Chota Na Waa'n Tagafil

چھوٹا نہ واں تغافل اُس اپنے مہرباں کا
اور کام کر چکا یاں یہ اضطراب جاں کا

اُٹھتے ہی دل جگر میں کیا آگ سی لگا دی
خانہ خراب ہووے اس نالہ و فغاں کا

وے دن گئے جو گلشن تھا بود و باش اپنا
اب تو قفس میں بھولے نقشہ بھی گلستاں کا

سامان لے چلا ہے اندوہ کا یہیں سے
کیا جانیے ارادہ دل نے کیا کہاں کا

جانا تو ہم نے چھوڑا پر کیا کریں حسن ہاے
چھُٹتا نہیں ہے دل سے ہرگز خیال واں کا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے