چراغِ تعلّق بجھا دینے والے!

چراغِ تعلّق بجھا دینے والے!
یہ جھونکے کہاں ہیں ہَوا دینے والے
کسی موڑ پر کیا کبھی مل سکیں گے
ہم اک دوسرے کو صدا دینے والے
کیے جائے دل، دل میں آئے جو اس کے
دیے جائیں یہ مشورہ دینے والے
کروں کیسے شامل تجھے رفتگاں میں
مجھے زندگی کا پتا دینے والے
کھڑے ہیں مگر سب سے پیچھے کھڑے ہیں
زمانے کو ہم راستہ دینے والے
یہ دنیا ہے پیارے محبت سے خالی
یہ رستے ہیں کاشف تھکا دینے والے
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے