چراغ بام تو ہو، شمع انتظار تو ہو

چراغ بام تو ہو، شمع انتظار تو ہو
مگر ہمیں ترے آنے کا اعتبار تو ہو
کسی کی دید تو ہو،نیند کا سراب سہی
خدائے خواب! ہمیں اتنا اختیار تو ہو
کھلیں گے ہم بھی برنگ گل و بسان شرر
ترے نگر میں چراغاں تو ہو، بہار تو ہو
وہ ابر ہے تو کسی خاکنائے پر برسے
جو خاک ہے، تو کسی راہ کا غبار تو ہو
ہوا کے ساتھ ہی آئے، ہوا کے ساتھ ہی جائے
پر ایک رشتۂ جاں اس سے استوار تو ہو
جو زندگی کی طرح سامنے رہا ہر دم
وہ راز اپنی نگاہوں پہ آشکار تو ہو
ہے جس کا ورد شب و روز کے وظیفے میں
در وفا، تری تسبیح میں شمار تو ہو
یہ کیا، وہ سامنے ہو اور دل یقیں نہ کرے
نگاہ شوق پہ تھوڑا سا اعتبار تو ہو
تمام عمر ستاروں کے ساتھ چلتے رہیں
فلک پہ ایسا کوئی خطّ رہگزار تو ہو
ثمینہ راجہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے