چہل پہل ہے نہ تابندگی ہے گلیوں میں

چہل پہل ہے نہ تابندگی ہے گلیوں میں
میں ڈھونڈتا ہوں کہاں زندگی ہے گلیوں میں
کہ بام و در سے یہاں وحشتیں ٹپکتی ہیں
عجب طرح کی سراسیمگی ہے گلیوں میں
سمٹ گئی ہے گھروں تک ہی رونقِ دنیا
خزاں مزاج سی پژمردگی ہے گلیوں میں
بہت دنوں سے مرا اس سے دوستانہ ہے
یہ میرے ساتھ جو دیوانگی ہے گلیوں میں
ابھی ابھی تو یہاں زندگی مہکتی تھی
اور اب تو موت سی افسردگی ہے گلیوں میں
دلشاد احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے