی امداد پہنچا کر ناحق مرنے سے بچا لیا جاتا۔ لیکن مسعود نے کسی اور سے نکاح جو کر لیا تھا ، اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے اس نے سارہ کو جان بوجھ کر موت کی طرف دھکیلا۔۔۔ یہ قتل نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟” اعظم کی آواز بھرا گئی تھی
’’اور سارہ پہ کیا بیتی؟” میں نے استفسار کیا۔
’’سارہ زہر پینے کے بعد اپنے سکول آ گئی جہاں اس کی طبیعت خراب ہوئی تو اسے گھر بھیج دیا گیا لیکن سارہ نے بار بار قے کرنے کے باوجود کسی کو بھی اصل حقیقت سے آگاہ نہ کیا ، جان کنی کے عالم میں بھی ایسا کرنا اس نے بے وفائی سے تعبیر کیا۔ گھنٹوں بعد جب مسعود کے بچ جانے کی خبر پہنچی تو گھر والوں کو سارہ پر زہر خورانی کا شک گزرا تب تک موت کا فرشتہ سارہ کو لیے بہت آگے جا چکا تھا۔ اس کے والدین کے اعصاب شل ہو گئے تھے۔ جس ہسپتال میں مسعود جانبر ہورہا تھا وہ اسی ہسپتال میں سارہ کو لے جانے کا حوصلہ کہاں سے لاتے؟”اعظم جذباتی ہو چلا تھا۔
"پھر؟”
’’پھر وہی ہوا جو محبت کرنے والوں کے ساتھ ازل سے ہوتا چلا آیا ہے ۔ محلے کے کمپاونڈر نے مشورہ دیا کہ اسے فورا ہسپتال پہنچایا جائے کمپاونڈر نے سکندر آباد کے ڈاکٹر کو فون کر کے مریض کی تشویش ناک حالت سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔ گاڑی جونہی ان کے پاس پہنچی ۔ڈاکٹر نے زندگی بچانے والا انجکشن دے کر مریض کو فورا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میانوالی پہنچانے کے لیے کہا جو وہاں سے تئیس میل دور تھا۔ زندگی اور موت کے درمیان جنگ جاری تھی گاڑی نے ابھی آدھا راستہ ہی طے کیا ہو گا کہ ایک ٹائر پھٹ گیا۔ موت لمحہ بہ لمحہ سارہ کے گرد اپنا حلقہ تنگ کرتی چلی جاتی تھی لیکن نازوں سے پالنے والی ماں کو ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید اس کی گود میں تڑپتی ہوئی سارہ ہسپتال پہنچ کر پھر سے جی اٹھے۔ ٹائر بدل کر سفر پھر سے شروع ہوا۔ سفر کے دوران سارہ جب بھی ہوش میں آتی اس سے بہت کچھ پوچھا جاتا رہا لیکن وفا کی دیوی ثابت قدم رہی اس نے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکالا۔۔۔۔ بار بار پانی مانگتی تھی لیکن ڈاکٹر نے منع کر دیا تھا۔ میانوالی پہنچتے پہنچتے سارہ کی حالت بگڑ گئی ، گاڑی جونہی ہسپتال کے گیٹ میں داخل ہوئی موت سے نبرد آزما سارہ کے بازو ماں کی گود سے نیچے لٹک گئے۔”
اعظم خاموش ہوا تو مجھے تنویر کی بتائی ہوئی ، وہ شام یاد آ گئی جب صبح زندگی کی جانب بڑھتی ہوئی سارہ کا راستہ موت نے اچانک کاٹ لیا تھا۔ ایک پک اپ بڑی خاموشی سے چوک وارث شہید میں آ کھڑی ہوئی تھی ۔ خوشبووں کی رانی، رنگلے پلنگ پر سرخ چادر کے نیچے ابدی نیند سو رہی تھی۔ جیسے پیا دیس کو سدھارتے ہوء کسی دلہن کو نیند آجائے لیکن۔۔ یہ کیا؟شہر بے اماں نے اپنی ہی بیٹی کو پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔ کوئی اس کے استقبال کو نہ آیا تھا۔۔۔ خوشبووں کی رانی آئی تھی، کوئی پھولوں کا گجرا نہ لایا، سارہ کی سکھیوں کی ڈھولک کی تھاپ بھی خاموش تھی۔۔ دلہن کے استقبال کو اس کے پیا بھی نہ آئے تھے۔۔‘‘
’’اور مسعود کا کیا بنا؟” میں نے پھر کریدا۔
’’ڈاکٹروں نے مسعود کے معدے سے زہر صاف کر کے اسے موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا۔ اس کی قسمت میں لعنتیں، ملامتیں اور عذاب لکھے تھے، جنہیں سہنے کے لیے اب وہ زندہ ہے، مرنا چاہتا ہے مگر مر نہیں سکتا” ۔ اعظم خاموش ہو گیا۔میں نے سارہ کی قبر کی جانب دیکھا تو وہ خاموش تھی ۔ سارہ نے مسعود کو ایک خط میں لکھا تھا "مسعود! اب تم ہی بتاو کہ میں کیا کروں ؟ میرا فیصلہ یہی ہے کہ میری زندگی تم ہو۔ تمہارے سوا اگر میری زندگی میں کوئی اور آئے تو خدا مجھے موت دے دے۔ میں ا س سے پہلے ہی مر جاؤں۔” اور زندگی میں ایسا موڑ آنے سے پہلے ہی سارہ مر گئی ۔ وہ دھن کی بہت پکی تھی۔ اس کے پیچھے رہ جانے والے خطوط گواہ ہیں کہ اس نے زندگی کی اندھیری سرنگ میں بقا کی طرف نکلنے والے کسی تیسرے راستے کی بہت تلاش کی مگر ناکام رہی۔ایک اور خط میں سارہ نے مسعود کو لکھا تھا۔۔۔
’’مسعود پلیز میری جان ! میری بات مان لو! خدا کے لیے مجھ مزید دکھی نہ کرو، میں دنیا کے پریمیوں سے مختلف ہوں۔ خود کو موت کے حوالے کردوں گی مگر تمہیں دکھی نہیں کروں گی۔ اگر میرے والدین میرے رشتہ دینے پر راضی نہیں تو پلیز اپنا گھر بسا لو۔ ورنہ میں تمہیں ایک دن بالکل تنہا چھوڑ جاؤں گی۔۔۔”
’’ہاں! سارہ واقعی مسعود کو تنہا چھوڑ گئی ہے” میں نے خود کلامی کی۔مسعود اب ایک ایسے دو راہے پر کھڑا ہے جہاں ایک راستے پر زندگی کھڑی اس کا مذاق اڑا رہی ہے اور دوسرے راستے پر موت ہے، جہاں اونچی مسند پر بیٹھی سارہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہہ رہی ہے "اچھا ہوا مسعود تم نے مجھے اپنی پہچان کرا دی۔ میں نے زندگی سے موت تک کا پر خار سفر اکیلے ایک ہی جست میں طے کر لیا ہے۔ مجھے تو موت نے پناہ دے دی ، اللہ کرے تمہیں بھیِ زندگی واپس قبول کر لے۔”
’’مگر مسعود کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ زندہ بھی ہے کہ نہیں؟ اسے کچھ سجائی نہیں دیتا کہ اس کی منزل کہاں ہے؟ ” اعظم یہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔۔۔
چپ فقیر کے کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ نے متوجہ کیا ، اوپر دیکھا تو وہ ایک ہی جست میں دوسرے ٹیلے تک جا پہنچے تھے۔ کالی گھٹاؤں نے نصف آسمان کو گھیر لیا تھا ۔کبھی کبھی ان کی گڑگڑاہٹ آسمان پر اڑتے ابابیلوں کے دل دہلا کر رکھ دیتی تھی لیکن چپ سائیں کے کبوتر صبح سے یونہی اڑتے پھرتے تھے۔ اب سورج کالے بادلوں کے نرغے میں تھا ، ہوا میں بہار کی خنکی غالب تھی۔ چپ سائیں کے مزار پر آنے جانے والوں کا سلسلہ جاری تھا۔ مجاور ہجرے سے باہر مصلے پر بیٹھے صندلی منکے رول رہے تھے جن کی خوشبو نے اطراف کا گھیراو کر رکھا تھا۔ ہجرے سے نکلتے دھوئیں نے مزار کے گردا گرد دودھیا سی چادر تان دی تھی، مزار کی دوسری جانب پلارے بھی سکون کی ابدی نیند سو رہی تھی۔
پلار ے جب پہلی مرتبہ کالا باغ آئی تو میں ان دِنوں پرائمری سکو ل میں پڑھتا تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں سے آئی ہے ۔ لوگ اسے پاگل سمجھتے اور بچے اسکا گاگرا کھینچ کر اسے تنگ کرتے تھے۔ کہتے ہیں شروع شروع میں ایک دن بازار کے چند دکان داروں نے اپنی شرارتوں سے پلارے کو خوب تنگ کیا تو اس نے غصے سے کہا ” جل جا” اور پھر دیکھنے والوں نے دیکھا تین چار دکانوں میں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ جل کر خاکستر بن گئیں ۔ تب سے پلارے شہر میں قلندری اور مجذوب عورت کہلانے لگی، پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ شہر میں رچ بس گئی ، وہ لوگوں سے اور لوگ اس سے مانوس ہو گئے۔ پلارے سالوں زندہ رہی اور جب اسکی آنکھیں بند ہوئیں تو چپ سائیں کے سرہانے جگہ پائی۔ پلارے نے اپنی زندگی میں آگ لگانے کا کمال شہر کے ایک مست الست قلندر ربنواز عرف ما مانا جی کو بخش دیا تھا۔ آج بھی مانا جی سب کے سامنے بغیر دیا سلائی کے سگریٹ سلگاتا اور پہروں خلا میں گھورتے ہوئے ہوا سے ہمکلام رہتاہے۔پلارے بھی عورت تھی، ممکن ہے وہ گھر سے کسی راستے کی تلاش میں نکلی ہو؟ اس کی زندگی اور موت اب تک سر بستہ راز ہیں۔ شہر کے لوگ صرف پلارے کو جانتے تھے۔ پلارے۔۔۔۔ حق کی علمبردار ایک مجذوب عورت تھی، وہ گھر سے باہر عشقِ حقیقی کی ترجمان بن کر نکلی تھی کہ کوئی اس سے حق، سچ کا فیض پاتا مگر کٹھور معاشرے نے اسے جنونی اور بازاری عورت جانا، اس کی قدر نہ کی، اسے پتھر مارے، اسے پاگل اور جادو گرنی کہا لیکن وہ پھر بھی سچائی کے ساتھ زندہ رہی اور سچائی کے ساتھ مر گئی۔۔۔۔!
پگلی سارہ بھی عشق میں معاشرے کی کج رویوں کے برعکس حق نکاح کی طلبگار تھی مگر اسے بھی تیسرے راستے کی تلاش میں نکلنے پر مجبور کردیاگیا۔
’’اعظم اب مسعود کہاں ہے؟‘‘ میں نے پوچھا
’’جیل میں ہے، خود کشی کی کئی ناکام کوششیں کر چکا ہے۔ اس کا ذہنی توازن درست نہیں رہا۔ کبھی ہنستا ہے تو کبھی رونے لگتا ہے۔ سارہ کے ساتھ کی ہوئی بے وفائی اسے کسی پل چین نہیں لینے دیتی۔ اب وہ مرنا چاہتا ہے لیکن زندگی کے ساتھ ساتھ لگتا ہے موت بھی اس سے روٹھ چکی ہے‘‘۔ اعظم نے رائے دی
’’نہیں اعظم! مسعود اب ایسا نہیں کر سکتا ، اس کی گاڑی چھوٹ چکی ہے، اب تو اس کے سامنے انتظار کا ویران پلیٹ فارم اور زندگی کی سنسان اور نہ ختم ہونے والی پٹڑی ہے جس پر فقط سارہ کی گزر جانے والی گاڑی کی تھرتھراہٹ باقی رہ گئی ہے۔۔۔” میں نے فضا میں قلا بازیاں کھاتے ہوئے کبوتر کو دیکھتے ہوئے کہا۔تھوڑی دیر کے بعد جب توجہ سارہ کی قبر کی طرف لوٹی تو وہاں سے ایک نسوانی سرگوشی ابھری۔ سارہ مسعود سے مخاطب تھی۔
"دیکھو مسعود! سب اپنے پرائے یہی کہتے تھے کہ مسعود تم سے وفا نہیں کرے گا۔ وہ جھوٹا اور مکار ہے لیکن۔۔۔۔ میں یہ سن کر سب سے لڑ پڑتی تھی ۔ تمہارے خلاف کسی کی زبان سے ایک لفظ بھی برداشت نہ کرتی تھی اور کہتی تھی مسعود میرے خوابوں کی بستی کا شہنشاہ اور میں اس کی ملکہ ہوں ۔۔۔ لیکن تمہاری ایک ہی ٹھوکر نے میرے سپنوں کی حسین بستی کو
تاراج کر ڈالا ، میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم ایسا کرو گے۔۔۔ خود تو کسی اور سے ناتہ جوڑ لیا اور مجھ سے یہ امید کی کہ میں تمہاری کہلاؤں۔۔۔ کیا یہی وفا ہے؟ دنیا کی کوئی عورت یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ لیکن میں نے اس خود غرض دنیا میں وفا کی لاج کی خاطر تمہارے خلاف منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔۔۔ اور تمہارے ساتھ قدم سے قدم ملائے چلتی رہی۔۔۔ تم نے جو کہا میں نے کر ڈالا۔ اس لیے کہ میرے دل میں کھوٹ نہ تھا۔۔۔ پھر تم نے لوگوں کی باتوں میں آ کر مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ٹھانی۔۔۔ مجھے شہر بھر میں رسوا کرنے کی کوشش کی ۔ حتی کہ خطوط میں مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں تک دے ڈالیں۔۔۔ میں نے اسے بھی تمہارے پیار کی ادا جانا۔۔۔ میں تمہیں خوب جانتی تھی لیکن خاموش رہی۔۔۔ پھر ایک دن تم نے زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا پروگرام بنا ڈالا میں جان چکی تھی کہ تم فریبی ہو۔۔۔ دغا باز ہو۔۔۔ پھر بھی میں نے تمہارے حوالے سے جینے کے بجائے تمہارے ہاتھوں زہر پی لینا بہتر جانا کہ شاید اس طرح مرنا میرے والدین کا کھویا ہوا وقار واپس دِلا سکے۔ شاید میرے گناہوں کا کفارہ ادا ہو سکے۔۔۔۔ میں مطمئن ہوں کہ میں بے وفا نہیں ہوں۔۔۔ تم نے جو کچھ کیا میرا اللہ اور چپ فقیر اس کے گواہ ہیں تم اگر دنیا کی عدالت سے بچ گئے تو پھر اوپر والی عدالت میں تمہارا میرا ضرور سامنا ہو گا۔۔۔۔”
یہ کہہ کر سارہ خاموش ہو گئی۔ ہم دونوں بھی خاموش تھے، آسمان بھی چپ تھا اور اب کالی گھٹا بھی خاموش ہو گئی تھی، شاید ٹوٹ کر برسنے کے لیے۔ چپ سائیں تو ویسے ہی چپ تھے ۔ان کے سرہانے لیٹی پلارے بھی خاموش تھی۔۔۔ مگر چپ سائیں کے کبوتروں کا مضطرب غول کبھی چپ سائیں کے مزار تو کبھی سارہ کی قبر پر متواتر قلا بازیاں اور پھیرے لگاتا پھرتا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سارہ کی بے چین روح کبوتروں کے غول میں حلول کر گئی ہو اور کہتی پھرتی ہو "چپ فقیر پلارے کی طرح میری موت کے بھی گواہ رہنا۔”
حمید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے