چھڑکتا ہے صبوحی، گُل بدن ایجاد کرتا ہے

چھڑکتا ہے صبوحی، گُل بدن ایجاد کرتا ہے
فقیر اِس تَخلیے سے انجمن ایجاد کرتا ہے
ملاتا ہے لہو کی موج خاشاکِ معانی میں
پھر اس خُوش رنگ مٹی سے سخن ایجاد کرتا ہے
بناتا ہے ردائے نغمگی تارِ تقدس سے
ستارے ٹانکتا ہے اور کرن ایجاد کرتا ہے
نہیں مِنّت کشِ جیب و گریباں قامتِ وحشت
غبارِ دشت اس کا پیرہن ایجاد کرتا ہے
کبھی اِن تشنگانِ عصر کو لڑتے ہوئے دیکھو
کمالِ عشق کیسے تیغ زن ایجاد کرتا ہے
قیامِ خستگانِ غم بہ فیضِ زخم آرائی
بہ نوکِ خار سجدے کا چلن ایجاد کرتا ہے
یہ مقتل ہے یہاں پر خون کی بارش کے موسم میں
شرابِ صبر اک تشنہ دہن ایجاد کرتا ہے
نہ جاؤ خشکئ مشکِ دریدہ پر کہ یہ سقّہ
نیا کوزہ سرِ نہرِ لبن ایجاد کرتا ہے
عارف امام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے