چراغ تلے

چراغ تلے

مقدمہ نگاری کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی پڑھا لکھا ہو۔ اسی لیے بڑے بڑے مصنف بھاری رقمیں دے کر اپنی کتابوں پر پروفیسروں اور پولیس سے مقدمے لکھواتے اور چلواتے ہیں۔ اور حسب منشا بدنامی کے ساتھ بری ہوجاتے ہیں فاضل مقدمہ نگار کا ایک پیغمبرانہ فرض یہ بھی ہے کہ وہ دلائل و نظائر سے ثابت کردے کہ اس کتاب مستطاب کے طلوع ہونے سے قبل ادب کا نقشہ مسدس حالی کے عرب جیسا تھا۔

ادب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا
جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا

اس میں شک نہیں کہ کوئی کتاب بغیر مقدمہ کے شہرت عام اور بقائے دوام حاصل نہیں کر سکتی۔ بلکہ بعض معرکۃ الآراء کتابیں تو سراسر مقدمے ہی کی چاٹ میں لکھی گئی ہیں۔ برنارڈ شا کے ڈرامے (جو درحقیقت اس کے مقدموں کی تضمین ہیں) اسی ذیل میں آتے ہیں۔ اور دور کیوں جائیں۔ خود ہمارے ہاں ایسے بزرگوں کی کمی نہیں جو محض آخر میں دعا مانگنے کے لالچ میں نہ صرف یہ کہ پوری نماز پڑھ لیتے ہیں بلکہ عبادت میں خشوع و خضوع اور گلے میں رندھی رندھی کیفیت پیدا کرنے کے لیے اپنی مالی مشکلات کو حاضر و ناظر جانتے ہیں۔ لیکن چند کتابیں ایسی بھی ہیں جو مقدمہ کو جنم دے کر خود دم توڑ دیتی ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر جانسن کا ڈکشنر، جس کا صرف مقدمہ باقی رہ گیا ہے۔ اور کچھ مصنف تو ایسے بھی گزرے ہیں جو مقدمہ لکھ کر قلم توڑ دیتے ہیں۔ اور اصل کتاب کی ہوا تک نہیں لگنے دیتے۔ جسیے شعر و شاعری پر مولانا حالی کا بھر پور مقدمہ جس کے بعد کسی شعر شاعری کی تاب و تمنا ہی نہ رہی۔ بقول مرزا عبدلودود بیگ، اس کتاب میں سے مقدمہ نکال دیا جائے تو صرف سرورق باقی رہ جاتا ہے۔

تاہم اپنا مقدمہ بقلم خود لکھنا کار ثواب ہے کہ اس طرح دوسرے جھوٹ بولنے سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ آدمی کتاب پڑھ کر قلم اٹھاتا ہے ورنہ ہمارے نقد عام طور سے کسی تحریر کو اس وقت تک غور سے نہیں پڑھتے جب تک انہیںاس پر سرقہ کا شبہ نہ ہو۔

پھر اس بہانے اپنے چند ایسے نجی سوالات کا دندان شکن جواب دیا جا سکتا ہے جو ہمارے ہاں صرف چالان اور چہلم کےموقع پر پوچھے جاتے ہیں۔ مثلاً کیا تاریخ پیدائش وہی ہے جو میٹرک کے سرٹیفیکیٹ میں درج ہے؟ حلیہ کیا ہے؟ مرحوم نے اپنے “بینک بیلنس“ کے لیے کتنی بیویاں چھوڑی ہیں؟ بزرگ افغانستان کے راستے سے شجرہ نسب میں کب داخل ہوئے؟ نیز موصوف اپنے خاندان سے شرماتے ہیں یا خاندان ان سے شرماتا ہے؟ راوی نے کہیں آزاد کی طرح جوش عقیدت میں ممدوح کے جد امجد کے کانپتے ہوئے ہاتھ سے استرا چھین کر تلوار تو نہیں تھما دی؟

چنانچہ اس موقع سے جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا مختصر سا خاکہ پیش کرتا ہوں۔

۔نام

سرورق پر ملاحظہ فرمائیے

۔خاندان

سو پشت سے پیشہ آباء سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔

۔تاریخ پیدائش
عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔
اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقل صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔

۔پیشہ
گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن سکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔

اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اصلوبی سے دو اور دو کو پانچ کر لیتے ہیں۔

۔پہچان

قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔

جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن ستا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو میرے بھی فٹ آتا ہے۔

حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔

پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذاۃ کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔

۔پسند

غالب، ہاکس بے ، بھنڈی
پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مروب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہسی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔

پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بر بنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔

گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔

۔چڑ

جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔

۔مشاغل

فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا

۔ تصانیف

چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط

۔ کیوں لکھتا ہوں

ذزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے۔۔۔ یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے، یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔

کافی
میں‌نے سوال کیا “آپ کافی کیوں ‌پیتے ہیں؟“
انھوں نے جواب دیا “آپ کیوں‌ نہیں پیتے؟“
“مجھے اس میں‌ سگار کی سی بو آتی ہے۔“
“اگر آپ کا اشارہ اس کی سوندھی سوندھی خوشبو کی طرف ہے تو یہ آپ کی قوتٍ شامہ کی کوتاہی ہے۔“
گو کہ ان کا اشارہ صریحاً میری ناک کی طرف تھا، تاہم رفعٍ شر کی خاطر میں‌نے کہا
“تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لیتا ہوں کہ کافی میں سے واقعی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ مگر یہ کہاں کی منطق ہے کہ جو چیز ناک کو پسند ہو وہ حلق میں انڈیل لی جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو کافی کا عطر کیوں نہ کشید کیا جائے تاکہ ادبی محفلوں میں ایک دوسرے کے لگایا کریں۔“
تڑپ کر بولے “صاحب! میں ماکولات میں معقولات کا دخل جائز نہیں سمجھتا، تاوقتیکہ اس گھپلے کی اصل وجہ تلفظ کی مجبوری نہ ہو—–کافی کی مہک سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک تربیت یافتہ ذوق کی ضرورت ہے۔ یہی سوندھا پن لگی ہوئی کھیر اور دُھنگارے ہوئے رائتہ میں ہوتا ہے۔“
میں نے معذرت کی “کُھرچن اور دُھنگار دونوں‌ سے مجھے متلی ہوتی ہے۔“
فرمایا “تعجب ہے! یوپی میں تو شرفا بڑی رغبت سے کھاتے ہیں“۔
“میں نے اسی بنا پر ہندوستان چھوڑا۔“
چراندے ہو کر کہنے لگے “ آپ قائل ہو جاتے ہیں تو کج بحثی کرنے لگتے ہیں۔“
جواباً عرض کیا “گرم ممالک میں بحث کا آغاز صحیح معنوں میں‌قائل ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ دانستہ دل آزاری ہمارے مشرب میں گناہ ہے۔ لہٰذا ہم اپنی اصل رائے کا اظہار صرف نشہ اور غصہ کے عالم میں‌کرتے ہیں۔ خیر، یہ تو جملہ معترضہ تھا، لیکن اگر یہ سچ ہے کہ کافی خوش ذائقہ ہوتی ہے تو کسی بچے کو پلا کر اس کی صورت دیکھ لیجئے۔“
جھلا کر بولے “ آپ بحث میں معصوم بچوں کو کیوں گھسیٹتے ہیں؟“
میں بھی الجھ گیا “آپ ہمیشہ ‘بچوں‘ سے پہلے لفظ ‘معصوم‘ کیوں‌ لگاتے ہیں؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ کچھ بچے گناہ گار بھی ہوتے ہیں؟ خیر، آپ کو بچوں‌ پر اعتراض ہے تو بلی کو لیجئے۔“
“بلی ہی کیوں؟ بکری کیوں‌ نہیں؟“ وہ سچ مُچ مچلنے لگے۔
میں نے سمجھایا “بلی اس لئے کہ جہاں تک پینے کی چیزوں کا تعلق ہے، بچے اور بلیاں بُرے بھلے کی کہیں بہتر تمیز رکھتے ہیں۔“
ارشاد ہوا “کل کو آپ یہ کہیں‌گے کہ چونکہ بچوں اور بلیوں کو پکے گانے پسند نہیں‌ آسکتے اس لیے وہ بھی لغو ہیں۔“
میں نے انہیں یقین دلایا “میں‌ ہرگز یہ نہیں کہ سکتا۔پکے راگ انھیں‌کی ایجاد ہیں۔ آپ نے بچوں کا رونا اور بلیوں کا لڑنا۔۔۔۔۔“
بات کاٹ کر بولے “بہرحال ثقافتی مسائل کے حل کا نتیجہ ہم بچوں اور بلیوں ‌پر نہیں چھوڑ سکتے۔“
آپ کو یقین آئے یا نہ آئے، مگر یہ واقعہ ہے کہ جب بھی میں نے کافی کے بارے میں استصوابٍ رائے کیا اس کا انجام اسی قسم کا ہوا۔ شائقین میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اُلٹی جرح کرنے لگتے ہیں۔ اب میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں‌کہ کافی اور کلاسیکی موسیقی کے بارے میں استفسارٍ رائے عامہ کرنا بڑی ناعاقبت اندیشی ہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بدمذاقی ہے جیسے کسی نیک مرف کی آمدنی یا خوب صورت عورت کی عمر دریافت کرنا (اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک مرد کی عمر اور خوب صورت عورت کی آمدنی دریافت کرنا خطرے سے خالی ہے)۔ زندگی میں صرف ایک شخص ملا جو واقعی کافی سے بیزار تھا۔ لیکن اس کی رائے اس لحاظ سے زیادہ قابلٍ التفات نہیں کہ وہ ایک مشہور کافی ہاؤس کا مالک نکلا۔
ایک صاح تو اپنی پسند کے جواز میں‌صرف یہ کہ کر چپ ہو گئے کہ
چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافی لگی ہوئی
میں‌نے وضاحت چاہی تو کہنے لگے “دراصل یہ عادت کی بات ہے۔ یہ کم بخت کافی بھی روایتی چنے اور ڈومنی کی طرح‌ایک دفعہ منہ سے لگنے کے بعد چھڑائے نہیں چھوٹتی۔ ہے ناں؟“
اس مقام پر مجھے اپنی معذوری کا اعتراف کرنا پڑا کہ بچپن ہی سے میری صحت خراب اور صحبت اچھی رہی۔ اس لئے ان دونوں‌خوب صورت بلاؤں سے محفوظ رہا۔
بعض احباب تو اس سوال سے چراغ پا یر کر ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔ میں‌ یہ نہیں‌ کہتا کہ وہ جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ ایمان کی بات ہے کہ چھوٹے الزام کو سمجھ دار آدمی نہایت اعتماد سے ہنس کر ٹال دیتا ہے مگر سچے الزام سے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ اس ضمن میں جو متضاد باتیں سننا پڑتی ہیں، ان کی دو مثالیں‌ پیش کرتا ہوں۔
ایک کرم فرما نے میری بیزاری کو محرومی پر محمول کرتے ہوئے فرمایا:
‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ہائے ‌کم‌بخت تو نے پی ہی نہیں
ان کی خدمت میں‌ حلفیہ عرض کیا کہ دراصل بیسیوں گیلن پینے کے بعد ہی یہ سوال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ دوسرے صاحب نے ذرا کھل کر پوچھا کہ کافی سے چٍڑ کی اصل وجہ معدے کے وہ داغ (Ulcers) تو نہیں جن کو میں ‌دو سال سے لیے پھررہا ہوں اور جو کافی کی تیزابیت سے جل اٹھے ہیں۔
اور اس کے بعد وہ مجھے نہایت تشخیص ناک نظروں سے گھورنے لگے۔
استصوابٍ رائے عامہ کا حشر تو آپ دیکھ چکے۔ اب مجھے اپنے تاثرات پیش کرنے کی اجازت دیجئے۔ میرا ایمان ہے کہ قدرت کے کارخانے میں کوئی شئے بےکار نہیں۔ انسان غوروفکر کی عادت ڈالے (یا محض عادت ہی ڈال لے) تو ہر بری چیز میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور نکل آتی ہے۔ مثال کے طور پر حقہ ہی کو لیجئے۔ معتبر بزرگوں سے سنا ہے کہ حقہ پینے سے تفکرات پاس نہیں پھٹکتے۔ بلکہ میں‌ تو یہ عرض‌ کروں گا کہ اگر تمباکو خراب ہو تو تفکرات ہی پر کیا موقوف ہے، کوئی بھی پاس نہیں‌ پھٹکتا۔ اب دیگر ملکی اشیائے خوردونوش پر نظر ڈالیے۔ مرچیں کھانے کا ایک آسانی سے سمجھ آجانے والا فائدہ یہ ہے کہ ان سے ہمارے مشرقی کھانوں کا اصل رنگ اور مزہ دب جاتا ہے۔ خمیرہ گاؤ زبان اس لیے کھاتے ہیں کہ بغیر راشن کارڈ کے شکر حاصل کرنے کا یہی ایک جائز طریقہ ہے۔ جوشاندہ اس لیے گوارا ہے کہ اس کے نہ صرف ایک ملکی صنعت کو فروغ ہوتا ہے بلکہ نفسٍ امارہ کو مارنے میں ‌بھی مدد ملتی ہے۔ شلغم اس لیے زہر مار کرتے ہیں کہ ان میں وٹامن ہوتا ہے۔ لیکن جدید طبی ریسرچ نے ثابت کردیا ہے کہ کافی میں سوائے کافی کے کچھ نہیں ہوتا۔ اہل ذوق کے نزدیک یہی اس کی خوبی ہے۔
معلوم نہیں کہ کافی کیوں، کب اور کس مردم آزار نے دریافت کی۔ لیکن یہ بات وثوق کے ساتھ کہ سکتا ہو‌ں کہ یونانیوں کو اس کا علم نہیں تھا۔ اگر انھیں ذرا بھی علم ہوتا تو چرائتہ کی طرح یہ بھی یونانی طب کا جزوٍاعظم ہوتی۔ اس قیاس کو اس امر سے مزید تقویت پہنچتی ہے کہ قصبوں میں کافی کی بڑھتی ہوئی کھپت کی غالباً ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عطائیوں نے “اللہ شافی اللہ کافی“ کہ کر مؤخرالذکر کا سفوف اپنے نسخوں میں لکھنا شروع کر دیا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس قسم کی جڑی بوٹیوں کا استعمال عداوت اور عقدٍثانی کے لیے مخصوص تھا۔ چونکہ آج کل ان دونوں باتوں کو معیوب خیال کیا جاتا ہے، اس لیے صرف اظہارٍ خلوصٍ باہمی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سنا ہے کہ چائے کے باغات بڑے خوبصورت ہوتے ہیں۔ یہ بات یوں بھی سچ معلوم ہوتی ہے کہ چائے اگر کھیتوں میں‌ پیدا ہوتی تو ایشیائی ممالک میں اتنی افراط سے نہیں ملتی بلکہ غلہ کی طرح غیر ممالک سے درآمد کی جاتی۔ میری معلوماتٍ عامہ محدود ہیں مگر قیاس یہی کہتا ہے کہ کافی بھی زمین ہی سے اگتی ہوگی۔ کیونکہ اس کا شمار ان نعمتوں میں نہیں جو اللہ تعالٰی اپنے نیک بندوں پر آسمان سے براہٍ راست نازل کرتا ہے۔ تاہم میری چشمٍ تخیل کو کسی طور یہ باور نہیں آتا کہ کافی باغوں کی پیداوار ہو سکتی ہے۔ اور اگر کسی ملک کے باغوں‌ میں یہ چیز پیدا ہوتی ہے تو اللہ جانے وہاں کے جنگلوں میں‌کیا اُگتا ہوگا؟ ایسے اربابٍ ذوق کی کمی نہیں جنھیں کافی اس وجہ سے عزیز ہے کہ یہ ہمارے ملک میں پیدا نہیں ہوتی۔ مجھ سے پوچھئے تو مجھے اپنا ملک اسی لیے اور بھی عزیز ہے کہ یہاں کافی پیدا نہیں ہوتی۔
میں مشروبات کا پارکھ نہیں ہوں۔ لہٰذا مشروب کے اچھے یا برے ہونے کا اندازہ ان اثرات سے لگاتا ہوں جو اسے پینے کے بعد رونما ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے میں نے کافی کو شراب سے بدرجہا بدتر پایا۔ میں نے دیکھا ہے کہ شراب پی کر سنجیدہ حضرات بے حد غیر سنجیدہ گفتگو کرنے لگتے ہیں جو بے حد جاندار ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے کافی پی کر غیر سنجیدہ لوگ انتہائی سنجیدہ گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے سنجیدگی سے چڑ نہیں بلکہ عشق ہے۔ اسی لیے میں‌سنجیدہ آدمی کی مسخرگی برداشت کر لیتا ہوں، مگر مسخرے کی سنجیدگی کا روادارن ہیں۔ شراب کے نشے میں لوگ بلا وجہ جھوٹ نہیں بولتے۔ کافی پی کر لوگ بلا وجہ سچ نہیں بولتے۔ شراب پی کر آدمی اپنا غم اوروں کو دے دیتا ہے مگر کافی پینے والے اوروں کے فرضی غم اپنا لیتے ہیں۔ کافی پی کر حلیف بھی حریف بن جاتے ہیں۔
یہاں ‌مجھے کافی سے اپنی بیزاری کا اظہار مقصود ہے۔ لیکن اگر کسی صاحب کو یہ سطور شراب کا اشتہار معلوم ہوں تو اسے زبان و بیان کا عجز تصور فرمائیں۔ کافی کے طرفدار اکثر یہ کہتے ہیں کہ یہ بے نشے کی پیالی ہے۔ بالفرضٍ محال یہ گزارشٍ احوال واقعی یا دعویٰ ہے تو مجھے ان سے دلی ہمدردی ہے۔ مگر اتنے کم داموں میں آخر وہ اور کیا چاہتے ہیں؟
کافی ہاؤس کی شام کا کیا کہنا! فضا میں ہر طرف ذہنی کہرا چھایا ہوا ہے۔ جس کو سرمایہ دار طبقہ اور طلبا سرخ سویرا سمجھ کر ڈرتے اور ڈراتے ہیں۔ شوروشغب کا یہ عالم کہ اپنی آواز تک نہیں سنائی دیتی اور بار بار دوسروں سے پوچھنا پڑتا ہے کہ میں نے کیا کہا۔ ہر میز پر تشنگانٍ علم کافی پی رہے ہیں۔ اور غروبٍ آفتاب سے غرارے تک، یا عوام اور آم کے خواص پر بقراطی لہجے میں بحث کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کافی اپنا رنگ لاتی ہے اور تمام بنی نوعٍ انسان کو ایک برادری سمجھنے والے تھوڑی دیر بعد ایک دوسرے کی ولدیت کے بارے میں‌اپنے شکوک کا سلیس اردو میں اظہار کرنے لگتے ہیں، جس سے بیروں کو کلیتہً اتفاق ہوتا ہے۔ لوگ روٹھ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سوچ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ گھر جائیں گے
گھر میں‌ بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
کافی پی پی کر سماج کو کوسنے والے ایک اٹلیکچوئل نے مجھے بتایا کہ کافی سے دل کا کنول کھل جاتا ہے اور آدمی چہکنے لگتا ہے۔ میں‌بھی اس رائے سے متفق ہوں۔ کوئی معقول آدمی یہ سیال پی کر اپنا منہ نہیں‌بند رکھ سکتا۔ ان کا یہ دعویٰ بھی غلط نہیں‌معلوم ہوتا کہ کافی پینے سے بدن میں‌ چستی آتی ہے۔ جبھی تو لوگ دوڑ دوڑ کر کافی ہاؤس جاتے ہیں اور گھنٹوں وہیں‌ بیٹھے رہتے ہیں۔
بہت دیر تک وہ یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ کافی نہایت مفرح ہے اور دماغ کو روشن کرتی ہے۔ اس کے ثبوت میں انہوں‌نے یہ مثال دی کہ “ابھی کل ہی کا واقعہ ہے۔ میں دفترسے گھر بے حد نڈھال پہنچا۔ بیگم بڑی مزاج ہیں۔ فوراً کافی کا TEA POT لا کر سامنے رکھ دیا۔“
میں ذرا چکرایا “پھر کیا ہوا؟“ میں نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔
“میں‌ نے دودھ دان سے کریم نکالی“ انھوں‌ نے جواب دیا۔
میں نے پوچھا “شکر دان سے کیا نکلا؟“
فرمایا “شکر نکلی، اور کیا ہاتھی گھوڑے نکلتے؟“
مجھے غصہ تو بہت آیا مگر کافی کا سا گھونٹ پی کر رہ گیا۔
عمدہ کافی بنانا بھی کیمیا گری سے کم نہیں۔ یہ اس لیے کہ رہا ہوں‌کہ دونوں‌کے متعلق یہی سننے میں آیا ہے کہ بس ایک آنچ کی کسر رہ گئی۔ ہر ایک کافی ہاؤس اور خاندان کا ایک مخصوص نسخہ ہوتاہے جو سینہ بہ سینہ، حلق بہ حلق منتقل ہوتا رہتا ہے۔ مشرقی افریقہ کے اس انگریز افسر کا نسخہ تو سبھی کو معلوم ہے جس کی کافی کی سارے ضلعے میں دھوم تھی۔ ایک دن اس نے ایک نہایت پر تکلف دعوت کی جس میں اس کے حبشی خانساماں نے بہت ہی خوش ذائقہ کافی بنائی۔ انگریز نے بہ نظر حوصلہ افزائی اس کو معزز مہمانوں‌کے سامنے طلب کیا اور کافی بنانے کی ترکیب دریافت پوچھی۔
حبشی نے جواب دیا “بہت ہی سہل طریقہ ہے۔ میں بہت سا کھولتا ہوا پانی اور دودھ لیتا ہوں۔ پھر اس میں‌کافی ملا کر دم کرتا ہوں۔“
“لیکن اسے حل کیسے کرتے ہو۔ بہت مہین چھنی ہوتی ہے۔“
“حضورکے موزے میں چھانتا ہوں۔“
“کیا مطلب؟ کیا تم میرے قیمتی ریشمی موزے استعمال کرتے ہو؟“ آقا نے غضب‌ ناک ہو کر پوچھا۔
خانساماں‌سہم گیا “نہیں سرکار! میں آپ کے صاف موزے کبھی استعمال نہیں کرتا۔“
سچ عرض کرتا ہوں‌کہ میں کافی کی تندی اور تلخی سے ذرا نہیں گھبراتا۔ بچپن ہی سے یونانی دواؤں کا عادی رہا ہوں اور قوتٍ برداشت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کڑوی سے کڑوی
گولیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا!
لیکن کڑواہٹ اور مٹھاس کی آمیزش سے جو معتدل قوام بنتا ہے وہ میری برداشت سے باہر ہے۔ میری انتہا پسند طبیعیت اس میٹھے زہر کی تاب نہیں لا سکتی۔ لیکن دقت یہ آن پڑتی ہے کہ میں میزبان کے اصرار کو عداوت اور وہ میرے انکار کو تکلف پر محمول کرتے ہیں۔
لہٰذا جب وہ میرے کپ میں شکر ڈالتے وقت اخلاقاً پوچھتے ہیں:
“ایک چمچہ(یہ ایک لفظ نہیں‌ پڑھا جارہا)؟
تو مجبوراً یہی گزارش کرتاہوں‌کہ میرے لیے شکر دان میں کافی کے دو چمچ ڈال دیجئے۔
صاف ہی کیوں‌ نہ کہ دوں کہ جہاں‌تک اشیائے خوردونوش کا تعلق ہے، میں‌تہذیب حواس کا قائل نہیں۔ میں‌یہ فوری فیصلہ ذہن کی بجائے زبان پر چھوڑنا پسند کرتا ہوں۔ پہلی نظر میں جو محبت ہو جاتی ہے، اس میں بالعموم نیت کا فتور کارفرما ہوتا ہے۔ لیکن کھانے پینے کے معاملے میں‌میرا یہ نظریہ ہے کہ پہلا ہی لقمہ یا گھونٹ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ بدذائقہ کھانے کی عادت کو ذوق میں تبدیل کرنے کے لیے بڑا پٍتا مارنا پڑتا ہے۔ مگر میں اس سلسلہ میں برسوں‌تلخیٍ کام و دہن گوارا کرنے کا حامی نہیں، تاوقیکہ اس میں‌ بیوی کا اصرار یا گرہستی کی مجبوریاں شامل نہ ہوں۔ بنا بریں، میں‌ ہر کافی پینے والے کو جنتی سمجھتا ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو لوگ عمر بھی ہنسی خوشی یہ عذاب جھیلتے رہے، ان پر دوزخ اور حمیم حرام ہیں۔
کافی امریکہ کا قومی مشروب ہے۔ میں اب بحث میں‌ نہیں الجھنا چاہتا کہ امریکی کلچر کافی کے زور سے پھیلا، یا کافی کلچر کے زور سے رائج ہوئی۔ یہ بعینہ ایسا سوال ہے جیسے کوئی بے ادب یہ پوچھ بیٹھے کہ “غبارٍ خاطر“ چائے کی وجہ سے مقبول ہوئی یا چائے “غبارٍ خاطر“ کے باعث؟ ایک صاحب نے مجھے لاجواب کرنے کی خاطر یہ دلیل پیش کی امریکہ میں تو کافی اس قدر عام ہے کہ جیل میں‌بھی پلائی جاتی ہے۔ عرض کیا کہ جب خود قیدی اس پر احتجاج نہیں کرتے تو ہمیں‌کیا پڑی کہ وکالت کریں۔ پاکستانی جیلوں‌میں‌بھی قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جائے تو انسدادٍ جرائم میں کافی مدد ملے گی۔ پھر انھوں‌ نے بتایا کہ وہاں لا علاج مریضوں کو بشاش رکھنے کی غرض سے کافی پلائی جاتی ہے۔ کافی کے سریع التاثیر ہونے میں کیا کلام ہے۔ میرا خیال ہے کہ دمٍ نزع حلق میں پانی چوانے کی بجائے کافی کے دو چار قطرے ٹپکا دیے جائیں تو مریض کا دم آسانی سے نکل جائے۔ بخدا، مجھے تو اس تجویز پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ گناہ گاروں کی فاتحہ کافی پر دلائی جائے۔
سنا ہے کہ بعض روادار افریقی قبائل کھانے کے معاملے میں جانور اور انسان کے گوشت کو مساوی درجہ دیتے تھے۔ لیکن جہاں‌تک پینے کی چیزوں کا تعلق ہے، ہم نے ان کے بارے میں کوئی بری بات نہیں‌سنی۔ مگر ہم تو چینیوں کی رچی ہوئی، حسٍ شامہ کی داد دیتے ہیں کہ نہ منگول حکمرانوں کا جبروتشدد انہیں پنیر کھانے پر مجبور کر سکا کہ امریکہ انہیں کافی پینے پر آمادہ کر سکا۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان کی نفاست نے سخت قحط کے زمانے میں‌بھی فاقے اور اپنے فلسفےکو پنیر اور کافی پر ترجیح‌دی۔
ہمارا منشا امریکی یا چینی عادات پر نکتہ چینی نہیں۔ ہر آزاد قوم کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے منہ اور معدے کے ساتھ جیساسلوک چاہے، بے روک ٹوک کرے۔ اس کے علاوہ جب دوسری قومیں ہماری رساول، نہاری اور فالودے کا مذاق نہیں اڑاتیں تو ہم دخل در ماکولات کرنے والے کون؟ بات دراصل یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں‌پیاس بجھانے کے لیے پانی کے علاوہ ہر رقیق شئے استعمال ہوتی ہے۔ سنا ہے کہ جرمنی (جہاں‌ قومی مشروب بیئر ہے) ڈاکٹر بدرجہء مجبوری بہت ہی تندرست و توانا افراد کو خالص پانی پینے کی اجازت دیتے ہیں، لیکن جن کو آب نوشی کا چسکا لگ جاتا ہے، وہ راتوں‌کو چھپ چھپ کر پانی پیتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پیرس کے کیفوں‌میں‌رنگین مزاج فن کار بورژوا طبقہ کو چڑانے کی غرض‌سے کھلم کھلا پانی پیا کرتے تھے۔
مشرقی اور مغربی مشروبات کا موازنہ کرنے سے پہلے یہ بنیادی اصول ذہن نشین کر لینا ازبس ضروری ہے کہ ہمارے یہاں‌پینے کی چیزوں میں کھانے کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اپنے قدیم مشروبات مثلاً یخنی، ستو اور فالودے پر نظر ڈالئے تو یہ فرق واضح‌ہو جاتا ہے۔ ستو اور فالودے کو خالصتاً لغوی معنوں ‌میں ‌آپ نہ کھا سکتے ہیں اور نہ پی سکتے ہیں۔ بلکہ اگر دنیا میں‌کوئی ایسی شئے ہے جسے آپ بامحاورہ اردو میں بیک وقت کھا اور پی سکتے ہیں تو یہی ستو اور فالودہ ہے جو ٹھوس غذا اور ٹھنڈے شربت کے درمیان ناقابلٍ بیان سمجھوتہ ہے، لیکن آج کل ان مشروبات کا استعمال خاص خاص تقریبوں میں ‌ہی کیا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اب ہم نے عداوت نکالنے کا ایک اور مہذب طریقہ اختیار کیا ہے۔
آپ کے ذہن میں‌خدانخواستہ یہ شبہ نہ پیدا ہو گیا ہو کہ راقم السطور کافی کے مقابلے میں‌ چائے کا طرف دار ہے تو مضمون ختم کرنے سے پہلے اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا از بس ضروری سمجھتا ہوں‌۔ میں‌کافی سے اس لیے بیزار نہیں ہوں‌کہ مجھے چائے عزیز ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافی کا جلا چائے بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں‌کہ جنہیں‌چائے کے ارماں‌ہوں‌گے

ادش بخیریا (NOSTALGIA کاترجمہ (بروزن مالیخولیا۔ہسٹیریا))
یادش بخیر!مجھےوہ شام کبھی نہ بھولےگی جب آخرکار آغاتلمیذالرحمن چاکسوی سےتعارف ہوا۔ سنتےچلےآئےتھےکہ آغااپنےبچپن کےساتھیوں کےعلاوہ، جواب ایک ہاتھ کی انگلیوں پرگنےجاسکتےتھے، کسی سےنہیں ملتےاورجس سہمے سہمے انداز سے انھوں نے مجھ سےمصافحہ کیا، بلکہ کرایااس سےبھی یہی ہویدا تھا کہ ہر نئے ملاقاتی سےہاتھ ملانے کے بعد وہ اپنی انگلیاں ضرورگن لیتےہوں گے۔ دشمنوں نےاڑارکھی تھی کہ آغاجن لوگوں سےملنےکےمتمنی رہےان تک رسائی نہ ہوئی اورجولوگ ان سےملنےکےخواہش مندتھے، اُن کومنہ لگاناانھوں نےکسرِشان سمجھا۔انھوں نےاپنی ذات ہی کوانجمن خیال کیا،جس کانتجہ یہ ہُواکےمستقل اپنی ہی صحبت نےان کوخراب کردیا۔لیکن وہ خُوداپنی کم آمیزی کی توجیہ یُوں کرتےتھےکہ جب پُرانی دوستیاں نبھانےکی توفیق اورفُرصت میسر نہیں تو نئے لوگوں سے مِلنے سے فائدہ؟ رہے پُرانےدوست، سواُن سےبھی ملنےمیں زیادہ لُطف،عافیت محسُوس کرتے۔ اس لیےکہ وہ نفسیات کےکسِی فارمُولےکی گمراہ کُن روشنی میں اس نتیجےپرپہنچ چکےتھےکہ مِل کےبچھڑنےمیں جودُکھ ہوتاہے، وہ ذرادیرمِل بیٹھنےکی وقتی خوشی سےسات گنا شدید اور دیرپا ہوتاہےاوربیٹھےبٹھائےاپنےدکھوں میں اضافہ کرنےکےحق میں نہیں تھے۔ سُنایہ ہےکہ وہ اپنےبعض دوستوں کو محض اس بناءپرمُحبوب رکھتےتھےکہ وہ ان سےپہلےمُرچکےتھےاوررازبسکہ ان سےملاقات کاامکان مستقبل قریب میں نظرنہیں آتاتھا، لہٰذا ان کی یادوں کوحنوط کرکےانھوں نےاپنےدل کےممی خانےمیں بڑےقرینےسےسجارکھاتھا۔
لوگوں نےاتناڈرارکھاتھاکہ میں جھجکتاہُواآغاکےکمرےمیں داخل ہُوا۔ یہ ایک چھوٹاسانیم تاریک کمرہ تھاجس کےدروازےکی تنگی سےمعاً خیال گزراکہ غالباًپہلےموروثی مسہری اوردُوسری بھاری بھرکم چیزیں خوب ٹھساٹھس جمادی گئیں، اس کےبعددیواریں اٹھائی گئی ہوں گی۔میں نےکمال احتیاط سےاپنےآپ کو ایک کونےمیں پارک کرکے کمرے کا جائزہ لیا۔ سامنےدیوار پرآغاکی رُبع صدی پُرانی تصویر آویزاں تھی ۔ جس میں سیاہ گاؤن پہنے، ڈگری ہاتھ میں لیے، یونیورسٹی پرمُسکرارہےتھے۔ اس کےعین مقابل ،دروازےکےاُوپرداداجان کےوقتوں کی ایک کاواک گھڑی ٹنگی ہُوئی تھی جوچوبیس گھنٹےمیں صرف دودفعہ صحیح وقت بتاتی تھی۔ (یہ پندرہ سال سےسوادوبجارہی تھی) آغاکہتےتھےکہ اِس گئی گزری حالت میں بھی یہ ان”ماڈرن“ گھڑیوں سے بدرجہا بہتر ہے جو چلتی توچوبیس گھنٹے ہیں مگرایک دفعہ بھی ٹھیک وقت نہیں بتاتیں۔ جب دیکھو ایک منٹ آگےہوں گی یاایک منٹ پیچھے۔
دائیں جانب ایک طاقچےمیں جوفرش کی بہ نسبت چھت سےزیادہ نزدیک تھا، ایک گراموفون رکھاتھا، جس کی بالانشینی پڑوس میں بچوں کی موجودگی کا پتہ دے رہی تھی، ٹھیک اس کےنیچےچیڑکاایک لنگڑااسٹول پڑاتھا، جس پرچڑھ کرآغاچابی دیتےاورچھپّن چُھری اور بھائی چھیلا پٹیالے والے کےگھسِےگھسائےریکارڈسنتے(سُننےمیں کانوں سے زیادہ حافظےسےکام لیتےتھے) اس سےذرا ہٹ کربرتنوں کی الماری تھی جس میں کتابیں بھری پڑی تھیں ان کےمحتاط انتخاب سے ظاہر ہوتا تھا کہ اُردومیں جوکچھ لِکھاجاناتھاوہ پچیس سال قبل لِکھا جا چکا ہے۔ (اُسی زمانےمیں سُناتھاکہ آغاجدیدشاعری سےاِس حدتک بےزارہیں کہ نئےشاعروں کوریڈیوسیٹ پربھی ہُوٹ کرنےسےبازنہیں آتے۔ اکثرفرماتےتھےکہ ان کی جوان رگوں میں روشنائی دوڑرہی ہے) آتش دان پرسیاہ فریم جڑاہُواالوداعی سپاس نامہ رکھاتھاجو اُن کےماتحتوں نےپندرہ سال قبّل پُرانی دِلّی سےنئی دِلّی تبادلہ ہونےپرپیش کیاتھا۔اسی تقریب میں یادگارکےطورپرآغانےاپنےماتحتوں کےساتھ گروپ فوٹوبھی کھنچوایاجس میں آغاکےعلاوہ ہرشخص نہایت مطمئن ومسُرورنظرآتا تھا۔ یہ پائینتی ٹنگاتھاتاکہ رات کو سونے سے پہلے اور صُبح اُٹھنےکےبعدآیئنہ ایّام میں اپنی ادادیکھ سکیں۔
مجھےاچھی طرح یادہےکہ اس وقت آغاتین درویس صُورت بزرگوں کےحلقےمین مہابلی اکبرکےدورکی خوبیاں اوربرکتیں نہایت وارفتگی سےبیان کررہےتھی۔ گویاسب کچھ اپنی آنکھوں سےدیکھ چکےہیں۔ ابوالفضل کےقتل تک پہنچتےتوایسی ہچکی بندھی کہ معلوم ہوتا تھا انھیں اس واردات کی اطّلاع ابھی ابھی ملی ہی۔ اس حرکت پروہ شیخوکوڈانٹ ڈپٹ کرہی رہےتھےکہ اتنےمیں پہلادرویش بول اُٹھا: ”اماں چھوڑوبھی۔ بھلاوہ بھی کوئی زمانہ تھا۔ جب لوگ چارگھنٹےفی میل کی رفتارسےسفرکرتےتھے۔ اوررؤساتک جمعہ کےجمعہ نہاتےتھے۔“ اس کامُنہ آغانےیہ کہہ کربندکردیاکہ حضرت اُس سُنہری زمانےمیں ایسی سڑی گرمی کہاں پڑتی تھی؟ پھرپروفیسرشکلانےآغاکی ہاں میں ہاں مِلاتےہُوئےارشادفرمایاکہ ہمارےسمےمیں بھی بھارت درش کی برکھارُت بڑی ہی سُندرہوتی تھی(مجھےبعدمیں پتہ چلاکہ ہمارے سمے سےانکی مرادہمیشہ چندرگُپت موریہ کاعہدہوتاتھاجس پروہ تین دفعہ ”تھیسس“ لکھ کرنامنظورکرواچکےتھے) اس مقام پرچگی ڈاڑھی والا درویش ایکاایکی اوچھاوارکرگیا۔ بولا”آغا!تم اپنےوقت سےساڑھےتین سو برس بعدپیداہوئےہو۔“ اس پرآغا، شکلاجی کی طرف آنکھ مار کر کہنے لگےکہ”تمھارےحساب سےیہ غریب توپُورےدوہزارسال لیٹ ہوگیا۔ مگر میں تم سےایک بات پُوچھتاہوں ۔ کہ کیاتم اپنےتئیں قبل ازوقت پیداہونےوالوں میں شمارکرتےہو؟ کیاسمجھے؟“
شکلاجی شرماتےلجاتےپھربیچ میں کُودپڑے”اگرتمہارامطلب وہی ہےجومیں سمجھاہُوں توبڑی ویسی بات ہے۔“
یہ نوک جھونک چل رہی تھی کہ پہلا درویش پھرگھمبیرلہجےمیں بولا”قاعدہ ہےکہ کوئی دوراپنےآپ سےمطمئن نہیں ہوتا۔ آج آپ اکبر اعظم کے دور کو یاد کر کے روتے ہیں۔لیکن یقین ہےکہ اگرآپ اکبرکےعہدمیں پیداہوتےتوعلاءالدین خلجی کےوقتوں کو یاد کرکے آبدیدہ ہوتے۔ اپنےعہدسےغیرمطمئن ہونابجائےخودترقّی کی نشانی ہے۔“
”سچ تویہ ہےکہ حکومتوں کےعلاوہ کوئی بھی اپنی موجُودہ ترقّی سےمطمئن نہیں ہوتا“
چُگی ڈاڑھی والےدرویش نےکہا۔
میں نےپہلےدرویش کوسہارادیا”آپ بجافرماتےہیں۔ اِسی بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتےہیں کہ اگرکوئی باپ اپنےبیٹےسےسوفی صدمطمئن ہےتوسمجھ لیجئےکہ یہ گھرانارُوبہ زوال ہے۔ برخلاف اس کے، اگروئی بیٹااپنےباپ کےدوستوں سےملانےسےشرمانےلگےتویہ علامت ہےاِس بات کی کہ خاندان آگےبڑھ رہاہے۔“
”مگراس کوکیاکیجئےکہ آج کل کےنوجوان مطلب کی خاطرباپ کوبھی باپ ہی مان لیتےہیں! کیاسمجھے؟“آغانےکہا۔
سب کوبڑاتعجب ہوا کہ آغاپہلی ملاقات میں مُجھ سےبےتکلّف ہوگئے— اتنےکہ دوسری صُبحت میں انھوں نےمجھےنہ صرف اپنا پہلونٹی کاشعربڑےلحن سےسُنایابلکہ مجھ سےاپنےوہ اداریےبھی پڑھوا کر سُنےجوسترہ اٹھارہ سال پہلےاُنھوں نےاپنےماہ نامے”سُرودِرفتہ“میں پُرانی نسل کےبارےمیں مندرجہ ذیل نوٹ کےساتھ شائع کیےتھے:
”قارئین کااڈیٹرکی رائےسےمتفق ہوناضروری نہیں۔“
یہ ربط ضبط دن بدن بڑھتاگیا۔ میں اس تقّربِ خاص پرنازاں تھاگو کہ حاسدوں کو–اورخودمجھےبھی–اپنی سیرت میں بظاہرکوئی ایسی بات نظرنہیں آتی تھی جوآغاکی پسندیدگی کاباعث ہو۔ خیرایک روزاُنھوں نےخودیہ عقدہ حل کردیا۔ فرمایاتمھاری صورت عین مین ہمارےایک ماموں سےمِلتی ہےجومیٹرک کانتیجہ نکلتےہی ایسےرُوپوش ہُوئےکہ آج تک مفقودالخبرہیں۔
انگریزوں کاوطیرہ ہےکہ وہ کسی عمارت کواس وقت تک خاطرمیں نہیں لاتےجب تک وہ کھنڈرنہ ہوجائے۔ اسی طرح ہمارےہاں بعض محتاط حضرات کِسی کےحق میں کلمئہ خیرکہناروانہیں سمجھتےتاوقتیکہ ممدُوح کاچہلم نہ ہوجائے۔ آغاکوبھی ماضی بعیدسے، خواہ اپناہویاپرایا، والہانہ وابستگی تھی۔ جس کاایک ثبوت ان کی 1927ئ ماڈل کی فورڈکارتھی جو انھوں نے1955ئ میں ایک ضعیف العمرپارسی سےتقریباًمفت لی تھی۔ اس کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ چلتی بھی تھی اوروہ بھی اِس میانہ روی کےساتھ محلّےکےلونڈےٹھلِوےجب اورجہاں چاہتےچلتی گاڑی میں کُودکربیٹھ جاتے۔ آغانےکبھی تعّرض نہیں کیا۔ کیونکہ اگلےچوراہےپرجب یہ دھکڑدھکڑکرکےدم توڑدیتی تویہی سواریاں دھکّےلگالگاکرمنزِل مقصُودتک پہنچا آتیں۔ اس صورت میں پٹرول کی بچت توخیر تھی ہی ،لیکن بڑافائدہ یہ تھاکہ انجن بندہوجانےکےسبب کارزیادہ تیزچلتی تھی۔ واقعی ا س کارکاچلنااورچلانامعجزہ فن سےکم نہ تھااس لیےکہ اس میں پٹرول سےزیادہ خون جلتاتھا۔ آغادل ہی دِل میں کُڑھتےاوراپنےمصنُوعی دانت پِیس کررہ جاتے۔ لیکن کوئی یہ کارہدیتاً لینے کے لیے بھی رضامندنہ ہوتا۔ کئی مرتبہ توایساہُواکہ تنگ آکرآغاکارکوشہرسےدُورکِسی پیپل کےنیچےکھڑاکرکےراتوں رات بھاگ آئے۔ لیکن ہرمرتبہ پولیس نےکار سرکاری خرچ پرٹھیل ٹھال کرآغاکےگھربحفاظت تمام پُہنچادی۔
غرضیکہ، اس کارکوعلیٰحدہ کرنااِتناہی دُشوارنِکلاجتنااس کورکھنا۔ پھریہ بات بھی تھی کہ اِس سےبہت تاریخی حادثوں کی یادیں وابستہ تھیں جن میں آغا بےعزّتی سےبری ہُوئےتھے۔ انجام کار، ایک سُہانی صبح فورڈکمپنی والوں نےاُن کوپیغام بھیجاکہ یہ کارہمیں لوٹا دو۔ ہم اس کو پبلسٹی کےلیےاپنےقدیم ماڈلوں کےمیوزیم میں رکھیں گےاوراس کےبدلےسالِ رواں کےماڈل کی بڑی کار تمھیں پیش کریں گے۔ شہر کےہرکافی ہاؤس میں آغاکی خوش نصیبی اور کمپنی کی فیاضی کےچرچےہونےلگے۔ اوریہ چرچےاُس وقت ختم ہُوئے جب آغانےاس پیش کش کوحقارت کےساتھ مستردکردیا۔
کہنےلگے”دولُوں گا!“
کمپنی خاموش ہوگئی اورآغامُدتوں اس کےمقامی کارندوں کی نااہلی اورناعاقبت اندیشی پرافسوس کرتےرہے۔ کہتےتھے”لالچی کہیں گی!پانچ سال بعدتین دینی پڑیں گی!دیکھ لینا!“
وہ خلوصِ نیّت سےاس دورکوکلجگ کہتے اور سمجھتے تھے۔ جہاں کوئی نئی چیز، کوئی نئی صُورت نظرپڑی اوراُنھوں کچ کچاکےآنکھیں بندکیں اور یادِرفتگاں کےاتھاہ سمندرمیں غڑاپ سےغوطہ لگایا۔ اورکبھی ایسانہیں ہُواکہ کندھےپرایک آدھ لاش لادےبرآمدنہ ہُوئےہوں۔ کہیں کوئی بات بارِخاطرہُوئی اوراُنھوں نے”یادش بخیر’ کہہ کربِیتےسمےاوربچھڑی ہُوئی صُورتوں کی تصویرکھینچ کےرکھ دی۔ذرا کوئی امریکی طورطریق یاوضع قطع ناگوارگزری اوراُنھوں نےکولمبس کوگالیاں دینی شروع کیں۔وہ فی الواقع محسوس کرتےکہ ان کےلڑکپن میں گنّےزیادہ میٹھےاورملائم ہواکرتےتھے۔ میرے سامنے بارہا اتنی سی بات منوانے کے لیے مرنے مارنے پر تُل گئےکہ اُن کےبچپنےمیں چنے ہرگزاتنےسخت نہیں ہوتے تھے۔ کہتےتھےآپ نہ مانیں ، یہ اوربات ہے، مگرٹھوس حقیت ہےکہ گزشتہ پندرہ بیس سال میں قطب مینارکی سیڑھیاں گھسِنےکی بجائےاورزیادہ اُونچی ہوگئی ہیں۔ اوراس کےثبوت میں اپنےحالیہ سفردہلی کاتجربہ ہانپ ہانپ کربیان کرتے۔ چونکہ ہم میں کسی کےپاس پاسپورٹ تک نہ تھا، اس لیےاس منزل پربحث کاپلّہ ہمیشہ اُن کےحق میں جُھک جاتا۔ من جملہ دیگرعقائد کی،اُن کاایمان تھاکہ بکری کاگوشت اب اِتناحلوان نہیں ہوتاجتناان کےوقتوںمیں ہُواکرتاتھا۔ ممکن ہےاس میں کچھ حقیقت بھی ہومگروہ ایک لمحےکویہ سوچنےکےلیےتیارنہ تھےکہ اس میں دانتوں کاقصُور یا آنتوں کافتوربھی ہوسکتاہے۔ وُہ ریشےدارگوشت کوقصائی کےبےایمانی سےزیادہ بکری اپنی بداعمالیوںسےمنسُوب کرتے۔ چنانچہ بعض اوقات خلال کرتےکرتےاس زمانےکو یادکرکےاُن کاگلارندھ جاتاجب بکریاں اللہ میاں کی گائےہُواکرتی تھیں۔
ہم نےانھیں نشہ کرتےنہیں دیکھا۔ تاہم ان کادعویٰ تھاکہ میرےلڑکپن میں سرولی آم خربوزےکےبرابرہوتےہیں۔ ہم نےکبھی اس کی تردیدنہیں کی۔ اس لئےکہ ہم اپنےگئےگزرےزمانےمیں روزانہ ایسےخربوزےبکثرت دیکھ رہےتھےجوواقعی آم کےبرابرتھے!بات سرولی پرہی ختم ہوجاتی توصبر آجاتا، لیکن وہ تو یہاں تک کہتےتھےکہ اگلےوقتوں کے لوگ بھی غضب کےلمبےچوڑےہوتےتھے۔ ثبوت کےطورپراپنےتایاابّاکی رسولی کےسائزکاحوالہ دیتےجومقامی میڈیکل کالج نےاسپرٹ میں محفوظ کررکھی تھی۔ کہتےتھےآپ صرف اِسی سےاُن کی صحّت کااندازہ کرلیجئیے۔ یہ سُن کرہم سب ایک دُوسرے کا مُنہ دیکھنےلگتے، اس لیےکہ اوّل توہمارےبُزرگ اُن بُزرگوں کےمقابلےابھی بچےہی تھے۔ دوم، ہم سےکِسی کےبُزرگ کی رسولی ابھی تک منظرعام پرنہیں آئی تھی۔
اس کلجگ کااثرجہاں اورچیزوں ، خصُوصاًاشیائےخورونوش ، پرپڑا، وہاں موسم بھی اس کےچنگل سےنہ بچ سکا۔ اوائل جنوری کی ایک سردشام تھی۔ آغا نے ٹھنڈا سانس بھرکرکہا، کیاوقت آلگاہے! ورنہ بیس سال پہلےجنوری میں اس کڑاکےکی سردی نہیں پڑتی تھی کہ پنج وقتہ تیمّم کرناپڑے۔ چگّی ڈاڑھی والےدرویش نےسوال کیا، کہیں اس کی وجہ تو نہیں کہ تم اس زمانےمیں عیدکی نمازپڑھتےتھے؟ لیکن بہت کچُھ بحث وتمحیص کےبعدیہ طےپایاکہ محکمہ موسمیات کےریکارڈسےآغاکوقائل کیاجائے۔
آغادونوں ہاتھ گھٹنوں میں دےکربولے”صاحب!ہم تواتناجانتےہیں کہ بیس برس پہلےاِتنی کم سردی پڑتی تھی کہ ایک پتلی سےدُلائی میں پسینہ آنے لگتا تھا اوراب پانچ سیررُوئی کےلحاف میں بھی سردی نہیں جاتی!کیاسمجھے؟“
وہ کُچھ اوردلائل بھی پیش کرناچاہتےتھےلیکن اُن کی کٹکٹی بندہ گئی اوربحث ایک دفعہ پھرانہی کےحق میں ختم ہوگئی۔
قدیم نصابِ تعلیم کےوہ بےمعّرف ومدّاح تھے۔ اکثرکہتےکہ ہمارےبچپن میں کتابیں اتنی آسان ہوتی تھیں کہ بچّے،اُن کےوالدین بھی سمجھ سکتے تھے۔اسی رو میں اپنی یونیورسٹی کاذکربڑی للک سےکرتےاورکہتےکہ ہمارےوقتوں میں ممتحن اِتنےلائق ہوتےتھےکہ کوئی لڑکافیل نہیں ہوسکتاتھا۔ قسمیں کھا کھا کرہمیں یقین دلاتےکہ ہماری یونیورسٹی میں فیل ہونےکےلیےغیرمعمُولی قابلیت درکارتھی۔ جس شہر میں یونیورسٹی واقع تھی، اسےوہ عرصے سے اُجڑا دیار کہنے کے عادی تھے۔ ایک دن میں نےآڑےہاتھوں لیا۔”آغا!خُداسےڈرو! وہ شہرتمھیں اُجاڑدکھائی دیتاہے؟ حالانکہ وہاں کی آبادی پانچ ہزارسےبڑھ کرساڑھےتین لاکھ ہوگئی ہے!“
”مسلمان ہو؟“
”ہوں تو۔“
”دوزخ پرایمان ہے؟“
”ہے۔“
”وہاں کی آبادی بھی توروزبروزبڑھتی جارہی ہے!کیاسمجھے؟“
اخترشیرانی کی ایک بڑی مشہورنظم ہےجس میں انھوں نےیارانِ وطن کی خیروعافیت پُوچھنےکےبعد، دیس سےآنےوالےکی خاصی خبرلی ہے۔اِس بھولے بھالے سوال نامےکےتیورصاف کہ رہےہیں کہ شاعرکویقینِ واثق ہےکہ اُس کےپردیس سِدھارتے ہی نہ صرف دیس کی ریت رسم بلکہ موسم بھی بدل گیا ہوگا۔اورندی ندلےاورتالاب سب ایک ایک کرکےسُوکھ گئےہوں گے۔ آغاکواپنےآبائی گاؤں چاکسُو(خُورد)سےبھی کُچھ اِسی نوع کی توقّعات وابستہ تھیں۔
چاکسُو(خوردُ) دراصل ایک قدیم گاؤں تھاجوچاکسُوکلاں سےچھوٹاتھا۔ یہاںلوگ اب تک ہوائی جہازکوچیل گاڑی کےنام سےیادکرتےتھی۔لیکن آغا اپنے لعابِ ذہن سےاس کےگرداگردیادوں کاریشمی جالابُنتےرہے، یہاں تک کہ اُس نےایک تہ دار کوئےکی شکل اختیارکرلی جِسےچیرکر(آغاکاتوکیاذکر)جمیع باشندگانِ چاکسُوباہرنہیں نِکل سکتےتھے۔ ادھرچنددنوں سےوہ ان تنگ وتاریک گلیوں کو یاد کرکے زاروقطار رورہےتھے، جہاں بقول ان کےجوانی کھوئی تھی۔ حالانکہ ہم سب کو ان کی سوانح عُمرِی میں سوانح کم، اورعُمرزیادہ نظرآتی تھی لیکن جب اُن کےیادش بخیریانےشدّت اختیارکی تودوستوں میں یہ صلاح ٹھہری کہ ان کودوتین مہینےکےلیےاسی گاؤں میں بھیج دیاجائےجس کی زمین اُن کوحافظےکی خرابی کےسبب چہارم آسمان دکھائی دیتی ہے۔
چنانچہ گزشتہ مارچ میں آغاایک مدّت مدید(تیس سال) کےبعداپنےگاؤں گئے۔ لیکن وہاں سےلوٹےتوکافی آزردہ تھے۔ انھیں اس بات سےرنج پہنچاکہ جہاں پہلےایک جوہڑتھاجس میں دن بھربھینسیں اوران کےمالکوں کےبچّےپڑےرہتےتھے، وہاں پراب ایک پرائمری اسکول کھڑاتھا۔ اس میں انھیں صریحاً چاکسُو کلاں والوں کی شرارت معلوم ہوتی تھی ۔ جُوں توُں ایک دن وہاں گزارااورپہلی ٹرین سےاپنی پُرانی یونیورسٹی پہنچے۔ مگروہاں سےبھی شاموں شام واپس آئے۔ بےحدمغموم وگرفتہ دل ۔ انھیں یہ دیکھ کربڑی مایوسی ہوئی کہ یونیورسٹی اب تک چل رہی ہے! ان جیسےحسّاس آدمی کےلیےبڑےدُکھ اوراچنبھےکی بات تھی کہ وہاں مارچ میں اب پُھول کِھلتےہیں اورگلاب سُرخ اورسبزہ ہراہوتا ہے۔ دراصل ایک مثالی ”اولڈبوائے“ کی طرح وہ اس وقت تک اس صحّت مند غلط فہمی میں مبتلاتھےکہ ساری چونچالی اورتمام خوش دِلی اورخوش باشی ان کی نسل پرختم ہوگئی۔
آغاکی عمرکابھیدنہیں کھلا۔لیکن جن دِنوں میراتعارف ہُوا،وُہ عمرکی اس کٹھن گھاٹی سےگزررہےتھےجب جوان اُن کوبوڑھاجان کرکتراتےاوربوڑھےکل کالونڈاسمجھکرمُنہ نہیں لگاتےتھے۔ جن حضرات کوآغااپناہم عمربتاتےرہے، اِن میں سےاکثراُن کومُنہ درمُنہ چچاکہتےتھی۔خیر،اُن کی عمرکچھ بھی ہو، مگرمیرا خیال ہےکہ وہ اُن لوگوں میں سےتھےجوکبھی جوان نہیں ہوتے۔ جب کبھی وہ اپنی جوانی کےقصّےسنانےبیٹھتےتونوجوان ان کویکسرفرضی سمجھتے۔ وہ غلطی پرتھے۔ کیونکہ قصّےہی نہیں، ان کی ساری جوانی قطعی فرضی تھی۔ ویسےیہ کوئی انہونی بات نہیں۔ اس لیےکہ بعض اشخاص عمرکی کِسی نہ کسی منزل کوپھلانگ جاتےہیں۔ مثال کےطورپرشیخ سعدی کےمتعلق یہ باورکرنےکوجی نہیں چاہتاکہ وہ کبھی بچّہ رہےہوں گے۔ حالی جوان ہونے سے پیشتر بُڑھاگئے۔مہدی الافادی جذباتی اعتبارسے، ادھیڑ پیدا ہوئے اور ادھیڑ مرے۔ شبلی نےعمِر طبیعی کےخلاف جہاد کرکےثابت کردیاکہ عشق عطیّہ قدرت ہے۔ پیروجواں کی قیدنہیں۔
مومن ہےتوبےتیغ بھی لڑتاہےسپاہی
اوراخترشیرانی جب تک جئےدائمی نوجوانی میں مبتلارہےاور آخراِسی میں انتقال کیا۔ اِس سےاخترشیرانی کی تنقیض یا آغاکی مذّمت مقصُودنہیں کہ میرےکانوں میں آج بھی آغاکےوہ الفاظ گونج رہےہیں جوانھوں نےٹیگورپرنکتہ چینی کرتےہوئےکہےتھی”برامانویابھلا۔ لیکن جوان مولوی اور بوڑھے شاعر پر اپنا دِل تونہیں ٹھکتا۔کیاسمجھے؟“
اُن کی شادی کےمتعلق اتنی ہی روایتیں تھیں جتنےان کےدوست !بعضوں کاکہناتھاکہ بی ۔اےکےنتیجےسےاس قدربددل ہُوئےکہ خودکشی کی ٹھان لی۔ بوڑھےوالدین نےسمجھایاکہ بیٹاخودکشی نہ کرو، شادی کرلو۔ چنانچہ شادی ہوگئی۔ مگرابھی سہرےکےپُھول بھی پوری طرح نہ مُرجھائےہوں گےکہ یہ فکر لاحق ہوگئی کہ بچپن انھیں اسیر پنجہ عہدشباب کرکےکہاں چلاگیااوروہ اپنی آزادی کےایّام کوبےطرح یاد کرنے لگے۔حتّیٰ کہ اُس نیک بخت کوبھی رحم آگیااوروہ ہمیشہ کےلیےاپنےمیکےچلی گئی۔
اس سےمہربخشوانےکےٹھیک پندرہ سال بعدایک مُسِن خاتون کومحض اس بِناپرحبالہ نکاح میں لائےکہ پنتیس سال اورتین شوہرقبل موصُوفہ نےچاکسومیں اُن کےساتھ اماوس کی رات میں آنکھ مچولی کھیلتےوقت چٹکی لی تھی۔جس کانِیل ان کےحافظےمیں جُوں کا تُوں محفوظ تھا۔ لیکن آغااپنی عادت سے مجبُور تھے۔ اس کےسامنےاپنی پہلی بیوی کی اٹھتےبیٹھتےاس قدرتعریف کی کہ اس نےبہت جلد طلاق لےلی۔ اتنی جلدکہ ایک دِن انگلیوں پرحساب لگایا تو بچاری کی ازواجی زندگی، عِدّت کی میعادسےبھی مختصرنِکلی! آغاہرسال نہایت پابندی اوردُھوم دھام سےدونوں طلاقوں کی سالگرہ منایاکرتےتھے۔ پہلی طلاق کی سلورجوبلی راقم الحروف کوبھی شرکت کااِتفاق ہُوا۔
دوسری خانہ بربادی کےبعدشادی نہیں، اگرچہ نظرمیں آخری دم تک سہرےکےپُھول کِھلتے اور مہکتے رہے۔
یُوں ترنگ میں ہوں توانھیں ہرعاقل وبالغ خاتون میں اپنی اہلیہ بننےکی صلاحیت نظرآتی تھی۔ ایسےنازک ونایاب لمحات میں وہ کتابوں کی الماری سے بیئر پینےکاایک گلاس نکالتےجوایک یادگارنمائش سےدُودھ پینےکےلیےخریداتھا۔ اب اس میں سکنجبین بھرکےجُرعہ جُرعہ حلق میں اُنڈیلتےرہتےاورماضی کےنشہ سےسرشارہوکرخُوب بہکتے۔ اپنےآپ پرسنگین تہمتیں لگاتےاورعورت ذات کونقصان پُہنچانےکےضمن میں ٥٥ سالہ منصوبوں کااعلان کرتےجاتے۔ پھرجیسےجیسےعُمراورناتجربہ کاری بڑھتی گئی وہ ہرخاموش خاتون کونیم رضامندسمجھنےلگے۔ نہ جانےکُیوں اورکیسےانھیں یہ اندیشہ ہوچلاتھاکہ حوّاکی ساری نسل انہی کی گھات میں بیٹھی ہے۔ مگرکسی اللہ کی بندی کی ہمّت نہیں پڑتی کہ اُن کی پُرغرورگردن میں گھنٹی باندھ دے۔ لیکن سوائے آغا کے سب جانتے تھےکہ وہ صنفِ نازک کےحضُورہمیشہ سرتاپا! بن کرگئےجب کہ انھیں مجسّم ؟ ہوناچاہیےتھا۔ایک دن چُگی ڈاڑھی والےدرویش نےدبی زبان سےکہاکہ آغاتم دہلیز ہی چُومتے رہ گئے۔دستک دینےکی ہمّت تمھیں کبھی نہیں ہُوئی۔ ہنسے۔ کہنےلگے، میاں! ہم تودرویش ہیں۔ اِک گھونٹ لیا، دِل شادکیا، خوش ہُوئےاورچل نِکلے۔ ملنگ کےدِل میں سبیل پرقبضہ کرنےکی خواہش نہیں ہوتی۔
سینمادیکھنےکےشائق تھے۔ اگرچہ اس کےمواقع بہت کم ملتےتھے۔ صرف وہ تصویریں چاؤ سےدیکھتےجِن میں اُن کےزمانےکی محُبوب ایکٹرسیں ہیروئن کارول اداکررہی ہوں۔ مگردِقّت یہ تھی کہ ان کےچہرےیاتواب اسکرین پرنظرہی نہیں آتےتھے، یاپھرضرورت سےزیادہ نظرآجاتےتھے۔ اُن میں سےجوحیات تھیں،اورچلنےپھرنےکےقابل، وہ اب ہیروئن کی نانی اورساس کارول نہایت خوش اسلوبی سےاداکررہی تھیں۔ جس سےظاہر ہے کہ آغاکوکیادِل چسپی ہوسکتی ہے۔ البتہ چھٹےچھماہے”پکار“ یا”ماتاہری“قسم کی فِلم آجاتی توآغاکےدِل کاکنول کِھل جاتا۔چُگی ڈاڑھی والےدرویش کابیان ہےکہ آغا گریٹا گاربو پر محض اِس لیےفریفتہ تھےکہ وہ انہی کی عُمروں تھی۔ ہرچند اس قبیل کی فلمیں دیکھ کرہرتندرست آدمی کواپنی سماعت اوربصارت پر شبہ ہونے لگتا۔ لیکن آغا کو ان کےمناظراورمکالمےازبرہوچکےتھےاوروہ اس معاملےمیں،ہماری آپ کی طرح، اپنےحواس خمسہ کےچنداں محتاج نہ تھے۔ یہ باسی فلمیں دیکھتےوقت انھیں ایک باڑھ پر آئے ہوئے بدن کی جانی پہچانی تیزاورتُرش مہک آتی جواپنےہی وُجودکےکسی گوشےسےپُھوٹتی ہُوئی محسوس ہوتی تھی۔
باسی پُھول میں جیسےخوشبو، پُھول پہننےوالےکی ان کےمِٹتےہُوئےنقوش میں اور ان مقامات پرجہاں پچیس سال پہلےدِل بُری طرح دھڑکاتھا،انھیں ایک بچھڑےہُوئےہمزادکاعکس دکھائی دیتاجووقت کےاُس پارانھیں بُلارہاتھا۔
سب جانتےتھےکہ آغاکی زندگی بہت جلدایک خاص نقطےپرپُہنچ کرساکن ہوگئی۔ جیسےگراموفون کی سُوئی کسی میٹھےبول پراٹک جائے۔ لیکن کم احباب کوعلم ہوگاکہ آغا اپنے ذہنی ہکلے پن سےبےخبرنہ تھے۔ اکثرکہاکرتےکہ جس وقت میرےہم سن کبّڈی میں وقت ضائع کرتےہوتے، تومیں اکیلاجوہڑکےکنارےبیٹھااپنی یادداشت سےریت اورگارےکالال قلعہ بناتاجسےمیں نےپہلی باراُس زمانےمیں دیکھاتھاجب حلواسوہن کھاتےہُوئےپہلادُودھ کادانت ٹوٹاتھا۔ بڑےہوکرآغانےشاہ جہانی شغل(ہمارااشارہ حلواسوہن سےدانت اکھاڑنےکی طرف نہیں، تعمیر قلعہ جات کی طرف ہی) ترک نہیں کیا۔بس ذراترمیم کرلی۔ اب بھی وہ یادوں کےقلعےبناتےتھے۔ فرق صرف اتناتھاکہ اب بہتر مسالہ لگاتےاورریت کےبجائےاصلی سنگِ مرمروافرمقدارمیں استعمال کرتے۔ بلکہ جہاں صرف سِل کی گنجائش ہوتی، وہاں دولگاتے۔ نیزبُرج اورمینارنقشےکےمُطابق بےجوڑہاتھی دانت کےبناتے۔مدّت العمرشیشےکی فصیلوں پراپنی منجنیق نصب کرکےوہ بالشتیوں کی دُنیاپرپتھراؤ کرتےرہے۔ اِن قلعوں میں غنیم کےداخل ہونےکاکوئی راستہ نہیں تھا۔ بلکہ اپنےنکلنےکابھی کوئی راستہ نہیں رکھاتھا۔
یہ نہیں کہ انھیں اس کااحساس نہ ہو۔ اپناحال ان پربخوبی روشن تھا۔ اس کاعلم مجھےیُوں ہواکہ ایک دفعہ باتوں ہی باتوں میں یہ بحث چل نکلی کہ ماضی سےلگاؤ ضعف پیداکرتاہے۔ پہلےدرویش (جن کاروپیہ ان کی جوانی سےپہلےجواب دےگیا)نےتائیدکرتےہوئےفرمایاکہ جتناوقت اورروپیہ بچّوں کو ”مُسلمانوں کےسائینس پراحسانات “ رٹانےمیں صرف کیاجاتا ہے، اس کادسواں حصّہ بھی بچوں کوسائینس پڑھانےمیں صرف کیاجائےتومسلمانوں پر بڑا احسان ہوگا۔ غورکیجئےتوامریکہ کی ترقی کاسبب یہی ہےکہ اس کاکوئی ماضی نہیں۔ چُگی ڈاڑھی والادرویش گویاہُوا”قدیم داستانوں میں باربارایسے آسیبی صحراکاذکرآتاہے، جہاں آدمی پیچھےمڑکردیکھ لے تو پتّھر کا ہوجائے۔یہ صحراہمارےاپنےمن کےاندرہے، باہرنہیں!“ پہلےدرویش نے بپھر کر دیومالا سے منطقی نتیجہ نکالتےہُوئےکہا۔”اپنےماضی سےشیفتگی رکھنےوالوں کی مثال ایک ایسی مخلوق کی سی ہےجِس کی آنکھیں گُدّی کےپیچھےلگی ہُوئی ہوں۔ چھان بین کیجئےتوبات بات پریادایّامیکہ، اور’یادش بخیر‘کی ہانک لگانےوالےوہی نکلیں گےجن کامستقبل نہیں۔“
آغانےیک لخت ماضی کےمرغزاروں سےسرنکال کرفائرکیا۔”یادش بخیرکی بھی ایک ہی رہی ۔ اپناتوعقیدہ ہےکہ جسےماضی یادنہیں آتااس کی زندگی میں شایدکبھی کچھ ہُواہی نہیں۔ لیکن جواپنےماضی کویادہی نہیں کرناچاہتاوُہ یقیناًلوفررہاہوگا۔کیاسمجھے؟“
مُدتیں گزریں۔ ٹھیک یادنہیں بحث کِن دِل آزارمراحل سےگزرتی اس تجریدی نکتے پر آپہنچی کہ ماضی ہی اٹل حقیقت ہے۔ اس لیےکہ ایک نہ ایک دن یہ اژدہاحال اورمستقبل دونوں کونِگل جائےگا۔ دیکھاجائےتوہرلمحہ اورہرلحظہ ، ہرآن اورہرپل ماضی کی جیت ہورہی ہے۔ آنےوالاکل آج میں اورآج گزرےہُوئےکل میں بدل جاتا ہے۔ اس پرپہلےدرویش نےیہ فیصلہ صادرفرمایاکہ ایشاکاحال اس شخض جیساہےجس نے
گئےجنم کی تمنّامیں خودکشی کرلی
مشرق نےکبھی پل کےرُوپ سُروپ سےپیارکرنانہیں سیکھا۔ جیناہےتوپِھسلتےسرسراتےلمحےکودانتوں سےپکڑو۔ گزرتےلمحےکوبےجھپک چھاتی سےلگاؤ، اس کی نس نس میں ماضی کانیم گرم خُون دوڑ رہا ہے۔ اسی کی جیتی جیتی کوکھ سےمستقبل جنم لےگا۔ اوراپنی چھل بل دکھاکرآخر اسی طرف لوٹےگا۔
یہاں چُگی ڈاڑھی والےدرویش نےاچانک بریک لگایا” آپ کےننّھےمُنّےلمحےکےنجیب الطرفین ہونے میں کیا کلام ہے۔لیکن بیتی ہُوئی گھڑیوں کی آرزو کرنا ایسا ہی ہےجیسےٹوتھ پیسٹ کوواپس ٹیوب میں گُھسانا!لاکھ یہ دنیاظلمت کدہ سہی۔ لیکن کیا اچّھاہوکہ ہم ماضی کےدُھندلےخاکوں میں چیختے چنگھاڑتے رنگ بھرنےکی بجائےحال کوروشن کرناسیکھیں۔“
آغانےایک بارپھرتُرپ پھینکا۔”بھئی ہم توباورچی خانےپرسفیدی کرنےکےقائل نہیں!“
بات یہ ہےکہ بہت کم لوگ جی داری سےادھیڑپن کامقابلہ کرپاتےہیں ۔ غبی ہوں تواس کےوجودسےہی منحرف ۔ اورذراذہین ہوں توپہلاسفیدبال نظر پڑتےہی اپنی کایاکوماضی کی اندھی سُرنگ کےخنک اندھیروں میں ٹھنڈاہونےکےلیےڈال دیتےہیں۔ اوروہاں سےنِکلنےکانام نہیں لیتےجب تک کہ وقت ان کےسروں پربرف کےگالےنہ بکھیردی۔ بال سفیدکرنےکےلیےاگرچہ کسی تیاگ اورتپسیاکی ضرورت نہیں۔ تاہم ایک رچی بسی باوقارسُپردگی کےساتھ بوڑھے ہونےکافن اورایک آن کےساتھ پسپاہونےکےپینترےبڑی مشکل سے آتے ہیں ۔ اورایک بڑھاپےپرہی موقوف نہیں۔ حُسن اورجوانی سےبہرہ یاب ہونےکاسلیقہ بھی کچھ کچھ اس وقت پیداہوتاہےجب واہ ایک گہری آہ اورآہ ایک لمبی کراہ میں بد ل چکی ہوتی ہے۔
قدرت کےکھیل نرالےہیں۔ جب وہ دانت دیتی ہےتوچنےنہیں ہوتے۔ اورجب چنےدینےپرآتی ہےتودانت ندارد۔ آغاکاالمیہ یہ تھاکہ جب قُدرت نےان کو دانت اورچنےدونوں بخشےتو انھوں نےدانتوں کواستعمال نہیں کیا۔ لیکن جب دانت عدم استعمال سےکمزورہوکرایک ایک کرکےگِرگئےتوانھیں پہلی دفعہ چنوں کےسوندھےوجودکااحساس ہُوا۔پہلےتوبہت سٹ پٹائے۔ پھردانتوں کو یاد کرکے خُود روتےاوردُنیا کو رُلاتے رہے۔عبارت آرائی برطرف، امرواقعہ یہ ہےکہ آغانےبچپن اورجوانی میں بجزشطرنج کےکوئی کھیل نہیں کھیلا۔ حدیہ کہ جُوتےکےتسمےبھی کھڑےکھڑےاپنےنوکروں سے بندھوائے۔ مگر جُونہی پچپن کےپیٹےمیں آئے، اس بات سےبڑےرنجیدہ رہنےلگےکہ اب ہم تین قِسطوں میں بھی ایک بیٹھک نہیں لگاسکتے۔ اس میں وہ قدرےغلوسےکام لیتے تھے۔ کیونکہ ہم نےبچشمِ خوددیکھاکہ نہ صرف ایک ہی ہلّےمیں اڑاڑاکےبیٹھ جاتے، بلکہ اکثروبیشتربیٹھےہی رہ جاتے۔ اِس لحاظ سےچُگی ڈاڑھی والےدرویش بھی کچھ کم نہ تھے۔ زندگی بھرکیرم کھیلااورجاسوسی ناول پڑھے۔ اب اِن حالوں کو پہنچ گئےتھےکہ اپنی سال گرہ کےکیک کی موم بتیاں تک پُھونک مارکرنہیں بُجھاسکتےتھے۔ لہٰذاان کےنواسےکوپنکھاجھل کربُجھاناپڑتی تھیں۔ اس کےعلاوہ نظراتنی موٹی ہوگئی تھی کہ عورتوں نےان سےپردہ کرنا چھوڑ دیا۔ عُمرکااندازہ بس اس سےکرلیجئےکہ تین مُصنوعی دانت تک ٹوٹ چکےتھے۔
بایں سامانِ عاقبت،شکلاجی اورآغاکےسامنےاکثر رُباعی کےپردےمیں اپنی ایک آرزوکابرملااظہارکرتےجِسےکم وبیش سےاپناخُون پلا پلا کرپال رہےتھے۔
خلاصہ اس دائمی حسرت کایہ تھاکہ ننانوےسال کی عُمرپائیں اورمرنےسےپہلےایک — بس ایک بار–مجرمانہ دست درازی میں ماخوذہوں۔ ایک دفعہ زکام میں مُبتلا تھے۔ مجھ سےفرمائش کی”میاں!میری رُباعی ترنّم سےپڑھ کرسُناؤ۔“میں نےتامّل کیا،فرمایا”پڑھوبھی۔ شرع اورشاعری میں کاہےکی شرم!“
گو آغاتمام عمررہین ستم ہائےروزگاررہےلیکن چاکسوکی یاد سےایک لحظہ غافل نہیں رہے۔ چنانچہ ان کی میّت آخری وصیّت کےمطابق سات سومیل دُور چاکسو خورد لےجائی گئی۔ اورچاکسوکلاں کی جانب پاؤں کرکےاُسےقبرمیں اُتاراگیا۔
لاریب وہ جنتی تھے۔ کیونکہ وہ کسی بُرےمیں نہیں تھے۔ اُنھوں نےاپنی ذات کےعلاوہ کبھی کسی کوگزندنہیں پہنچایا۔ ان کےجنتّی ہونےمیں یُوں بھی شبہ نہیں کہ جنت واحدایسی جگہ ہےجس کاحال اورمستقبل اس کےماضی سےبہتر نہیں ہوسکتا!
لیکن نہ جانےکیوں میرادِل گواہی دیتاہےکہ وہ جنّت میں بھی خوش نہیں ہوں گےاوریادش بخیرکہہ کرجنتّیوں کواسی جہان گذراں کی داستان پاستاں سُنا سُناکر للچاتے ہوں گےجِسےجیتےجی دوزخ سمجھتے رہے۔

چارپائی اورکلچر
ایک فرانسیسی مفکرّکہتاہےکہ موسیقی میں مجھےجوبات پسندہےوہ دراصل وہ حسین خواتین ہیں جواپنی ننھی ننھی ہتھیلیوں پرٹھوڑیاں رکھ کر اسے سنتی ہیں ۔ یہ قول میں نےاپنی بریّت میں اس لیےنقل نہیں کیاکہ میںجوقوّالی سےبیزارہوں تواس کی اصل وجہ وہ بزرگ ہیں جومحفلِ سماع کورونق بخشتےہیں۔اورنہ میرایہ دعویٰ کہ میں نےپیانواورپلنگ کےدرمیان کوئی ثقافتی رشتہ دریافت کرلیاہے۔ حالانکہ میں جانتاہوں کہ پہلی باربان کی کھّری چارپائی کی چرچراہٹ اورادوان کاتناؤ دیکھ کربعض نوواردسیّاح اسےسارنگی کےقبیل کاایشیائی سازسمجھتےہیں۔ کہنایہ تھاکہ میرےنزدیک چارپائی کی دِلکشی کاسبب وہ خوش باش لوگ ہیں جو اس پراُٹھتےبیٹھتےاورلیٹتےہیں۔اس کےمطالعہ سےشخصی اورقومی مزاج کےپرکھنےمیں مددملتی ہے۔ اس لیےکہ کسی شخص کی شائستگی وشرافت کااندازہ آپ صر ف سےلگاسکتےہیں کہ وہ فرصت کےلمحات میں کیاکرتاہےاوررات کوکِس قِسم کےخواب دیکھتاہے۔
چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہےجونئےتقاضوں اورضرورتوں سےعہدہ برا ہونےکےلیےنِت نئی چیزیں ایجادکرنےکی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسےنازک مواقع پرپُرانی میں نئی خوبیاں دریافت کرکےمسکرادیتی تھی۔ اس عہدکی رنگارنگ مجلسی زندگی کاتصّورچارپائی کےبغیر ممکن نہیں۔اس کاخیال آتےہی ذہن کےافق پرپہت سےسہانےمنظراُبھر آتے ہیں-اُجلی اُجلی ٹھنڈی چادریں،خس کےپنکھی، کچّی مٹّی کی سن سن کرتی کوری صُراحیاں، چھڑکاؤ سےبھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کےلدےپھندےدرخت جن میں آموں کےبجائےلڑکےلٹکےرہتےہیں-اوراُن کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پردِن بھرشطرنج کی بساط یارمی کی پھڑجمی اورجوشام کودسترخوان بچھاکرکھانےکی میزبنالی گئی۔ ذراغورسےدیکھئےتویہ وہی چارپائی ہےجس کی سیڑھی بناکرسُگھڑبیویاں مکڑی کےجالےاورچلنلےلڑکےچڑیوں کےگھونسلےاتارتےہیں۔ اسی چارپائی کووقتِ ضرورت پٹیوںسےبانس باندھ کراسٹیریچربنالیتےہیں اوربجوگ پڑجائےتوانھیں بانسوں سےایک دُوسرےکواسٹیریچرکےقابل بنایاجاسکتاہے۔ اسی طرح مریض جب گھاٹ سےلگ جائےتوتیمادارمؤخرالذِکرکےوسط میں بڑاساسوراخ کرکےاوّل الذِکرکی مشکل آسان کردیتےہیں۔ اورجب ساون میں اُودی اُودی گھٹائیں اُٹھتی ہیں توادوان کھول کرلڑکیاں دروازےکی چوکھٹ اوروالدین چارپائیوں میں جُھولتےہیں۔اسی پربیٹھ کرمولوی صاحب قمچی کےذریعہ اخلاقیات کےبنیادی اُصول ذہن نشین کراتےہیں۔ اسی پرنومولودبچّےغاؤں غاؤں کرتی، چُندھیائی ہُوئی آنکھیں کھول کراپنےوالدین کودیکھتےہیں اور روتے ہیں اوراسی پردیکھتےہی دیکھتےاپنےپیاروں کی آنکھیں بندہوجاتی ہیں۔
اگر یہ اندیشہ نہ ہوتاکہ بعض حضرات اس مضمون کوچارپائی کاپرچہ ترکیب ِ استعمال سمجھ لیں گےتواس ضمن میں کچھ اورتفصیلات پیش کرتا۔ لیکن جیسا کہ پہلےاشارہ کرچکاہُوں، یہ مضمون اس تہذیبی علاقت کاقصیدہ نہیں، مرثیہ ہے۔ تاہم بہ نظرِاحتیاط اِتنی وضاحت ضروری ہےکہ:
ہم اس نعمت کےمُنکرہیں نہ عادی
نام کی مناسبت سےپائےاگرچارہوں تومناسب ہےورنہ اس سےکم ہوں، تب بھی خلقِ خداکےکام بندنہیں ہوتے۔ اسی طرح پایوں کےحجم اورشکل کی بھی تخصیص نہیں۔ انھیں سامنےرکھ کرآپ غبی سےغبی لڑکےکواقلیدس کی تمام شکلیں سمجھاسکتےہیں۔ اوراس مہم کوسرکرنےکےبعدآپ کواحساس ہوگاکہ ابھی کچھ شکلیں ایسی رہ گئی ہیں جن کاصرف اقلیدس بلکہ تجریدی مصّوری میں بھی کوئی ذکرنہیں۔ دیہات میں ایسےپائےبہت عام ہیں جو آدھے پٹُیوں سےنیچےاورآدھےاُوپرنِکلےہوتےہیں۔ ایسی چارپائی کااُلٹاسیدھادریافت کرنےکی آسان ترکیب یہ ہےکہ جس طرف بان صاف ہووہ ہمیشہ ”اُلٹا“ ہوگا۔راقم الحروف نےایسےان گھڑپائےدیکھےہین جن کی ساخت میں بڑھئی نےمحض یہ اصول مدنظررکھاہوگاکہ بسولہ چلائےبغیرپیڑکواپنی قدرتی حالت میں جوں کاتوں پٹیوں سےوصل کردیاجائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری نظر سےخرادکےبنےایسےسڈول پائےبھی گزرےہیں جنھیں چوڑی دارپاجامہ پہنانےکوجی چاہتاہی۔اس قسم کےپایوں سےنٹومرحوم کوجووالہانہ عشق رہاہوگااس کااظہارانھوں نےاپنےایک دوست سےایک میم کی حسین ٹانگیں دیکھ کراپنےمخصوص اندازمیں کیا۔کہنےلگے:
”اگرمجھےایسی چارٹانگیں مل جائیں توانھیں کٹواکراپنےپلنگ کےپائےبنوالوں۔“
غورکیجئےتومباحثےاورمناظرےکےلیےچارپائی سےبہترکوئی جگہ نہیں۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہےکہ فریقین آمنےسامنےنہیں بلکہ عموماًاپنےحریف کی پیٹھ کاسہارالےکرآرام سےبیٹھتےہیں۔ اوربحث وتکرارکےلیےاس سےبہترطرزِنشست ممکن نہیں،کیونکہ دیکھاگیاہےکہ فریقین کوایک دوسرےکی صورت نظرنہ آئےتوکبھی آپےسےباہرنہیں ہوتے۔ اسی بناپرمیراعرصےسےیہ خیال ہےکہ اگربین الاقوامی مذکرات گول میز پرنہ ہوئےہوتےتولاکھوں جانیں تلف ہونےسےبچ جاتیں۔ آپ نےخودیکھاہوگاکہ لدی پھندی چارپائیوں پرلوگ پیٹ بھرکےاپنوں کےغیبت کرتےہیں مگردل برےنہیں ہوتے۔ اس لیےکہ سبھی جانتےہیں کہ غیبت اسی کی ہوتی ہےجسےاپناسمجھتےہیں۔ اورکچھ یوں بھی ہےکہ ہمارےہاں غیبت سےمقصودقطع محبت ہےنہ گزارش احوال واقعہ بلکہ محفل میں
لہوگرم رکھنےکاہےاِک بہانہ
لوگ گھنٹوں چارپائی پرکسمساتےرہتےہیں مگرکوئی اٹھنےکانام نہیں لیتا۔ اس لیےکہ ہرشخص اپنی جگہ بخوبی جانتاہےکہ اگروہ چلاگیاتوفوراًاس کی غیبت شروع ہوجائےگی۔ چنانچہ پچھلےپہرتک مردایک دوسرےکی گردن میں ہاتھ ڈالےبحث کرتےہیں اورعورتیں گال سےگال بھڑائےکچرکچرلڑتی رہتی ہیں۔فرق اتناہےکہ مردپہلےبحث کرتےہیں ، پھرلڑتےہیں۔ عورتیں پہلےلڑتی ہیں اوربعدمیں بحث کرتی ہیں ۔ مجھےثانی الذکرطریقہ زیادہ معقول نظرآتاہے، اس لیےکہ اس میں آئندہ سمجھوتےاورمیل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
رہایہ سوال کہ ایک چارپائی پربیک وقت کتنےآدمی بیٹھ سکتے ہیں توگزارش ہےکہ چارپائی کی موجودگی میں ہم نےکسی کوکھڑانہیں دیکھا۔ لیکن اس نوع کےنظریاتی مسائل میں اعدادوشمارپربےجازوردینےسےبعض اوقات عجیب وغریب نتائج برآمدہوئےہیں۔آپ نےضرورسناہوگاکہ جس وقت مسلمانوں نےاندلس فتح کیاتووہاں کےبڑےگرجامیں چوٹی کےمسیحی علماوفقہااس مسئلہ پرکمال سنجیدگی سےبحث کررہےتھےکہ سوئی کی نوک پرکتنےفرشتےبیٹھ سکتےہیں۔
ہم تواتناجانتےہیں کہ تنگ سےتنگ چارپائی پربھی لوگ ایک دوسرےکی طرف پاؤں کیےاًاٍکی شکل میں سوتےرہتےہیں ۔چنچل ناری کاچیتےجیسااجیت بدن ہویاکسی عمررسیدہ کی کمان جیسی خمیدہ کمر- یہ اپنےآپ کو ہرقالب کےمطابق ڈھال لیتی ہے۔ اورنہ صرف یہ کہ اس میں بڑی وسعت ہےبلکہ اتنی لچک بھی ہےکہ آپ جس آسن چاہیں بیٹھ اورلیٹ جائیں۔ بڑی بات یہ ہےکہ بیٹھنےاورلیٹنےکی درمیانی صورتیں ہمارےہاں صدیوں سےرائج ہیں ان کےلیےیہ خاص طورپرموزوں ہے۔یورپین فرنیچرسےمجھےکوئی چڑنہیں،لیکن اس کوکیاکیجئےکہ ایشیائی مزاج نیم درازی کےجن زاویوں اورآسائشوں کاعادی ہوچکا ہے، وہ اس میں میسرنہیں آتیں۔مثال کےطورپرصوفےپرہم اکڑوں نہیں بیٹھ سکتے۔کوچ پردسترخوان نہیں بچھاسکتے۔اسٹول پرقیلولہ نہیں کر سکتے۔ اور کرسی پر،بقول اخلاق احمد،اردونہیں بیٹھ سکتے۔
ایشیا نے دنیا کو دو نعمتوں سےروشناس کیا۔چائےاورچارپائی!اوران میں یہ خاصیت مشترک ہےکہ دونوں سردیوں میں گرمی اورگرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتی ہیں۔اگرگرمی میں لوگ کھری چارپائی پرسواررہتےہیں توبرسات میں یہ لوگوں پرسواررہتی ہےاورکھلےمیں سونےکےرسیااسےاندھیری راتوں میں برآمدےسےصحن اورصحن سےبرآمدےمیں سرپراٹھائےپھرتےہیں۔ پھرمہاوٹ میں سردی اوربان سےبچاؤکےلیےلحاف اورتوشک نکالتےہیں۔ مثل مشہور ہے کہ سردی رُوئی سےجاتی ہےیادُوئی سی۔لیکن اگریہ اسباب ناپیدہوں اورسردی زیادہ اورلحاف پتلاہوتوغریب غربامحض منٹوکےافسانےپڑھ کرسورہتےہیں۔
عربی میں اونٹ کےاتنےنام ہیں کہ دوراندیش مولوی اپنےہونہارشاگردوں کوپاس ہونےکایہ گُربتاتےہیں کہ اگرکسی مشکل یاکڈھب لفظ کےمعنی معلوم نہ ہوں توسمجھ لوکہ اس سےاُونٹ مرادہے۔ اسی طرح اُردومیں چارپائی کی جتنی قسمیں ہیں اس کی مثال اورکسی ترقی یافتہ زبان میں شایدہی مل سکیں:-
کھاٹ،کھٹا،کھٹیا،کھٹولہ،اڑن کھٹولہ، کھٹولی،کھٹ ،چھپرکھٹ، کھرّا،کھری،جِھلگا، پلنگ ،پلنگڑی، ماچ،ماچی،ماچا،چارپائی،نواری،مسہری،منجی۔
یہ نامکمل سی فہرست صرف اردوکی وسعت ہی نہیں بلکہ چارپائی کی ہمہ گیری پردال ہےاورہمارےتمّدن میں اس کامقام ومرتبہ متّعین کرتی ہے۔
لیکن چارپائی کی سب سےخطرناک قسم وہ ہےجس کےبچےکھچےاورٹوٹےادھڑےبانوں میں اللہ کےبرگزیدہ بندےمحض اپنی قوت ایمان کے زور سے اٹکے رہتے ہیں۔ اس قسم کےجھلنگےکوبچےبطورجھولااوربڑےبوڑھےآلہ تزکیہ نفس کی طرح استعمال کرتےہیں۔ اونچےگھرانوں میں اب ایسی چارپائیوں کوغریب رشتےداروں کی طرح کونوں کھدروں میں آڑےوقت کے لیے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔خودمجھےمرزاعبدالودودبیگ کےہاں ایک رات ایسی ہی چارپائی پرگزارنےکااتفاق ہواجس پرلیٹتےہی اچھابھلاآدمی نون غنہ (ں)بن جاتاہے۔
اس میں داخل ہوکرمیں ابھی اپنےاعمال کاجائزہ ہی لےرہاتھاکہ یکایک اندھیراہوگیا،جس کیوجہ غالباًیہ ہوگی ایک دوسراملازم اوپرایک دری اوربچھاگیا۔اس خوف سےکہ دوسری منزل پرکوئی اورسواری نہ آجائے،میں نےسرسےدری پھینک کراُٹھنےکی کوشش کی توگھٹنےبڑھ کےپیشانی کی بلائیں لینےلگی۔کھڑبڑسن کرمرزاخودآئےاورچیخ کرپوچھنےلگےبھائی آپ ہیں کہاں؟میں نےمختصراًاپنےمحل وقوع سےآگاہ کیاتوانھوں نےہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا۔ انھیں کافی زورلگاناپڑااس اس لیےکہ میراسراورپاؤں بانوں میں بری طرح الجھےہوئےتھےاوربان سرسےزیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔بمشکل تمام انھوں نے مجھے کھڑاکیا۔
اورمیرےساتھ ہی،مجھ سےکچھ پہلی،چارپائی بھی کھڑی ہوگئی!
کہنےلگی”کیابات ہے؟آپ کچھ بےقرارسےہیں۔معدےکافعل درست نہیں معلوم ہوتا۔“
میرےجواب کاانتظارکیےبغیروہ دوڑکراپناتیارکردہ چُورن لےآئےاوراپنےاوراپنےہاتھ سےمیرےمنہ میں ڈالا۔پھنکی منہ میں بھرکرشکریہ کےدوچارلفظ ہی کہنے پایا ہوں گاکہ معاًنظران کےمظلوم منہ پرپڑگئی جوحیرت سےکھلاہواتھا۔میں بہت نادم ہوا۔لیکن قبل اس کےکہ کچھ اورکہوں انھوں نےاپناہاتھ میرےمنہ پررکھ دیا۔پھرمجھےآرام کرنےکی تلقین کرکےمنہ دھونےچلےگئے۔
میں یہ چارپائی اوڑھےلیٹاتھاکہ ان کی منجھلی بچی آنکلی ۔تتلاکرپوچھنےلگی:
”چچاجان!اکڑوں کیوں بیٹھےہیں؟“
بعدازاں سب بچےمل کراندھابھینساکھیلنےلگے۔بالاخران کی امی کومداخلت کرناپڑی۔
”کم بختو!اب توچپ ہوجاؤ!کیاگھرکوبھی اسکول سمجھ رکھاہے؟“
چندمنٹ بعدکسی شیرخوارکےدہاڑنےکی آوازآئی مگرجلدہی یہ چیخیں مرزاکی لوریوں میں دب گئیں جن میں ڈانٹ ڈانٹ کرنیندکوآنےکی دعوت دے رہے تھے۔چندلمحوں بعدمرزااپنےنقش فریادی کوسینہ سےچمٹائےمیرےپاس آئےاورانتہائی لجاجت آمیزلہجےمیں بولے:
”معاف کیجئے! آپ کوتکلیف توہوگی۔مگرمنّومیاں آپ کی چارپائی کےلیےضدکررہےہیں۔انھیں دوسری چارپائی پرنیندنہیں آتی۔آپ میری چارپائی پر سو جائیے،میں اپنی فولڈنگ چارپائی پرپڑرہوں گا۔“
میں نےبخوشی منومیاں کاحق منومیاں کوسونپ دیااورجب اس میں جھولتےجھولتےان کی آنکھ لگ گئی توان کےوالدبزرگوارکوزبان تالوسےلگی۔
اب سنئےمجھ پرکیاگزری۔مرزاخودتوفولڈنگ چارپائی پرچلےگئےمگرجس چارپائی پرمجھ خاص منتقل کیاگیا۔اس کانقشہ یہ تھاکہ مجھےاپنےہاتھ اورٹانگیں احتیاط سےتہ کرکےبالترتیب سینہ اورپیٹ پررکھنی پڑیں۔اس شب تنہائی میں کچھ دیرپہلےنیندسےیوں دوچشمی ھ بنا، یونانی پروقراط کےبارےمیں سوچتا رہا۔اس کےپاس دوچارپائیاں تھیں۔ ایک لمبی اوردوسری چھوٹی۔ٹھنگنےمہمان کووہ لمبی چارپائی پرسلاتااورکھینچ تان کراس کاجسم چارپائی کے برابر کردیتا۔اس کےبرعکس لمبے آدمی کووہ چھوٹی چارپائی دیتااورجسم کےزائدحصوں کوکانٹ چھانٹ کرابدی نیندسلادیتا۔
اس کےحدوداربعہ کےمتعلق اتناعرض کردیناکافی ہوگاکہ انگڑائی لینےکےلیےمجھےتین چارمرتبہ نیچےکودناپڑا۔کودنےکی ضرورت یوں پیش آئی کہ اس کی اونچائی”درمیانہ“تھی۔ یہاں درمیانہ سےہماری مرادوہ پست بلندی یاموزوں سطح مرتفع ہی، جس کو دیکھ کریہ خیال پیداہوکہ:
نہ توزمیں کےلیےہےنہ آسماں کےلیے
گوکہ ظاہربین نگاہ کویہ متوازی الاضلاغ نظرآتی تھی مگرمرزانےمجھےپہلےہی آگاہ کردیاتھاکہ بارش سےپیشتریہ مستطیل تھی۔ البتہ بارش میں بھیگنے کے سبب جوکان آگئی تھی،اس سےمجھےکوئی جسمانی تکلیف نہیں ہوئی۔اس لیےکہ مرزانےازراہ تکلف ایک پائےکےنیچےڈکشنری اور دوسرے کے نیچے میرا نیا جوتارکھ کرسطح درست کردی تھی۔ میراخیال ہےکہ تہذیب کےجس نازک دورمیں غیورمردچارپائی پردم توڑنےکی بجائےجنگ میں دشمن کےہاتھوں بےگوروکفن مرناپسندکرتےتھے، اسی قسم کی مردم آزارچارپائیوں کارواج ہوگا۔لیکن اب جب دشمن سیانےاورچارپائیاں زیادہ آرام دہ ہوگئے ہیں، مرنے کے اور بھی معقول اورباعزت طریقےدریافت ہوگئےہیں۔
ایک محتاط اندازےکےمطابق ہمارےہاں ایک اوسط درجہ کےآدمی کی دوتہائی زندگی چارپائی پرگزرتی ہے۔اوربقیہ اس کی آرزومیں!بالخصوص عورتوں کی زندگی اسی محورکےگردگھومتی ہےجوبساطِ محفل بھی ہےاورمونسِ تنہائی بھی۔اس کےسہارےوہ تمام مصائب انگیزکرلیتی ہیں۔خیرمصائب تومردبھی جیسےتیسےبرداشت کرلیتے ہیں مگرعورتیں اس لحاظ سےقابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کےعلاوہ مردوں کوبھی برداشت کرناپڑتاہی۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ مئی جون کی جھلسادینےوالی دوپہرمیں کنواریاں بالیاں چارپائی کےنیچےہنڈیاکلہیاپکاتی ہیں اوراوپربڑی بوڑھیاں بیتےہوئےدونوں کو یاد کر کے ایک دوسرےکالہوگرماتی رہتی ہیں(قاعدہ ہےکہ جیسےجیسےحافظہ کمزور ہوتا جاتا ہے، ماضی اوربھی سہانامعلوم ہوتاہے!)اسی پربوڑھی ساس تسبیح کےدانوں پرصبح وشام اپنےپوتوں اورنواسوں کوگنتی رہتی ہےاورگڑگڑاگڑگڑاکردعامانگتی ہےکہ خدااس کاسایہ بہوکےسرپررہتی دنیا تک قائم رکھے۔ خیرسےبہری بھی ہے۔ اس لیےبہواگرسانس لینےکےلیےبھی منہ کھولےتوگمان ہوتاہےکہ مجھےکوس رہی ہوگی۔قدیم داستانوں کی روٹھی رانی اسی پر اپنے جوڑے کاتکیہ بنائےاٹواٹی کھٹواٹی لےکرپڑتی تھی اورآج بھی سہاگنیں اسی کی اوٹ میں ادوان میں سےہاتھ نکال کرپانچ انگلی کی کلائی میں تین انگلی کی چوڑیاں پہنتی اورگشتی نجومیوں کوہاتھ دکھاکراپنےبچوں اورسوکنوں کی تعدادپوچھتی ہیں۔لیکن جن بھاگوانوں کی گودبھری ہو،ان کے بھرے پرےگھرمیں آپ کوچارپائی پرپوتڑےاورسویاں ساتھ ساتھ سوکھتی نظرآئیں گی۔ گھٹنیوں چلتےبچےاسی کی پٹی پکڑکرمیوں میوں چلنا سیکھتے ہیں اوررات برات پائینتی سےمدمچوں کاکام لیتےہیں۔لیکن جب ذراسمجھ آجاتی ہےتواسی چارپائی پرصاف ستھرےتکیوں سےلڑتےہیں۔نامورپہلوانوں کےبچپن کی چھان بین کی جائےتوپتہ چلےگاکہ انھوں نےقینچی اوردھوبی پاٹ جیسےخطرناک داؤاسی محفوظ اکھاڑےمیں سیکھے۔
جس زمانےمیں وزن کرنےکی مشین ایجادنہیں ہوئی تھی توشائستہ عورتیں چوڑیوں کےتنگ ہونےاورمردچارپائی کےبان کےدباؤسےدوسرےکےوزن کاتخمینہ کرتےتھے۔اس زمانےمیں چارپائی صرف میزان جسم ہی نہیں بلکہ معیاراعمال بھی تھی۔نتیجہ یہ کہ جنازےکوکندھادینےوالےچارپائی کےوزن کی بناپرمرحوم کےجنتی یااس کےبرعکس ہونےکااعلان کرتے تھے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہمارےہاں دبلےآدمی کی دنیااورموٹےکی عقبےعام طورخراب ہوتی ہے۔
برصغیرمیں چندعلاقےایسےبھی ہیں جہاں اگرچارپائی کوآسمان کی طرف پائینتی کرکےکھڑاکردیاجائےتوہمسائےتعزیت کوآنےلگتےہیں۔سوگ کی یہ علامت بہت پرانی ہےگوکہ دیگرعلاقوں میں یہ عمودی(١)نہیں،افقی(-)ہوتی ہے۔اب بھی گنجان محلوںمیں عورتوں اسی عام فہم استعارے کا سہارا لے کر کوستی سنائی دیں گی۔”الٰہی!تن تن کوڑھ ٹپکے۔ مچمچاتی ہوئی کھاٹ نکلے!“ دوسرابھرپورجملہ بددعاہی نہیں بلکہ وقت ضرورت نہایت جامع ومانع سوانح عمری کاکام بھی دےسکتاہےکیونکہ اس میں مرحومہ کی عمر،نامرادی،وزن اورڈیل ڈول کےمتعلق نہایت بلیغ اشارےملتےہیں۔نیزاس بات کی سندملتی ہےکہ راہی ملک عدم نےوہی کم خرچ بالانشین وسیلہ نقل وحمل اختیارکیاجس کی جانب میراشارہ کرچکےہیں:
تیری گلی سدااےکشندہ عالم
ہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں
قدرت نےاپنی رحمت سےصفائی کاکچھ ایساانتظام رکھاہےکہ ہرایک چارپائی کوسال میں کم ازکم دومرتبہ کھولتےپانی سےدھارنےکی ضرورت پیش آتی ہی۔جونفاست پسندحضرات جان لینےکایہ طریقہ جائزنہیں سمجھتےوہ چارپائی کوالٹاکرکےچلچلاتی دھوپ میں ڈال دیتےہیں۔پھردن بھرگھروالےکھٹمل اورمحلےوالےعبرت پکڑتےہیں۔اہل نظرچارپائی کوچولوں میں رہنےوالی مخلوق کی جسامت اوررنگت پرہی سونےوالوں کی صحت اورحسب نسب کاقیاس کرتےہیں(واضح رہےکہ یورپ میں گھوڑوں اورکتوں کےسوا،کوئی کسی کاحسب نسب نہیں پوچھتا) الٹی چارپائی کوقرنطینہ کی علامت جان کر راہ گیرراستہ بدل دیں دیں توتعجب نہیں۔حدیہ کہ فقیربھی ایسےگھروں کےسامنےصدالگانابندکردیتےہیں۔
چارپائی سےپراسرارآوازیں نکلتی ہیں،ان کامرکزدریافت کرنااتناہی دشوارہےجتناکہ برسات کی اندھیری رات میں کھوج لگاناکہ مینڈک کےٹرانےکی آواز کدھر سےآئی یاکہ یہ تشخیص کرناکہ آدھی رات کوبلبلاتےہوئےشیرخواربچےکےدردکہاں اٹھ رہاہے۔چرچراتی ہوئی چارپائی کومیں نہ گل نغمہ سمجھتاہوں،نہ پردہ ساز،اورنہ اپنی شکست کی آواز! درحقیقت یہ آوازچارپائی کااعلان صحت ہےکیونکہ اس کےٹوٹتےہی یہ بندہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں ایک خودکارالام کی حیثیت سےیہ شب بیداری اورسحرخیزی میں مدددیتی ہے۔ بعض چارپائیاں اس قدرچغل خورہوتی ہیں کہ ذراکروٹ بدلیں تودوسری چارپائی والاکلمہ پڑھتاہواہربڑاکراٹھ بیٹھتا ہے۔اگرپاؤں بھی سکیڑیں توکتےاتنےزورسےبھونکتےہیں کہ چوکیدارتک جاگ اٹھتےہیں۔ اس یہ فائدہ ضرورہوتاہےکہ لوگ رات بھر نہ صرف ایکدوسرےکی جان ومال بلکہ چال چلن کی بھی چوکیداری کرتےرہتےہیں۔ اگرایسانہیں ہےتو پھرآپ ہی بتائیےکہ رات کوآنکھ کھلتےہی نظرسب سے پہلے پاس والی چارپائی پر کیوں جاتی ہے

سنہء
اوروں کا حال معلوم نہیں، لیکن اپنا تو یہ نقشہ رہا کہ کھیلنےکھانےکےدن پانی پت کی لڑائیوں کے سن یاد کرنے، اور جوانی دیوانی نیپولین کی جنگوں کی تاریخیں رٹنے میں کٹی۔ اس کا قلق تمام عمر رہے گا کہ جو راتیں سکھوں کی لڑائیوں کے سن حفظ کرنے میں گزریں،وہ ان کےلطیفوں کی نذر ہو جاتیں تو زندگی سنور جاتی۔ محمود غزنوی لائق صد احترام سہی، لیکن ایک زمانے میں ہمیں اس سے بھی یہ شکایت رہی کہ سترہ حملوں کی بجائےاگر وہ جی کڑا کر کے ایک ہی بھرپور حملہ کر دیتا تو آنے والی نسلوں کی بہت سی مشکلات حل ہوجاتیں۔بلکہ یوں کہنا چاہیےکہ وہ پیدا ہی نہ ہوتیں (ہمارا اشارہ مشکلات کی طرف ہے)۔
اولاد آدم کے سر پر جوگزری ہے، اس کی ذمہ داری مشاہیر عالم پرعائدہوتی ہے۔ یہ نری تہمت طرازی نہیں بلکہ فلسفہ تاریخ ہے، جس سےاس وقت ہمیں کوئی سروکارنہیں۔ہم تواتناجانتےہیں کہ بنی نوع آدم کوتواریخ نےاتنانقصان نہیں پہنچایاجتنامورخین نے۔ انھوں نےاس کی سادہ اورمختصرسی داستان کو یادگار تاریخوں کاایک ایساکیلنڈربنادیاجس کےسبھی ہندسےسرخ نظر آتے ہیں۔ چنانچہ طلبابوجوہ معقول ان کےحق میں دعائےمغفرت نہیں کر سکتے اور اب ذہن بھی ان تعینات زمانی کااس حد تک خوگرہوچکاہےکہ ہم وجودانسانی کاتصوربلاقیدسن دسمبت کرہی نہیں سکتے:
“جوسن نہ ہوتےتوہم نہ ہوتے، جو ہم نہ ہوتےتوغم نہ ہوتا“ معلوم ایسا ہوتاہےکہ مورخین سن کوایک طلسمی طوطاسمجھتےہیںجس میں وقت کےظالم دیو کی روح مقید ہے۔ کچھ اسی قسم کے عقیدے پر میل بورن کےخضرصورت آرچ بشوپ مانکس نےتین سال پہلےطنزکیاتھاکہ جب ان کی ٣٩ویں سالگرہ پر ایک اخبار کے رپورٹر نے اپنی نوٹ بک نکالتے ہوئے بڑے گمبھیر لہجے میں دریافت کیا:
”آپ کےنزدیک ٣٩کی عمرتک پہنچنےکی اصل وجہ کیاہے؟“
”برخودار! اس کی اصل وجہ یہ ہےکہ میں1845 میں میٹرک کےامتحان سےکچھ دن قبل مرزاعبدالودودبیگ نےاس رازکوفاش کیا(ہرچندکہ طلبااس کھولانہیں کرتے)کہ شقی القلب ممتحن بھی سن ہی سےقابومیں آتے ہیں۔ چنانچہ زیرک طالب علم ہر جواب کی ابتداکسی نہ کسی سن سےکرتےہیں۔خواہ سوال سے اس کادورکاتعلق بھی نہ ہو۔ذاتی مشاہدےکی بناپرعرض کرتاہوں کہ ایسےایسےغبی لڑکےجونادرشاہ درانی اوراحمدشاہ ابدالی میں کبھی تمیزنہ کرسکے، آج تک چنگیزخاں کومسلمان سمجھتےہیں، محض اس وجہ سےفرسٹ کلاس آئےکہ انھیں قتل عام کی صحیح تاریخ اورپانی پت کی حافظہ شکن جنگوں کےسن ازبر تھی۔ خود مرزا، جو میٹرک میں بس اس وجہ سےاول آگئےکہ انھیں مرہٹوں کی تمام لڑائیوں کی تاریخیں یادتھیں، پرسوں تک اہلیہ بائی کوشیواجی کی رانی سمجھےبیٹھےتھے۔ میں نےٹوکاتوچمک کربولے:
”یعنی کمال کرتےہیں آپ بھی!اگرشیواجی نےشادی نہیں کی تونانافرنویس کس کالڑکاتھا؟“
ترقی یافتہ ممالک میں مارچ کامہینہ بےحدبہارآفرین ہوتا ہے۔ یہ وہ رت ہےجس میں سبزہ اوس کھاکھاکرہراہوتاہےاورایک طرف دامن صحراموتیوں سےبھر جاتاہےتودوسری طرف

موجہ گل سےچراغاں ہےگزرگاہ خیال

اس تمہیددل پذیرسےمیرایہ مطلب نہیں کہ اس کےبرعکس پس ماندہ ممالک میں اس مست مہینےمیں پت جھڑہوتاہےاور

بجائےگل چمنوں میں کمرکمرہےکھاد

توجہ صرف اس امرکی جانب دلاناچاہتاہوں کہ برصغیرمیں یہ فصل گل آبادی کےسب سےمتصوم اوربےگناہ طبقےکےلیےہرسال ایک نئےذہنی کرب کاپیغام لاتی ہے، جس میں چارسال سےلےکرچوبیس سال کی عمرتک کےسبھی مبتلانظرآتےہیں۔ہمارےہاں یہ سالانہ امتحانوں کاموسم ہوتاہے۔ خداجانےمحکمہ تعلیم نےاس زمانےمیں امتحانات رکھنےمیں کونسی ایسی مصلحت دیکھی،ورنہ عاجزکی رائےمیں اس ذہنی عذاب کےلیےجنوری اورجون کےمہینےنہایت مناسب رہیں گے۔ یہ اس لیےعرض کررہاہوں کہ کلاسیکی ٹریجڈی کےلیےخراب موسم انتہائی ضروری تصورکیاگیاہے۔
بات سےبات نکل آئی،ورنہ کہنایہ چاہتاتھاکہ اب جوپیچھےمڑکےدیکھتاہوںتویک گونہ افسوس ہوتاہےکہ عمرعزیزکی پندرہ سولہ بہاریں اورمیوہ ہائےباغ جوانی اسی سالانہ جانکنی کی نذرہوگئی۔ یادش بخیر!وہ سلوناموسم جس کواگلےوقتوں کی زبان میں ’جوانی کی راتیں،مرادوں کےدن،کہتےہیں،شاہ جہان کےچاروں بیٹوں کی لڑائیاں اورفرانس کےتلےاوپراٹھارہ لوئیوں کےسن ولادت ووفات یادکرنےمیں بسر ہوااورتنہافرانس کاسفرکیامذکور۔برطانیہ کی تاریخ میں بھی چھ عددجارج اور آٹھ آٹھ ایڈورڈاورہنری گزرےہیں،جن کی پیدائش اورتخت نشینی کی تاریخیں یادکرتےکرتےزبان پرکانٹےاورحافظےمیںنیل پڑگئے تھے۔ ان میں ہنری ہشتم سب سےکٹھن اورکٹھورنکلا۔اس لیےکہ اس کی اپنی تخت نشینی کےعلاوہ ان خواتین کی تاریخ وفات بھی یادکرناپڑی جن کو اس نےاپنےاوپرحلال کررکھاتھااورجنھیں باری باری تختہ نصیب ہوا۔
قیاس کہتاہےکہ تاریخی نام رکھنےاورتاریخ وفات کہنےکارواج اسی مشکل کوحل کرنےکی غرض سےپھیلاہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی مدد سے حافظے کوایسی تاریخیں یادرکھنےمیں آسانی ہوتی ہے، جن کابھول جاناہی بہترہوتا۔بعض شعراءبہ نظراحتیاط ہرسال اپنا قطعہ تاریخ وفات کہہ کررکھ لیتے ہیں تاکہ مرنےکی سندرہےاوروقت ضرورت پس ماندگان کےکام آئے۔کون واقف نہیں کہ مرزاغالب نےجو مرنےکی آرزومیں مرتےتھے، متعددباراپنی تاریخ رحلت کہہ کرشاگردوں اوقرض خواہوں کوخوامخواہ ہراساں کیاہوگا۔لیکن جب قدرت نےان کومرنےکاایک سنہری موقع فراہم کیاتو یہ کہہ کرصاف ٹال گئےکہ وبائےعام میں مرناہماری کسرشان ہے۔
مارچ 1942 کاذکرہے۔ بی ،اےکےامتحان میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا۔ میں روہیلوں کی لڑائیوں سےفارغ ہوکرمرزاعبدالودودبیگ کےپاس پہنچاتودیکھاکہ وہ جھوم جھوم کرکچھ رٹ رہےہیں۔پوچھا”خیام پڑھ رہےہو؟“
کہنےلگی”نہیں تو!ہسٹری ہے۔“
”مگرآثارتوہسٹیریاکےہیں!“
اپنی اپنی جگہ دونوں سچےتھے۔ انھوں نےغلط نہیں کہا،اگرچہ میرا خیال بھی صحیح نکلاکہ وہ شعرسےشغل فرمارہےہیں۔البتہ شعرپڑھتےوقت چہرے پر مرگی کی سی کیفیت میں نےقوالوں کےسواکسی اورکےچہرےپراس سےپہلےنہیں دیکھے تھے۔ پھرخودہی کہنےلگے ”چلوہسٹری کی طرف تواب بےفکری ہوگئی۔قبلہ ناناجان نےپچاس مشاہیرکی تاریخ ولادت ووفات کےقطعےکہہ کرمیرےحوالےکردئےہیں۔جن میں سے آدھےحفظ کرچکاہوں۔“اس کےبعد انھوں نےتیمورلنگ کی پیدائش اوررنجیت سنگھ کی رحلت کےقطعات بطورنمونہ گاکرسنائے۔
گھرپہنچ کرتخمینہ لگایاتواس نتیجہ پرپہنچاکہ فی کس دوقطعات کےحساب سےاس شاہنامہ ہندکےچارسومصرعےہوئےاوراس میں وہ ذیلی قطعات شامل نہیں جن کاتعلق دیگرواقعات وموضوعات(مثلاًجاناپرتھوی راج کاسوئمبرمیں بھیس بدل کراورلےبھاگناسنجوگتاکوگھوڑےپر۔آنا نادر شاہ کاہندوستان میں واسطےلینےکوہ نورہیرابرابرانڈےمرغابی کے۔ داخل ہوناواجدعلی شاہ کاپہلےپہل مٹیابرج میں معہ چھ بیگمات کےاوریادکرنابقیہ بیگمات کو)یاتاریخی چھٹ بھیوں(ثانوی ہیرو)مثلاً راناسانگا،ہیموں بقال،نظام سقہ وغیرہ سےتھا۔ایک قطعہ میں توضلع جگت پراترآئےتھے۔ یہ اس نیم تاریخی حادثےسےمتعلق تھا،جب نورجہاں کےہاتھ سےکبوتر اڑگیااورجہانگیرنےاس کو(یعنی نورجہان کو)پہلی بار”خصم گیں“ نگاہوں سےدیکھا۔
حالانکہ دماغی طورپرمیں پانی پت کی لڑائیوں میں بری طرح زخمی ہوچکاتھا،لیکن آخری قطعہ کوسن کر میں نےاسی وقت دل میں فیصلہ کرلیا کہ امتحان میں باعزت طریقےسےفیل ہونااس اوچھےہتھیار سےہزار درجہ بہترہوگا۔بہرحال مرزانےایک ہفتےبعداس کلیدکامیابی کوامتحان میں بےدریغ استعمال کیا،جس میں انھیں دودشواریوں کاسامناکرناپڑا۔بڑی دشواری تویہ کاپی میں قطعات اورحروف ابجدکاحساب دیکھ کرکمرہ امتحان کانگراں،جوایک مدراسی کرسچین تھا،بارباران کےپاس لپک کرآتااورسمجھاتا کہ اردوکاپرچہ کل ہے۔مرزاجھنجھلاکرجواب دیتےکہ یہ ہمیں بھی معلوم ہےتووہ نرمی سے پوچھتا کہ پھریہ تعویزکیوں لکھ رہےہو؟پایان کارمرزانےوہیں کھڑے کھڑے اس کوفن تاریخ گوئی اوراستخراج سنین کےرموزونکات سےغلط انگریزی میں آگاہ کیا۔حیرت سےاس کا منہ ٧ کےہندسہ کی ماندپھٹاکاپھٹارہ گیا۔حروف واعدادکوبہکی بہکی نظروں سےدیکھ کرکہنےلگا:
”تعجب ہےکہ تم لوگ ماضی کےواقعات کاپتہ بھی علم نجوم سےلگالیتےہو!“
اس مجسم دشواری کےعلاوہ دوسری دقت یہ ہوئی کہ ابھی پانچوں سوالات کےجملہ بادشاہوں ،راجاؤں اورمتعلقہ جنگو ں کےعدداورسن بہ سہولت تمام نکلےبھی نہ تھےکہ وقت ختم ہوگیااورنگراں نےکاپی چھین لی۔بڑی منت وسماجت کےبعدمرزاکوکاپی پراپنارول نمبرلکھنےکی اجازت ملی۔
جیساکہ عرض کرچکاہوں،مجھےسن یادنہیں رہتااورمرزاکووہ واقعہ یادنہیں رہتاجواس سن سےمتعلق ہو۔فرض کیجئے۔ مجھےکچھ کچھ یادپڑتاہےکہ فرانسیسی انقلابیوں نےکسی صدی کےآخرمیں قلعہ باستیل کامحاصرہ کیاتھا۔ لیکن سن یادنہیں آتا۔اب مرزاکویقینا اتنایادہوگاکہ 1799 میں کچھ گڑبڑ ضرورہوئی تھی۔ لیکن کہاں ہوئی اوراورکیوں ہوئی-یہ وہ بغیراستخارہ کیےنہیں بتاسکتے۔ چنانچہ مارچ 1924 ہی کاذکرہے۔ہم دونوں ایک دوسرےکی کمزوری پرافسوس کررہےتھےاورلقمہ دیتےجاتےتھے۔ وہ اس طرح کہ وہ مجھےروس کہ بیوہ ملکہ کیتھرین اعظم کاسن ولادت اورتاریخ تاج پوشی وغیرہ بتارہےتھےاورمیں ان کواس کےمنہ بولےشوہروں کےنام رٹوارہاتھا۔اچانک مرزابولےیار!
یہ بڑےمرکےبھی چین سےنہیں بیٹھنےدیتی۔
مرنےوالےمرتےہیں لیکن فناہوتےنہیں
میں نےکہا”کارلائل کاقول ہےکہ تاریخ مشاہیرکی سوانح عمری ہے۔“
کہنےلگے ”سچ تو کہتا ہے بچارا! تاریخ بڑے آدمیوں کااعمال نامہ ہےجوغلطی سےہمارےہاتھ تھمادیاگیا۔اب یہ نہ پوچھوکس نےکیاکیا،کیسےکیااورکیوں کیا۔بس یہ دیکھوکہ کب کیا۔“
عرض کیا”دیکھوتم پھرسن اورسمبت کےپھیر میں پڑگئے۔ایک مفکر کہتا ہے٠٠٠٠“
بات کاٹ کر بولے” بھئی تم اپنےاچھےبھلےخیالات بڑے آدمیوں سےکیوں منسوب کردیتےہو؟لوگ غورسےنہیں سنتے۔“
مکررعرض کیا”واقعی ایک مفکرکہتاہےکہ عظیم انقلابات کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی۔تم دیکھوگےزبردست تبدیلیاں ہمیشہ دبےپاؤں آتی ہیں۔تاریخی کیلنڈرمیں ان کاکہیں ذکرنہیں۔سب جانتےہیں کہ سکندرنےکس سن میں کون ساملک فتح کیا۔لیکن یہ کوئی نہیں بتاسکتاکہ بن مانس کون سےسن میں انسان بنا۔اتناتواسکول کےبچےبھی بتادیں گےکہ سیفوکب پیداہوئی اورسقراط نےکب زہرکاپیالہ اپنےہونٹوں سےلگایالیکن آج تک کوئی مورخ یہ نہیں بتاسکاکہ لڑکپن کس دن رخصت ہوا۔لڑکی کس ساعت نایاب میں عورت بنی۔جوانی کس رات ڈھلی۔ادھیڑپن کب ختم ہوااوربڑھاپاکس گھڑی شروع ہوا۔“
کہنےلگے”برادر!ان سوالات کاتعلق تاریخ یونان سےنہیں،طب یونانی سے ہے۔“
سنہ عیسوی سےکہیں زیادہ مشکل ان تاریخوں کایادرکھناہےجن کےبعدمیں ”قبل مسیح “ آتاہے۔اس لیےکہ یہاں مورخیں گردش ایام کوپیچھےکی طرف دوڑاتےہیں۔ان کوسمجھنےاورسمجھانےکےذہنی شیس آسن کرناپڑتاہےجواتنادشوارہےجتناالٹےپہاڑےسنانا۔اس کوطالب علم کی خوشی قسمتی کہیےکہ تاریخ قبل میلادمسیح نسبتاً مختصراورادھوری ہے۔ اگرچہ مورخیںکوشاں ہیں کہ جدیدتحقیق سےبےزبان بچوں کی مشکلات میں اضافہ کردیں۔بھولےبھالےبچوں کوجب یہ بتایاجاتاہےکہ روم کی داغ بیل ٣٥٧ قبل مسیح میں پڑی توننھےمنےہاتھ اٹھاکریہ سوال کرتےہیں کہ اس زمانہ کےلوگوں کویہ پتہ کیسےچل گیاہےکہ حضرت عیسیٰ کےپیداہونےمیں ابھی ٣٥٧ سال باقی ہیں۔ان کی سمجھ میں یہ بھی نہیں آتا کہ ٣٥٧ ق۔م کوساتویں صدی شمارکریں یا آٹھویں ۔عقل منداستادان جاہلانہ سوالات کاجواب عموماً خاموشی سےدیتےہیں۔ آگےچل کہ جب یہی بچےپڑھتےہیں کہ سکندر٦٥٣ق۔م میں پیداہوااور٣٢٣ق ۔م میں فوت ہواتووہ اسےکتابت کہ غلطی سمجھتےہوئےاستادسےپوچھتےہیں کہ یہ بادشاہ پیداہونےسےپہلےکس طرح مرا؟ استادجواب دیتاہےکہ پیارےبچو!اگلےوقتوں میں ظالم بادشاہ اسی طرح مراکرتےتھے۔
کلاسیکی شاعراورانشاپروازکچھ سوچ کرچپ ہوجانےکہ نازک فن سےآشنا ہے۔بالخصوص ان مقامات پرجہاں لطف گویائی کولذت خموشی پرقربان کردینا چاہیے۔ وہ اس ”جادواں ،پیہم دواں،ہردم جواں“ زندگی کووقت کےپیمانوں سےنہیں ناپتااورسن وسال کی الجھنوں میں نہیں پڑتا۔چنانچہ وہ یہ صراحت نہیں کرتاکہ جب مصرکوانطونی نےاورانطونی کوقلوپطرہ نےتسخیرکیاتواس گرم وسیزرچشیدہ ملکہ کی کیاعمرتھی۔شیکسپیئر محض یہ کہہ کرآگےبڑھ جاتاہےکہ وقت اس کےلازوال حسن کےسامنے ٹھہر جاتا ہے، اورعمراس کاروپ اوررس نہیں چراسکتی۔اس کےبرخلاف مورخیں نےدفترکےدفتراس لایعنی تحقیق میں سیاہ کرڈالےہیں کہ اپنےصندلی ہاتھوں کی نیلی نیلی رگوں پراترانےوالی اس عورت کی اس وقت کیاعمرہوگی۔اب ان سےکوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ جب خودانطونی نےامورسلطنت اورسن ولادت کےبارےمیں تجاہل عارفانہ سےکام لیاتو آپ کیوں اپنےکو اس غم میں خواہ مخواہ ہلکان کیے جارہے ہیں؟ اسی طرح جس وقت ہماراانشاپروازاس جنسی جھٹ پٹےکی طرف اشارہ کرناچاہتاہےجب دھوپ ڈھل جاتی ہےمگردھرتی بھیترہی بھیترمیٹھی میٹھی آنچ میں تپتی رہتی ہے، تواپنی پسندکےجوازمیں بس اتناکہہ کرآنکھوں ہی آنکھوں مسکرادیتاہےکہ”چھڑھتی دوپہرسےڈھلتی چھاؤں زیادہ خوش گوارہوتی ہے۔“
اس اعتبارسےان خواتیں کاکلاسیکی طرزعمل لائق تحسین وتقلیدہی،جواپنی پیدائش کی تاریخ اورمہینہ ہمیشہ یادرکھتی ہیں۔لیکن سن بھول جاتی ہیں۔
اوریہ واقعہ ہےکہ حافظہ خراب ہوتوآدمی زیادہ عرصہ تک جوان رہتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہےکہ وقت احساس بذات خودایک آزارہے، جس کواصلاحاً بڑھاپا کہتےہیں۔ڈاکٹرجانسن نےغلط نہیں کہا”یوں تومجھےدو بیماریاں ہیں- دمہ اورجلندھر۔لیکن تیسری بیماری لاعلاج ہےاوروہ ہےعمرطبعی!“ لیکن غور کیجئے تو عمربھی ضیمراورجوتےکی مانندہے،جن کی موجودگی کااحساس اس وقت تک نہیں ہوتاجب تک وہ تکلیف نہ دینےلگیں۔ میں یہ ثابت کرنےکی کوشش نہیں کررہاکہ اگرسن پیدائش یادرکھنےکارواج بیک گردش چرخ نیلوفری اٹھ جائے، توبال سفیدہونےبندہوجائیں گے۔یااگرکیلنڈرایجادنہ ہواہوتاتوکسی کےدانت نہ گرتے۔ تاہم اس میں کلام نہیں کہ جس شخص نےبھی ناقابل تقسیم رواں دواں وقت کوپہلی بارسکینڈ،سال اورصدی میں تقسیم کیا،اس نے انسان کوصحیح معنوں میں پیری اورموت کاذائقہ چکھایا۔وقت کوانسان جتنی بارتقسیم کرےگا،زندگی کی رفتاراتنی ہی تیزاورنتیجہ موت اتنی ہی قریب ہوتی جائےگی۔اب جب کہ زندگی اپنےآپ کوکافی کےچمچوں اورگھڑی کی ٹک ٹک سےناپتی ہے، تہذیب یافتہ انسان اس لوٹ کرنہ آنےوالےنیم روشن عہد کی طرف پیچھےمڑمڑکردیکھتاہے، جب وہ وقت کاشماردل کی دھڑکنوں سےکرتاتھااورعروس نورات ڈھلنےکااندازہ کانوں کےموتیوں کے ٹھنڈے ہونے اور ستاروں کےجھلملانےسےلگاتے تھے :
نہ گھڑی ہےواں نہ گھنٹہ نہ شماروقت وساعت
مگراےچمکنےوالو! ہوتمھیں انھیں سجھاتی
کہ گئی ہےرات کتنی

موذی
مرزاکرتے وہی ہیں جو ان کادل چاہے۔لیکن اس کی تاویل عجیب وغریب کرتے ہیں۔صحیح بات کوغلط دلائل سے ثابت کرنے کایہ ناقابل رشک ملکہ شاذونادرہی مردوں کے حصے میں آتاہے۔اب سگرٹ ہی کولیجئے۔ہمیں کسی کسی کے سگرٹ نہ پینے پرکوئی اعتراض نہیں،لیکن مرزاسگرٹ چھوڑنے کاجوفلسفیانہ جوازہربارپیش کرتے ہیں وہ عام آدمی کے دماغ میں بغیر آپریشن کے نہیں گھس سکتا۔
مہینوں وہ یہ ذہین نشین کراتے رہے کہ سگرٹ پینے سے گھریلومسائل پرسوچ بچارکرنے میں مددملتی ہے اورجب ہم نے اپنے حالات اوران کی حجت سے قائل ہوکرسگرٹ شروع کردی اوراس کے عادی ہوگئے توانھوں نے چھوڑدی۔ کہنے لگے،بات یہ ہے کہ گھریلو بجٹ کے جن مسائل پرمیں سگرٹ پی پی کرغورکیاکرتاتھا،وہ دراصل پیداہی کثرت سگرٹ نوشی سے ہوئے تھے۔
ہمیں غوروفکرکی لت لگانے کے بعدانھوں نے آناجاناموقوف کردیاجواس بات کی علامت تھی کہ وہ واقعی تائب ہوگئے ہیں اورکسی سے ملناجلناپسند نہیں کرتے بالخصوص سگرٹ پینے والوں سے ۔(انہی کاقول ہے کہ بڑھیاسگرٹ پیتے ہی ہرشخص کومعاف کردینے کوجی چاہتاہے -خواہ وہ رشتے دارہی کیوں نہ ہو)میںگیابھی توکھنچے کھنچے رہے اورچنددن بعدایک مشترک دوست کے ذریعہ کہلوایاکہ”اگرمیںنے بربنائے مجبوری سگرٹ پینے کی قسم کھالی تھی تو آپ سے اتنابھی نہ ہواکہ زبردستی پلادیتے ۔میں ہوں مجبورمگر آپ تومجبورنہیں“
سات مہنیے تک سگرٹ اورسوسائٹی سے اجتناب کیا۔لیکن خدابڑامسبب الاسباب ہے ۔ آخرایک دن جب وہ وعظ سن کرخوش خوش گھرلوٹ رہے تھے توانھیں بس میں ایک سگرٹ لائٹرپڑامل گیا۔چنانچہ پہلے ہی بس اسٹاپ پراترپڑے اورلپک کرگولڈفلیک سگرٹ کاڈبہ خریدا(ہمیں واقعہ پرقطعاً تعجب نہیں ہوا۔اس لیے کہ گزشتہ کرسمس پرانھیں کہیں سے نائلون کے موزے چار آنے رعایت سے مل گئے تھے،جن کو”میچ “ کرنے کے لیے انھیں ایک دوست سے قرض لے کرپوراسوٹ سلواناپڑا)سگرٹ اپنے جلتے ہوئے ہونٹوں میں دباکرلائٹرجلاناچاہاتومعلوم ہواکہ اندرکے تمام پرزے غائب ہیں۔اب ماچس خریدنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیںرہا۔
ہم نے اکثریہی دیکھاکہ مرزاپیمبری لینے کوگئے اور آگ لے کرلوٹے!
اوردوسرے دن اچانک غریب خانے پرگاڑھے گاڑھے دھوئیں کے بادل چھاگئے،جن میں سے مرزاکامسکراتاہواچہرہ رفتہ رفتہ طلوع ہوا۔گلے شکوے تمام ہوئے تونتھوں سے دھوا ں خارج کرتے ہوئے بشارت دی کہ سگرٹ میرے لیے موجب نشاط نہیں،ذریعہ نجات ہے۔
اتناکہہ کرانھوں نے چٹکی بجاکراپنے نجات دہندہ کی راکھ جھاڑی اورقدرے تفصیل سے بتانے لگے کہ سگرٹ نہ پینے سے حافظے کایہ حال ہوگیاکہ ایک رات پولیس نے بغیربتی کے سائیکل چلاتے ہوئے پکڑلیاتواپناصحیح نام اورولدیت تک نہ بتاسکا،اوربفضلہ اب یہ عالم ہے کہ ایک ہی دن میں آدھی ٹیلفون ڈائرکٹری حفظ ہوگئی۔
مجھے لاجواب ہوتادیکھ کرانھوں نے فاتحانہ اندازسے دوسری سگرٹ سلگائی۔ماچس احتیاط سے بجھاکرہونٹوں میں دبالی اورسگرٹ ایس ٹرے میں پھینک دی۔
کبھی وہ اس خوشی میں سگرٹ پیتے ملیں گے آج رمی میں جیت کراٹھے ہیں۔اورکبھی(بلکہ اکثروبیشتر)اس تقریب میں آج توبالکل کھک ہوگئے۔ان کادوسرادعویٰ تسلیم کرلیاجائے کہ سگرٹ سے غم غلط ہوتاہے تو ان کے غموں کے مجموعی تعدادبہ شرح پچاس غم یومیہ،اٹھارہ ہزارسالانہ کے لگ بھگ ہوگی اوربعض غم تواتنے ضدی ہوتے جارہے ہیں کہ جب تک تین چارسگرٹوں کی دھونی نہ دی جائے توٹلنے کانام نہیں لیتے۔انھیںعبرت دلانے کے ارادے سے میں نے بادشاہ مطریدلطیس ششم کاقصہ سنایا۔جویوں ہے کہ جب اس کو ہمہ وقت یہ اندیشہ لاحق رہنے لگاکہ موقع پاکرکوئی بدخواہ اسے زہر کھلادے گاتواس نے خودہی روزانہ تھوڑاتھوڑازہرکھاناشروع کردیاتاکہ خون اورقویٰ عادی ہوجائیں ۔اوروہ اس حفظ ماتقدم میں اس حدتک کامیاب ہواکہ جب حالات سے مجبورہوکراس نے واقعی خودکشی کرنے کی کوشش کی توزہربالکل بے اثرثابت ہوااوراس نے بمشکل تمام اپنے ایک غلام کوخنجرگھونپنے پررضامندکیا۔
بولے”ناحق بچارے غلام کوگنہ گارکیا۔اگرخودکشی ہی کرناتھی توزہرکھانابندکردیتا۔چندہی گھنٹوں میں تڑپ تڑپ کرمرجاتا۔“
لیکن جو احباب ان کی طبیعت کے اتارچڑھاو سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کے یہ غم ابدی اورافاقی ہوتے ہیںجن کاسگرٹ تودرکنارحقے سے بھی علاج نہیںہوسکتا۔میں نے اکثرانھیں اس غم میں سگرٹ کے کش پرکش لگاتے دیکھاہے کہ سوئی گیس کاذخیرہ سوسال میں ختم ہوگیاتوان کی اپنی ملازمت کاکیاہوگا؟یاایک لاکھ سال بعدانسان کے سر پربال نہ ہوں گے توحجاموں اورسکھوں کاکیاحشرہوگا؟اورجب سورج پچاس ارب سال بعدبالکل ٹھنڈاپڑجائے گاتوہم گھپ اندھیرے میں صبح کااخبارکیسے پڑھیں گے؟
ایک دفعہ توسب کویقین ہوگیاکہ مرزا نے واقعی سگرٹ چھوڑدی۔اس لیے کے مفت کی بھی نہیں پیتے تھے اورایک ایک سے کہتے پھرتے تھے کہ اب بھولے سے بھی سگرٹ کاخیال نہیں آتا۔بلکہ روزانہ خواب میں بھی سگرٹ بجھی ہوئی ہی نظر آتی ہے۔میں نے دریافت کیاکہ اب کی دفعہ کیوں چھوڑی؟
ہوامیں پھونک سے فرضی دھوئیں کے مرغولے بناتے ہوئے بولے”یونہی بیٹھے بیٹھے خیال آیاکہ جوروپیہ سگرٹ میں پھونک رہاہوں،اس سے اپنی زندگی کابیمہ کرایاجاسکتاہے۔کسی بیوہ کی مددہوسکتی ہے۔“
”مرزا!بیمے میں چنداں مضائقہ نہیں۔لیکن جب تک نام پتہ معلوم نہ ہو،یہ بیوہ والی بات میری سمجھ نہیں آئے گی۔“
”پھریوں سمجھ لوکہ بیمے سے اپنی ہی بیوہ کی امدادہوسکتی ہے۔لیکن مذاق برطرف،سگرٹ چھوڑنے میں ہے بڑی بچت!جوصرف اس طرح ممکن ہے کہ جب بھی پینے کی خواہش ہو،یہ فرض کرلوکہ پی لی۔اس طرح ہربارتمھاراڈیڑھ آنہ بچ جائے گا۔“
میں نے دیکھاکہ اس فارمولے مرزانے بارہاایک دن میں دس دس پندرہ پندرہ روپے بچائے۔ایک روزدس روپے کی بچت دکھاکہ انھوں نے مجھ سے پانچ روپے ادھارمانگے تومیں نے کہا”غضب ہے!دن میں دس روپے بچانے کے باوجودمجھ سے پانچ روپے قرض مانگ رہے ہو؟“
کہنے لگے”اگریہ نہ بچاتاتواس وقت تمھیںپندرہ دینے پڑتے۔“
مجھے اس صورت حال مین سراسراپناہی فائدہ نظر آیا۔لہٰذاجب بھی پانچ روپے قرض دئیے ،یہ سمجھ کردیئے کہ الٹامجھے دس روپے کانقدمنافع ہورہاہے۔مرزاکے متواترتعاون کی بدولت میں نے اس طرح دوسال کی قلیل مدت میں ان سے چھ سوروپے کمالیے۔
پھرایک سہانی صبح کودیکھاکہ مرزادائیں بائیں دھوئیں کی کلیاں کرتے چلے آرہے ہیں ۔میں نے کہا”ہائیں مرزا!یہ کیابدپرہیزی ہے؟“جواب دیا”جن دنوں سگرٹ پیتاتھاکسی اللہ کے بندے نے الٹ کرنہ پوچھاکہ میاں کیوں پیتے ہو؟لیکن جس دن سے چھوڑی، جسے دیکھویہی پوچھتاہے کہ خیرتوہے کیوں چھوڑدی؟بال آخرزچ ہوکرمیں نے پھرشروع کردی!بھلایہ بھی کوئی منطق ہے کہ قتل عمدکے محرکات سمجھنے کے لیے آپ مجرموں سے ذرانہیں پوچھتے کہ تم لوگ قتل کیوں کرتے ہو؟اورہرراہ گیرکوروک روک کرپوچھتے ہیں کہ سچ بتاو تم قتل کیوں نہیں کرتے؟“
میں نے سمجھایا”مرزا!اب پیمانے بد ل گئے ۔مثال کے طور پر ڈاڑھی کوہی لو۔“
الجھ پڑے ”ڈاڑھی کاقتل سے کیاتعلق؟“
”بندہ خدا!پوری بات توسنی ہوتی۔میں کہہ رہاتھاکہ اگلے زمانے میں کوئی شخص ڈاڑھی نہیں رکھتاتھاتولوگ پوچھتے تھے کیوں نہیں رکھتے؟لیکن اب کوئی ڈاڑھی رکھتاہے توسب پوچھتے ہیں کیوں رکھتے ہو؟“
ان کادعویٰ کہ نکوٹین ان کے خون میں اس حد تک حل ہوگئی ہے کہ ہرصبح پلنگ کی چادرجھاڑتے ہیں توسینکڑوں کھٹمل گرتے ہیں۔یقیناًیہ نکوٹین ہی کے اثرسے کیفرکردارکوپہنچتے ہوں گے۔ورنہ اول تویہ ناسمجھ جنس اتنی کثیرتعدادمیں متحد ہوکرخودکشی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔دوم، آج تک سوائے انسان کے کسی ذی روح نے اپنے مستقبل سے مایوس ہوکرخودکشی نہیں کی۔البتہ یہ ممکن ہے کہ مرزااپنے خون کوخراب ثابت کرنے میں کچھ مبالغہ کرتے ہوں۔لیکن اتناتوہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ وہ سگرٹ کے دھوئیں کے اس قدرعادی ہوچکے ہیں کہ صاف ہواسے کھانسی اٹھنے لگتی ہے
اوراگردو تین دن تک سگرٹ نہ ملے توگلے میں خراش ہوجاتی ہے۔
ہم نے جب سے ہوش سنبھالا(اورہم نے مرزاسے بہت پہلے ہوش سنبھالا)مرزاکے منہ میں سگرٹ ہی دیکھی۔ایک مرتبہ ہم نے سوال کیاکہ تمھیں یہ شوق کس نے لگایاتوانھوں نے لطیفے داغنے شروع کردیے۔
”اللہ بخشے والدمرحوم کہاکرتے تھے کہ بچوں کوسگرٹ نہیں پیناچاہیے- اس سے آگ لگنے کااندیشہ رہتاہے۔اس کے باوجودہم پیتے
رہے۔عرصے تک گھروالوں کویہی غلط فہمی رہی کہ ہم محض بزرگوں کوچڑانے کے لیے سگرٹ پیتے ہیں۔“
”مگرمیںنے پوچھاتھاکہ یہ چسکاکس نے لگایا؟“
”میں نے سگرٹ پینااپنے بڑے بھائی سے سیکھاجب کہ ان کی عمرچارسال تھی۔“
”اس رفتارسے انھیں اب تک قبرمیں ہوناچاہیے۔“
”وہ وہیں ہیں!“
اس کے باوجودمرزاکسی طرح یہ ماننے کوتیارنہیں کہ وہ عادتاًسگرٹ پیتے ہیں۔یہ مسئلہ جب بھی زیربحث آیا،انھوں نے یہی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ سگرٹ کسی گمبھیرفلسفے کے احترام میں یامحض خلق خداکے فائدے کے لیے پی رہے ہیں-
طوعاًوکرہاً!کوئی تین برس ادھرکی بات ہے کہ شدہ شدہ مجھ تک یہ خبرپہنچی کہ مرزاپھرتائب ہوگئے اورکامل چھتیس گھنٹے سے ایک سگرٹ نہیں پی۔بھاگم بھاگ مبارک باددینے پہنچاتونقشہ ہی اورپایا۔دیکھاکہ تہنیت گزاروں کاایک غول رات سے ان کے ہاں فروکش ہے۔خاطرمدارات ہورہی ہے۔مرزاانھیں سگرٹ پلارہے ہیںاوروہ مرزاکو۔مرزاماچس کی ڈبیاپرہرایک فقرے کے بعددوانگلیوں سے تال دیتے ہوئے کہہ رہے تھے:
”بحمداللہ!(تال)میں جوانہیں کھیلتا(تال)شراب نہیں پیتا(تال)تماش بینی نہیں کرتا(تال)اب سگرٹ بھی نہ پیوں توبڑاکفران نعمت ہوگا“(تین تال)
میں نے کہا”لاحول ولاقوة!پھریہ علت لگالی؟“
مجمع کی طرف دونوں ہاتھ پھیلاکرفرمایا”یارو!تم گواہ رہناکہ اب کی بارفقط اپنی اصلاح کی خاطرتوبہ توڑی ہے۔بات یہ ہے کہ آدمی کوئی چھوٹی موٹی علت پال لے تو بہت سی بڑی علتوں سے بچارہتاہے ۔یہ کمزوریاں(MINOR VICES)انسان کوگناہ کبیرہ سے بازرکھتی ہیں۔اوریادرکھوکہ داناوہی ہے جوذرامحنت کرکے اپنے ذات میں کوئی ایسانمایاں عیب پیداکرلے جواس کے اصل عیبوں کوڈھانپ لے۔“
”اپنے پلے کچھ نہیں پڑرہا۔“
اپنے ستارعیوب کاپیکٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے”یہ پیوگے توخودبخودسمجھ میں آجائے گا۔اس فلسفے میں قطعی کوئی ایچ پیچ نہیں۔تم نے دیکھاہوگا۔اگرکوئی شخص خوش قسمتی سے گنجا،لنگڑایاکاناہے تواس کایہ سطحی عیب لوگوں کواس قدرمتوجہ کرلیتاہے کہ اس عیبوں کی طرف کسی کی نظرنہیں جاتی۔مثال میں جولیس سیزر،تیمورلنگ اوررنجیت سنگھ کوپیش کیاجاسکتاہے۔ویسے کسی سوفیصدی پارسا آدمی سے مل کرکسی کاجی خوش نہیں ہوتاتم جانتے ہوکہ میں آوارہ دادباش نہیں،فاسق وفاجرنہیں،ہرجائی اورپرچگ نہیں۔لیکن آج بھی(یہاں مرزانے بہت سالذیذدھوا ں چھوڑا)-
لیکن آج بھی کسی خوب صورت عورت کے متعلق یہ سنتاہوں کہ کہ وہ پارسابھی ہے تونہ جانے کیوں دل بیٹھ ساجاتاہے۔“
”مرزا!سگرٹ سبھی پیتے ہیںمگرتم اس اندازسے پیتے ہوگویابدچلنی کررہے ہو!“
”کسی اچھے بھلے کام کوعیب سمجھ کرکیاجائے تواس میں لذت پیداہوجاتی ہے۔یورپ اس گرکوابھی نہیں سمجھ پایا۔وہاں شراب نوشی عیب نہیں۔اسی لیے اس میں وہ لطف نہیں آتا۔“
”مگرشراب توواقعی بری چیزہے!البتہ سگرٹ پینابری بات نہیں۔“
”صاحب !چارسگرٹ پہلے یہی بات میں نے ان لوگوں سے کہی تھی۔بہرکیف میں یہ ماننے کے لیے تیارہوں کہ سگرٹ پیناگناہ صغیرہ
ہے۔مگرغصہ مجھے ان سادہ لوح حضرات پر آتاہے جویہ سمجھتے ہیں کہ سگرٹ نہ پیناثواب کاکام ہے۔ماناکہ جھوٹ بولنااورچوری کرنابری بات ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکومت ان کوہربارسچ بولنے اورچوری نہ کرنے پرطلائی تمغہ دے گی۔“
پھرایک زمانہ ایسا آیاکہ مرزاتمام دن لگاتارسگرٹ پیتے مگرماچس صرف صبح جلاتے تھے۔شماریادنہیں۔لیکن ان کااپنابیان ہے آج کل ایک دن میں بیس فٹ سگرٹ پی جاتاہوں اوروہ بھی اس شکل میں کہ سگرٹ عموماًاس وقت تک نہیں پھینکتے ،جب تک انسانی کھال جلنے کی چراندنہ آنے لگے ۔ آخرایک دن مجھے سے ضبط نہ ہوسکااورمیں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہامرزا! آخرکیاٹھانی ہے؟
میری آنکھوں میں دھوا ں چھوڑتے ہوئے بولے”کیاکروں۔یہ موذی نہیں مانتا۔“
مرزااپنے نفس مارہ کو(جس کامحل وقوع ان کے نزدیک گردن کے جنوب مغربی علاقے میں ہے)اکثراسی نام سے یادکرتے،چمکارتے اورللکارتے ہیں۔
میں نے کہا”فرائڈکے نظریہ کے مطابق سگرٹ پیناایک رجعتی اوربچکانہ حرکت ہے۔جنسی لحاظ سے نا آسودہ افرادسگرٹ کے سرے کوغیرشعوری طورپر NIPPLEکانعم البدل سمجھتے ہیں۔“
”مگرفرائڈتوانسانی دماغ کوناف کاہی کاضمیمہ سمجھتاہے!“
”گولی ماروفرائڈکو!بندہ خدا!اپنے آپ پررحم نہیں آتاتوکم ازکم اس چھوٹی سی بیمہ کمپنی پرترس کھاوجس کی پالیسی تو نے لے ہے۔نئی نئی کمپنی ہے۔تمھاری موت کی تاب نہیں لاسکتی۔فوراًدیوالے میں چلی جائے گی۔“
” آدمی اگرقبل ازوقت نہ مرسکے توبیمے کامقصدہی فوت ہوجاتاہے۔“
”مرزا!بات کومذاق میں نہ اڑاو۔اپنی صحت کادیکھو۔پڑھے لکھے آدمی ہو۔اخباراوررسالے کی برائی میں رنگے پڑے ہیں۔“
”میں خودسگرٹ اورسرطان کے بارے میں اتناکچھ پڑھ چکاہوں کہ اب مطالعہ سے نفرت ہوگئی!“انھوں نے چٹکلہ دہرایا۔
اس مد میں بچت کی جومختلف شکلیں ہوسکتی ہیں۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مرزاسارے دن مانگ تانگ کرسگرٹ پیتے ہیں۔(ماچس وہ اصولاًاپنی ہی استعمال کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ماچس مانگنابڑی بے عزتی کی بات ہے۔ آڑے وقت میں رسیدلکھ کرکسی سے سودوسوروپے لینے میں سبکی نہیں ہوتی۔لیکن رسیدکاٹکٹ بھی اسی سے مانگناشان قراض داری کے خلاف ہے)دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایسے مارکہ کہ سگرٹوں پراتر آتے ہیں جن کووہ پیکٹ کی بجائے سگرٹ کیس میں رکھنااورالٹی طرف سے جلاناضروری خیال کرتے ہیں۔
لیکن نودس ماہ پیشترجب موذی اس طرح بھی بازنہ آیاتو مرزا نے تیسرااور آخری حربہ استعمال کیا۔یعنی سگارپیناشروع کردیاجو ان کے ہاتھ میں چھڑی اورمنہ میں نفیری معلوم ہوتاتھا۔پینے،بلکہ نہ پینے،کااندازیہ تھاکہ ڈرتے ڈرتے دوتین اوپری کش لے کراحتیاط سے بجھادیتے اورایک ڈیڑھ گھنٹے بعداوسان درست ہونے پرپھرجلالیتے تھے۔ان کاعقیدہ ہے کہ اس طریقہ استعمال سے طلب بھی مٹ جاتی ہے اورسگارکی عمربڑھ جاتی ہے سوالگ -(یہاں اتنااورعرض کردوں تونامناسب نہ ہوگاکہ انھوں نے اپنی جوانی کوبھی اسی طرح سینت سینت کررکھناچاہا،اس لیے قبل ازوقت بوڑھے ہوگئے)۔چنانچہ ایک ہی
سگارکودن بھر” آف “اور” آن“کرتے رہتے ۔پھرچراغ جلے اسی کوٹیکتے ہوئے کافی ہاوس پہنچ جاتے۔خلق خدان کوغائبانہ کیاکہتی ہے،اس پرانھوں نے کبھی غورنہیں کیا۔لیکن ایک دن دھوا ں منہ کامنہ میں رہ گیا،جب انھیں اچانک یہ پتہ چلاکہ ان کاجلتابجھتاسگاراب ایک طبقاتی علاقت (سمبل)بن چکاہے۔ہوایہ کہ کافی ہاوس کے ایک نیم تاریک گوشے میں آغاعبدالعلیم جام منہ لٹکابیٹھے تھے ۔مرزاکہیں پوچھ بیٹھے کہ آغا آج بجھے بجھے سے کیوںہو؟ آغانے اپنی خیریت اوردیگراحوال سے یوں آگاہی بخشی:
شام ہی سے بجھاسارہتاہے دل ہواہے سگارمفلس کا
ایک ایسی ہی اداس شام کی بات ہے ۔مرزاکافی ہاوس میں موذی سے بڑی بے جگری سے لڑرہے تھے اورسگارکے یوں کش لگارہے تھے گویاکسی راکھش کادم نکال رہے ہیں۔میں نے دل بڑھانے کوکہا”تم نے بہت اچھاکہ کہ سگرٹ کاخرچ کم دیا۔روپے کی قوت خرید دن بدن گھٹ رہی ہے۔دوراندیشی کاتقاضاہے کہ خرچ کم کرواوربچاوزیادہ۔“
سگارکوسپیرے کوپونگی کی ماننددھونکتے ہوئے بولے”میں بھی یہی سوچ رہاتھاکہ آج کل ایک آنے میں ایک سالم سگرٹ مل جاتے
ہے۔دس سال بعد آدھی ملے گی!“
میں نے بات آگے بڑھائی۔لیکن ہم یہی ایک آنہ آج پس انداز کرلیں تودس سال بعدمعہ سوددو آنے ہوجائے گے۔“
”اوراس دونی سے ہم ایک سالم سگرٹ خریدسکیں گے جو آج صرف ایک آنے میں مل جاتی ہے!“
جملہ مکمل کرتے ہی مرزانے اپناجلتاہواعصازمین پردے مارا۔چندلمحوں بعدجب دھوئیں کے بادل چھٹے تومرزاکے اشارے پرایک بیراپلیٹ میں سگرٹ لیے نمودارہوااورمرزاایک آنے میں دو آنے کامزہ لوٹنے لگے۔
پندارکاصنم کدہ ویراں کیے ابھی تین ہفتے بھی نہ گزرے ہوں گے کہ کسی نے مرزاکوپٹی پڑھادی کہ سگرٹ ترک کرناچاہتے ہوتوحقہ شروع کردو۔ان کے لیے یہ ہومیوپیتھک مشورہ کچھ ایسانیابھی نہ تھا۔کیوں کہ ہومیوپیتھی کابنیادی اصول یہ ہے کہ چھوٹامرض دورکرنے کے لیے کوئی بڑامرض کھڑاکردو۔چنانچہ مریض نزلے کی شکایت کرے تودوااسے نمونیہ کے اسباب پیداکردو۔پھرمریض نزلے کی شکایت نہیں کرے گا۔ہومیوپیتھی کی کرے گا!
بہرحال ،مرزانے حقہ شروع کردیا۔اوروہ بھی اس اہتمام سے کہ گھنٹوں پہلے پیتل سے منڈھی ہوئی چلم اورنقشین فرشی،لیمواورکپڑے سے اتنی رگڑی جاتی کہ جگرجگرکرنے لگتی۔نیچہ عرق گلاب سے ترکیاجاتا۔نے پرموتیاکے ہارلپیٹے جاتے۔مہنال کیوڑے میں بسائی جاتی۔ایک حقہ بھی قضاہوجاتاتوہفتوں اس کاافسوس کرتے رہتے ۔بندھاہوامعمول تھا کہ پینے سے پہلے چارپانچ منٹ تک قوام کی تعریف کرتے اورپینے کے بعدگھنٹوں ”ڈیٹول“سے کلیاں کرتے۔اکثردیکھاکہ حقہ پیتے جاتے اورکھانستے جاتے اورکھانسی کے مختصروقفے میں سگرٹ کی برائی کرتے جاتے۔فرماتے تھے کہ ”کسی دانانے سگرٹ کی کیاخوب تعریف کی ہے-ایک ایساسلگنے والابدبودارمادہ جس کے ایک سرے پر آگ اوردوسرے پراحمق ہوتاہے۔لیکن مشرقی پیچوان میں اس امرکاخاص لحاظ رکھاجاتاہے کہ کم سے کم جگہ گھیرکرتمباکوکوزیادہ سے زیادہ فاصلے پرکردیاجائے۔“
میں نے کہا”یہ سب درست!مگراس کاپینااوراورپلانادردسریہ بھی توہےاس سے بہتر توپائپ رہے گا۔تندبھی ہے اورسستاکاسستا۔“
چلم کے انگاروں کودہکاتے ہوئے بولے”بھائی!اس کوبھی آزماچکاہوں تمھیں شایدمعلوم نہیں کہ پائپ میں تمباکوسے زیادہ ماچس کاخرچ بیٹھتاہے ورنہ یہ بات ہرگزنہ کہتے۔دوماہ قبل ایک انگلش پائپ خریدلایاتھا۔پہلے ہی روزنہارمنہ ایک گھونٹ لیاتوپیٹ میں ایک غیبی گھونساسالگا۔ آنکھ میچ کے دوچارگھونٹ اورلیے توباقاعدہ باکسنگ ہونے لگی۔اب اس پائپ سے بچیاں اپنی گڑیوں کی شادی میں شہنائی بجاتی ہیں۔“

مشتاق احمد یوسفی​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے